آئی جی اور پنجاب حکومت میں سی سی پی او لاہور کی تعیناتی پر اختلاف

Siasi Jasoos

Chief Minister (5k+ posts)

لاہور: سٹی چیف پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ اور آئی جی شعیب دستگیر کے درمیان تنازع کے بعد آئی جی پنجاب کی تبدیلی ایک بار پھر غور شروع کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب مشاورت کے بغیر سی سی پی او لاہور کی تعیناتی پر ڈٹ گئے، آئی جی پنجاب نے جمعہ کو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں تعیناتی پر اعتراض کیاتھا۔

وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کو وزیراعلیٰ سے ملاقات کی ہدایت کی تھی، ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ عثمان بزدار مصالحت کی کوشش کرتے رہے۔ آئی جی پنجاب وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد اپنے دفتر بھی نہیں آئے۔

آئی جی پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ بغیر مشاورت سی سی پی او لاہور کی تعیناتی قبول نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے آئی جی پنجاب کے ناموں کے لیے محسن بٹ، کلیم امام، اے ڈی خواجہ اور عارف نواز کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔

 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)

یہ جانگلی نسل کا وزیر اعلیٰ اگر موجودہ آئی جی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو ١٠٠ فیصد برائی اس کی اپنی ذات میں ہے
آئی جی شعیب دستگیر صاحب ایک نہایت شریف النفس، پڑھے لکھے، مذہبی رجحان رکھنے والے، قانون کی عملداری کے امین اور شعیب سڈل کی طرح اپ رائٹ پولیس آفیسر ہیں
 

Shuja Baba

Councller (250+ posts)
یہ جانگلی نسل کا وزیر اعلیٰ اگر موجودہ آئی جی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو ١٠٠ فیصد برائی اس کی اپنی ذات میں ہے
آئی جی شعیب دستگیر صاحب ایک نہایت شریف النفس، پڑھے لکھے،
مذہبی رجحان رکھنے والے، قانون کی عملداری کے امین اور شعیب سڈل کی طرح اپ رائٹ پولیس آفیسر ہیں
ہممم . . . . . ۔
اسکا مطلب یہ قادیانی ہے
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں