اپنی غلطی نہ ماننے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا: آرمی چیف جنرل باجوہ

bajwa-army-cheif-ckt.jpg


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ جو لیڈر اپنی غلطی نہیں مان سکتا وہ لیڈر نہیں بن سکتا،پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کی جانب سے ورلڈ کپ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں کھلاڑیوں کے ساتھ صدر مملکت اور آرمی چیف نے بھی شرکت کی،رمیزراجہ نے صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

تقریب میں آرمی چیف نے صحافیوں اور قومی کرکٹرز سے ملاقات بھی ملاقات کی اور غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹرز بہت اچھا کھیلتے ہیں، کھلاڑی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلٸے محنت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی 20کرکٹ فارمیٹ میں شاداب خان بہترین کرکٹر ہے، لیڈر شپ کا کام لڑنا ہوتا ہے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، شاہین آفریدی زخمی نہ ہوتا تو فاٸنل کارزلٹ مختلف ہوتا، ورلڈ کپ میں ہم کلوز مارجن سے ہارے جبکہ بھارت ورلڈ کپ میں 10وکٹوں سے ہارا ہے، ہماری ٹیم اب دوبارہ کھڑی ہوگٸی ہے۔

آرمی چیف نے قومی کرکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بابر اعظم اور شاہین آفریدی سے بھی گفتگو کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے شاہین آفریدی سے انکی انجری سے متعلق دریافت کیا۔

صدر مملکت عارف علوی کا قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان میرے ہیروز ہے، کرکٹرز اپنی کارکردگی سے قوم کو لطف پہنچاتے ہیں، پورا پاکستان کرکٹ ایکسپرٹ بن چکا ہے۔

صدر نے کہا قومی ٹیم نے ورلڈ کپ ہارنے کے باوجود بہترین کرکٹ کھیلی، کرکٹ ٹیم خراب پرفارمنس کے بعد ایک بہترین پرفارمنس دکھاتے ہیں، یہ کھلاڑی قوم میں خوشیاں بکھرتے ہیں۔

اس سے قبل یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاک فوج کے خلاف نامناسب بیانیہ بنایا گیا جس سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے،سول ملٹری قیادت کو نامناسب القاب دیئے،صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ فوجی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاست میں فوجی مداخلت غیر آئینی اورغیرملکی سازش پر خاموشی گناہ ہے،فوجی قیادت کبھی ملکی مفادکےخلاف نہیں جاسکتی،حکومتوں کو سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کہنے کے رویئے درست نہیں۔
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
bajwa-army-cheif-ckt.jpg


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ جو لیڈر اپنی غلطی نہیں مان سکتا وہ لیڈر نہیں بن سکتا،پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کی جانب سے ورلڈ کپ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں کھلاڑیوں کے ساتھ صدر مملکت اور آرمی چیف نے بھی شرکت کی،رمیزراجہ نے صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

تقریب میں آرمی چیف نے صحافیوں اور قومی کرکٹرز سے ملاقات بھی ملاقات کی اور غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹرز بہت اچھا کھیلتے ہیں، کھلاڑی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلٸے محنت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی 20کرکٹ فارمیٹ میں شاداب خان بہترین کرکٹر ہے، لیڈر شپ کا کام لڑنا ہوتا ہے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، شاہین آفریدی زخمی نہ ہوتا تو فاٸنل کارزلٹ مختلف ہوتا، ورلڈ کپ میں ہم کلوز مارجن سے ہارے جبکہ بھارت ورلڈ کپ میں 10وکٹوں سے ہارا ہے، ہماری ٹیم اب دوبارہ کھڑی ہوگٸی ہے۔

آرمی چیف نے قومی کرکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بابر اعظم اور شاہین آفریدی سے بھی گفتگو کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے شاہین آفریدی سے انکی انجری سے متعلق دریافت کیا۔

صدر مملکت عارف علوی کا قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان میرے ہیروز ہے، کرکٹرز اپنی کارکردگی سے قوم کو لطف پہنچاتے ہیں، پورا پاکستان کرکٹ ایکسپرٹ بن چکا ہے۔

صدر نے کہا قومی ٹیم نے ورلڈ کپ ہارنے کے باوجود بہترین کرکٹ کھیلی، کرکٹ ٹیم خراب پرفارمنس کے بعد ایک بہترین پرفارمنس دکھاتے ہیں، یہ کھلاڑی قوم میں خوشیاں بکھرتے ہیں۔

اس سے قبل یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاک فوج کے خلاف نامناسب بیانیہ بنایا گیا جس سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے،سول ملٹری قیادت کو نامناسب القاب دیئے،صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ فوجی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاست میں فوجی مداخلت غیر آئینی اورغیرملکی سازش پر خاموشی گناہ ہے،فوجی قیادت کبھی ملکی مفادکےخلاف نہیں جاسکتی،حکومتوں کو سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کہنے کے رویئے درست نہیں۔
Agreed..Ap ne Bhutto aur Mujeeb ko zimah dar qarar dia saqot e dhakha ka.Ab wo duno mar chukay hain.
Is lia confession mumkin nahi..IK wahid leader ha Jo apni mistakes confess karta ha(Is wajah se U turn ka taana bhi sunta ha)..
Dear Haji Sahib..Ap ne RCO mein Jo kachain mari..kia ap public mein accept karain gein?Jab ke ap leader bhi nahi ho..simple aik adaray ke chief ho..
 

انقلاب

Minister (2k+ posts)
bajwa-army-cheif-ckt.jpg


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ جو لیڈر اپنی غلطی نہیں مان سکتا وہ لیڈر نہیں بن سکتا،پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کی جانب سے ورلڈ کپ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں کھلاڑیوں کے ساتھ صدر مملکت اور آرمی چیف نے بھی شرکت کی،رمیزراجہ نے صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

تقریب میں آرمی چیف نے صحافیوں اور قومی کرکٹرز سے ملاقات بھی ملاقات کی اور غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹرز بہت اچھا کھیلتے ہیں، کھلاڑی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلٸے محنت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی 20کرکٹ فارمیٹ میں شاداب خان بہترین کرکٹر ہے، لیڈر شپ کا کام لڑنا ہوتا ہے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، شاہین آفریدی زخمی نہ ہوتا تو فاٸنل کارزلٹ مختلف ہوتا، ورلڈ کپ میں ہم کلوز مارجن سے ہارے جبکہ بھارت ورلڈ کپ میں 10وکٹوں سے ہارا ہے، ہماری ٹیم اب دوبارہ کھڑی ہوگٸی ہے۔

آرمی چیف نے قومی کرکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بابر اعظم اور شاہین آفریدی سے بھی گفتگو کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے شاہین آفریدی سے انکی انجری سے متعلق دریافت کیا۔

صدر مملکت عارف علوی کا قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان میرے ہیروز ہے، کرکٹرز اپنی کارکردگی سے قوم کو لطف پہنچاتے ہیں، پورا پاکستان کرکٹ ایکسپرٹ بن چکا ہے۔

صدر نے کہا قومی ٹیم نے ورلڈ کپ ہارنے کے باوجود بہترین کرکٹ کھیلی، کرکٹ ٹیم خراب پرفارمنس کے بعد ایک بہترین پرفارمنس دکھاتے ہیں، یہ کھلاڑی قوم میں خوشیاں بکھرتے ہیں۔

اس سے قبل یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاک فوج کے خلاف نامناسب بیانیہ بنایا گیا جس سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے،سول ملٹری قیادت کو نامناسب القاب دیئے،صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ فوجی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاست میں فوجی مداخلت غیر آئینی اورغیرملکی سازش پر خاموشی گناہ ہے،فوجی قیادت کبھی ملکی مفادکےخلاف نہیں جاسکتی،حکومتوں کو سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کہنے کے رویئے درست نہیں۔

غدار
 

Aristo

Senator (1k+ posts)
bajwa-army-cheif-ckt.jpg


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ جو لیڈر اپنی غلطی نہیں مان سکتا وہ لیڈر نہیں بن سکتا،پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کی جانب سے ورلڈ کپ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں کھلاڑیوں کے ساتھ صدر مملکت اور آرمی چیف نے بھی شرکت کی،رمیزراجہ نے صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

تقریب میں آرمی چیف نے صحافیوں اور قومی کرکٹرز سے ملاقات بھی ملاقات کی اور غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹرز بہت اچھا کھیلتے ہیں، کھلاڑی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلٸے محنت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی 20کرکٹ فارمیٹ میں شاداب خان بہترین کرکٹر ہے، لیڈر شپ کا کام لڑنا ہوتا ہے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، شاہین آفریدی زخمی نہ ہوتا تو فاٸنل کارزلٹ مختلف ہوتا، ورلڈ کپ میں ہم کلوز مارجن سے ہارے جبکہ بھارت ورلڈ کپ میں 10وکٹوں سے ہارا ہے، ہماری ٹیم اب دوبارہ کھڑی ہوگٸی ہے۔

آرمی چیف نے قومی کرکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بابر اعظم اور شاہین آفریدی سے بھی گفتگو کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے شاہین آفریدی سے انکی انجری سے متعلق دریافت کیا۔

صدر مملکت عارف علوی کا قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان میرے ہیروز ہے، کرکٹرز اپنی کارکردگی سے قوم کو لطف پہنچاتے ہیں، پورا پاکستان کرکٹ ایکسپرٹ بن چکا ہے۔

صدر نے کہا قومی ٹیم نے ورلڈ کپ ہارنے کے باوجود بہترین کرکٹ کھیلی، کرکٹ ٹیم خراب پرفارمنس کے بعد ایک بہترین پرفارمنس دکھاتے ہیں، یہ کھلاڑی قوم میں خوشیاں بکھرتے ہیں۔

اس سے قبل یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاک فوج کے خلاف نامناسب بیانیہ بنایا گیا جس سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے،سول ملٹری قیادت کو نامناسب القاب دیئے،صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ فوجی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاست میں فوجی مداخلت غیر آئینی اورغیرملکی سازش پر خاموشی گناہ ہے،فوجی قیادت کبھی ملکی مفادکےخلاف نہیں جاسکتی،حکومتوں کو سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کہنے کے رویئے درست نہیں۔
Wo leader ban sakta hai yan nahi ban sakta yrh waqat bataiye ga aour osay dunia yaad b rakhay ge par ap ek achay chief bilkul na ban paiye yeh pori awam nay dekh liya
 

tahirmajid

Minister (2k+ posts)
Ab ye ghaib ho jay ga, or kabhi nazer bhi nahi aaey, Army leader paida nahi karti Army professional soldier paida karti hay, leader bana banaya hota hay
 

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
کاش کرنل جاوید اقبال اپنی غلطی مان کر اس کو ابارشن کروا دیتا تو پاکستان کو اربوں ڈالرز کی لوٹ مار حرام خوری منشیات فروشوں اور قاتلوں کو دوبارہ اس قوم پر مسلط کرنے کی حرام زدگی نطفی حرامی سے پالا نا پڑتا
 

merapakistanzindabad

MPA (400+ posts)
bajwa-army-cheif-ckt.jpg


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ جو لیڈر اپنی غلطی نہیں مان سکتا وہ لیڈر نہیں بن سکتا،پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کی جانب سے ورلڈ کپ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں کھلاڑیوں کے ساتھ صدر مملکت اور آرمی چیف نے بھی شرکت کی،رمیزراجہ نے صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

تقریب میں آرمی چیف نے صحافیوں اور قومی کرکٹرز سے ملاقات بھی ملاقات کی اور غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹرز بہت اچھا کھیلتے ہیں، کھلاڑی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلٸے محنت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی 20کرکٹ فارمیٹ میں شاداب خان بہترین کرکٹر ہے، لیڈر شپ کا کام لڑنا ہوتا ہے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، شاہین آفریدی زخمی نہ ہوتا تو فاٸنل کارزلٹ مختلف ہوتا، ورلڈ کپ میں ہم کلوز مارجن سے ہارے جبکہ بھارت ورلڈ کپ میں 10وکٹوں سے ہارا ہے، ہماری ٹیم اب دوبارہ کھڑی ہوگٸی ہے۔

آرمی چیف نے قومی کرکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بابر اعظم اور شاہین آفریدی سے بھی گفتگو کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے شاہین آفریدی سے انکی انجری سے متعلق دریافت کیا۔

صدر مملکت عارف علوی کا قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان میرے ہیروز ہے، کرکٹرز اپنی کارکردگی سے قوم کو لطف پہنچاتے ہیں، پورا پاکستان کرکٹ ایکسپرٹ بن چکا ہے۔

صدر نے کہا قومی ٹیم نے ورلڈ کپ ہارنے کے باوجود بہترین کرکٹ کھیلی، کرکٹ ٹیم خراب پرفارمنس کے بعد ایک بہترین پرفارمنس دکھاتے ہیں، یہ کھلاڑی قوم میں خوشیاں بکھرتے ہیں۔

اس سے قبل یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاک فوج کے خلاف نامناسب بیانیہ بنایا گیا جس سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے،سول ملٹری قیادت کو نامناسب القاب دیئے،صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ فوجی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاست میں فوجی مداخلت غیر آئینی اورغیرملکی سازش پر خاموشی گناہ ہے،فوجی قیادت کبھی ملکی مفادکےخلاف نہیں جاسکتی،حکومتوں کو سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کہنے کے رویئے درست نہیں۔
Dafa ho mir jaffer. Qoum ko acha tohfa dia hae nawaz sharif haramkhor oor zardari haramkhor ko hum pe mosalat karke....jab tere jese generals ho pak army mein to Pakistan ko dushman ki zaroorat nahi!!!!
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
bajwa-army-cheif-ckt.jpg


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ جو لیڈر اپنی غلطی نہیں مان سکتا وہ لیڈر نہیں بن سکتا،پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کی جانب سے ورلڈ کپ کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں کھلاڑیوں کے ساتھ صدر مملکت اور آرمی چیف نے بھی شرکت کی،رمیزراجہ نے صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

تقریب میں آرمی چیف نے صحافیوں اور قومی کرکٹرز سے ملاقات بھی ملاقات کی اور غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹرز بہت اچھا کھیلتے ہیں، کھلاڑی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلٸے محنت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی 20کرکٹ فارمیٹ میں شاداب خان بہترین کرکٹر ہے، لیڈر شپ کا کام لڑنا ہوتا ہے، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، شاہین آفریدی زخمی نہ ہوتا تو فاٸنل کارزلٹ مختلف ہوتا، ورلڈ کپ میں ہم کلوز مارجن سے ہارے جبکہ بھارت ورلڈ کپ میں 10وکٹوں سے ہارا ہے، ہماری ٹیم اب دوبارہ کھڑی ہوگٸی ہے۔

آرمی چیف نے قومی کرکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بابر اعظم اور شاہین آفریدی سے بھی گفتگو کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے شاہین آفریدی سے انکی انجری سے متعلق دریافت کیا۔

صدر مملکت عارف علوی کا قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان میرے ہیروز ہے، کرکٹرز اپنی کارکردگی سے قوم کو لطف پہنچاتے ہیں، پورا پاکستان کرکٹ ایکسپرٹ بن چکا ہے۔

صدر نے کہا قومی ٹیم نے ورلڈ کپ ہارنے کے باوجود بہترین کرکٹ کھیلی، کرکٹ ٹیم خراب پرفارمنس کے بعد ایک بہترین پرفارمنس دکھاتے ہیں، یہ کھلاڑی قوم میں خوشیاں بکھرتے ہیں۔

اس سے قبل یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاک فوج کے خلاف نامناسب بیانیہ بنایا گیا جس سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے،سول ملٹری قیادت کو نامناسب القاب دیئے،صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ فوجی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

آرمی چیف نے کہا تھا کہ سیاست میں فوجی مداخلت غیر آئینی اورغیرملکی سازش پر خاموشی گناہ ہے،فوجی قیادت کبھی ملکی مفادکےخلاف نہیں جاسکتی،حکومتوں کو سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کہنے کے رویئے درست نہیں۔

Unfortunately the nation is extremely disappointed that they can be conquered with just a phone call(it happened after 9/11 and happened again before the illegal regime change). The sense of freedom, security, pride and dignity of the masses is shattered now.
 
Sponsored Link