اردوگان کا سخت ردعمل،امریکہ سمیت10یورپی ممالک نے معذرت کر لی

12turkeyerdousadiplo.jpg

امریکہ سمیت 10 یورپی ممالک کے سفیروں نے ترکی کے داخلی معاملات پر بیان جاری کرنے پر معذرت کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی میں تعینات 10 ملکوں کے سفیروں نے 'عثمان کاوالا کیس' کو جلد از جلد نمٹانے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد ترک صدر طیب رجب اردوگان کی جانب سے ملک کے داخلی معاملات پر بیان جاری کرنے پر سفیروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔

پیر کو امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے سفارت خانوں کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ سفارتی تعلقات پر ویانا کنونشن کے آرٹیکل 41 کی پاسداری کرتے ہیں جس کے تحت سفیروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں جن میں وہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔


سفیروں کا کہنا ہے کہ وہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 41 پر عمل درآمد کرتے ہوئے آئندہ ترکی کے داخلی معاملات پر بیان بازی نہیں کریں گے۔ ان ممالک میں امریکہ، کینیڈا، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور فن لینڈ شامل ہیں۔ صدارتی ذرائع کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے سفارتخانوں کے اعلانات کا خیر مقدم کیا۔


سفارتخانوں کی جانب سے یہ بیان اس وقت جاری کیا گیا جب ترک صدر نے 10 ملکوں کے سفیروں کو 'پرسونا نان گریٹا' قرار دینے کا اعلان کیا تھا، ان سفیروں نے ترکی کے سماجی رہنما عثمان کاوالا کی رہائی کی اپیل کی تھی۔


" پرسونا نان گریٹا" ایک سفارتی اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی سفارتی عملے کو اپنے ملک سے نکالنے سے قبل اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوگان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں نے ہمارے وزیر خارجہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان 10 ملکوں کے سفارت کاروں کو جلد از جلد ناپسندیدہ شخصیات قرار دیں۔

واضح رہے کہ عثمان کاوالا ترکی کے ایک کاروباری شخصیت اور سماجی رہنما ہیں جو 2017 سے جیل میں ہیں ،ان پر 2013 کے غزی پارک کے مظاہروں کی مالی معاونت کرنے اور 2016 میں آرمی کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کا حصہ ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
 
Advertisement
Sponsored Link