انگلینڈ کی پاکستان، بھارت ممکنہ ٹیسٹ سیریز کا میزبان بننے کی پیشکش

17ecbofferpaksind.jpg

پاکستان اور بھارت کے مابین ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ نے غیرجانبدار میزبان بننے کی پیش کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے اپنے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ سیاسی تنائو کی وجہ سے دونوں ملکوں کی ٹیمیں 2007ء سے ٹیسٹ سیریز میں مدمقابل نہیں آئیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے دی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ نے غیرجانبدار میزبان بننے کی پیش کر دی ہے۔

ڈپٹی چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) مارٹن ڈارلو نے پاک، بھارت ٹی ٹوینٹی سیریز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے میزبانی کرنے کی بات کرتے ہوئے ٹیسٹ سیریز کے لیے ممکنہ مقامات کے حوالے سے بھی گفتگو کی تھی۔



ڈپٹی چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) مارٹن ڈارلو کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں پاکستان اور بھارت کے کرکٹ شائق بڑی تعداد میں موجود ہیں اس لیے ہماری خواہش ہے کہ ممکنہ تین ٹیسٹ میچز کی سیریز انگلینڈ میں کھیلی جائے، روایتی حریفوں کو دوبارہ مدمقابل دیکھنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ گرائونڈز کا رخ کریں گے۔

پاکستان اور بھارت نے ایشیا کپ اور آئی سی سی ورلڈکپ کے ایونٹس باقاعدگی سے کھیلے ہیں، پاکستان کے خلاف بھارت کیلئے بھی غیرجانبدار میدان پر کھیلنا سیاسی طور پر قابل قبول ہو گا کیونکہ انگلینڈ اور پاکستان کی ٹیمیں پہلے بھی انگلینڈ میں ٹیسٹ میچز کھیل چکی ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی رپورٹس ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے علاوہ بورڈ آف کنٹرول فور کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) سے بھی اس حوالے سے بات چیت کی گئی ہے تاہم یہ ایک غیر رسمی بات چیت تھی اور ای سی بی کی پیشکش اس موقع پر قبول نہیں کی گئی جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی پیشکش پر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ غیرجانبدار میدان پر کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا موقف ہے کہ پاک بھارت سیریز کی میزبانی پاکستان کرے کیونکہ میزبانی کی باری بھی پاکستان کی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کھیلنے سے بھی روکا جا چکا ہے جبکہ فروری میں ہونے والی جنوبی افریقہ ٹی ٹوئنٹی لیگ میں بھی پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی نہیں کھیل رہا ہے جس کی بڑی وجہ ٹیموں کے تمام مالکان کا بھارتی ہونا بتایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے بعد سے قومی کرکٹ لیگز میں نجی سرمایہ کاری کے اثر و رسوخ پر سوالات اٹھنے شروع ہو چکے ہیں۔
 

atensari

President (40k+ posts)
دفع کرو، ہندو کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنی کارکردگی پر توجہ رکھنی چاہیے۔
 
Sponsored Link