افغانستان کے معروف عالم دین رحیم اللہ حقانی خودکش حملے میں جاں بحق

haqqani11.jpg

کابل: ایک ٹانگ سے محروم شخص کا دھماکہ خیز مواد سے خودکش حملہ، لڑکیوں کی تعلیم کے بڑے حامی رحیم اللہ حقانی جاں بحق

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک مدرسے میں خودکش ایک ٹانگ سے محروم شخص کا پلاسٹک کی لگی مصنوعی ٹانگ میں چھپے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے خودکش حملہ، لڑکیوں کی تعلیم کے بڑے حامی، طالبان کے نامور عالم دین اور ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک مدرسے میں خودکش ایک ٹانگ سے محروم شخص کا پلاسٹک کی لگی مصنوعی ٹانگ میں چھپے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے خودکش حملہ، لڑکیوں کی تعلیم کے بڑے حامی، طالبان کے نامور عالم دین اور ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

طالبان افغان حکام کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی حتمی تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں جبکہ کسی بھی دہشت گرد گروپ نے ابھی تک خودکش دھماکے کی ذمہ داری نہیں لی۔

شیخ رحیم اللہ حقانی کا تعلق افغانستان کے حقانی نیٹ ورک سے نہیں تھا، انہوں نے ماضی میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں فتوی بھی دیا تھا۔وہ دہشت گرد تنظیم داعش کے ناقدین اور طالبان حکومت کے حامیوں میں سے تھے۔ طالبان کی جانب سے گزشتہ برس اگست میں اقتدار حاصل کیے جانے کے بعد سے اب تک متعدد اہم شخصیات بم حملوں میں ماری جاچکی ہیں۔

افغانی صحافی عبدالحق عمیری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خودکش دھماکے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ طالبان کے سینئر رہنما شیخ رحیم اللہ حقانی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنے مدرسے میں خودکش حملے میں مارے گئے ہیں۔

ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے افغانی صحافی عبدالحق عمیری نے ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ نائب ترجمان طالبان حکومت بلال کریمی نے کہا ہے کہ شیخ رحیم اللہ حقانی اس خودکش حملے میں مارے گئے ہیں جسے انہوں نے ایک "لاپرواہ اور بے رحم دشمن" کا حملہ قرار دیا۔ نائب ترجمان طالبان حکومت نے کہا کہ شیخ رحیم اللہ حقانی کی وفات ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہے، ہم تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

ماضی میں بھی ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی پر داعش کی جانب سے حملے کیے جا چکے ہیں جبکہ ان پر دو قاتلانہ حملے پاکستان میں ہوئے تھے۔ آخری حملہ 2020 میں پاکستان کے شہر پشاور کے مدرسے میں ہوا تھا جس میں 7 لوگ جاں بحق ہوئے تھے اور ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ طالبان کے نامور عالم دین اور ڈائریکٹر افغان مدارس رحیم اللہ حقانی کی وفات کو طالبان حکام نے افغانستان کیلئے بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد مصنوعی ٹانگ میں چھپا رکھا تھا اور وہ پہلے بھی کسی حملے میں ایک ٹانگ سے محروم ہوا ہو گا۔ خودکش دھماکے کے وقت مدرسے میں تدریسی عمل جاری تھا۔

خیال رہے کہ 6 اگست بروز ہفتہ کو پانچ روز قبل بھی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بم دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔دھماکا کابل کے مغربی حصے میں مصروف کاروباری مرکز میں ہوا جہاں اہل تشیع محرم الحرام کے جلوس نکال رہے تھے جبکہ جمعہ المبارک کو کابل میں ایک اوربم دھماکے میں 8افراد ہلاک اور 18 افراد زخمی ہوئے تھے اور داعش نے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
 

atensari

President (40k+ posts)
جمہوری سامراج پاکستان اور افغانستان دونوں میں متحرک ہو گیا
 
Sponsored Link