اکنامک ہٹ مین اسحاق ڈار کیسے معیشت کھودی

Dastgir khan19

Senator (1k+ posts)
٢٠١٣ میں جب نواز شریف کو حکومت ملی تو اس وقت ملک میں کوئی انتظامی بحران نہیں تھا دہہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں تھی اور لوڈ شیڈنگ کے باوجود ملکی معاشی ترقی کی رفتار ٤ فیصد تھی . اب حکومت وقت کے پاس ایک ہی چیلنج بچا تھا وہ تھا ملکی معیشت . گو کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اس وقت پچاس ارب ڈالر سے کم تھا لیکن اس کے باوجود اس وقت ایسا فریم ورک بنانے کی ضرورت تھی جس سے قرضہ مزید کم ہو جاتا لیکن اسحاق ڈار کی پالیسیوں سے ملکی قرضہ ڈبل ہو گیا اور ناقابل برداشت ہو گیا جس کی وجہ سے ملکی معیشت بیٹھ گئی .
نون لیگ کو جب اقتدار ملا تب ملکی صنعتوں کو کم سے کم ریلیف کی ضرورت تھی لیکن اسحاق ڈار نے آتے ہی ود ہولڈنگ اور مہنگی بجلی کر کے صنعتی تباہی کی بنیاد رکھ دی تھی . اگر تھوڑا صبر کر لیتے اور جیسے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش ہوئیں بجلی مہنگی کرنے کی ضرورت نہ پڑتی . تیل کی کم قیمتوں کا ریلیف بھی عوام کو منتقل نہ کیا جا سکا . نواز شریف کا اکانمی ماڈل بھی نریندر مودی جیسا تھا جس میں ہمخیال گروپ کی جی ڈی پی خوب بڑھتی ہے اور عام عوام مزید تباہ ہوتی ہے . چند دوستوں کی معیشت کے علاوہ باقی ملک کی معیشت نواز دور میں ترقی نہ کر سکی
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف معیشت کی کی اصطلاح سے نا واقف اکاونٹنٹ اسحاق ڈار ملکی معیشت کو اکاونٹ میں ہیر پھیر کر کے بہترین کرنا چاہتا تھا . وہ اکاونٹسی کا ماہر تھا اور یہ ہی کام بہترین طور پر کر سکتا تھا . اب اس کے ہاتھ ملک کا فارن اکاونٹ لگ چکا تھا . اس نے اپنی مہارت دکھانے کے لیے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کا سٹنٹ کیا جس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانا پڑی . ایک طرف اسحاق ڈار مہنگے قرضے لے کر موٹروے اور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں کی راہ ہموار کرتا رہا اور دوسری طرف فارن اکاونٹ کا بیلنس تباہ ہو چکا تھا . ٦٠ ارب ڈالر کی امپورٹ اور بیس ارب ڈالر کی ایکسپورٹ اس کے ساتھ صرف ١٧ ارب ڈالر کی ریمٹننس کے ساتھ روپے کی قدر ١٠٤ کسی حساب سے بھی نہیں بنتی تھی . یہ ایک بازی گر کی بازی تھی یا جواری کا جوا تھا جو اکاونٹ کی ہیر پھیر سے روپیہ کنٹرول کر رہا تھا جب کہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف تھے . اس بازی کی قیمت کم سے کم چھے ارب ڈالر کی فارن اکاونٹ لایبلیتی بن چکے تھے اور آگے جا کر اس میں مزید اضافہ ہونا تھا . اسحاق ڈار روپے کی قدر پر لگایا جوا ہار چکا تھا اب اس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانی تھی سامنے بھیانک انجام دیکھ کر ڈار سال پہلے ہی ملک سے فرار ہو گیا تھا . اسے پتا تھا وہ معیشت کی چولیں ہلا چکا ہے اس لیے اب بدنامی سے بچنے کے لیے ملک سے بھاگنا ضروری تھا
اب اس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں سب سے پہلے روپے کی اصل قدر بحال ہونی تھی اور یہ دس بارہ نہیں چالیس پچاس میں تھی جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان لازمی تھا یہ ملکی معیشت کو لگا پہلا جھٹکا تھا . اس کے بعد قرضوں کا انبار تھا جہاں پانچ سال پہلے سود کی مد میں دو تین ارب ڈالر جاتے تھے اب قرضہ ڈبل ہونے کی وجہ سے یہ پانچ ارب ڈالر تک تھی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اس قوم کو دوسرا جھٹکا تھا . اس کے بعد روپے کی قدر کنٹرول کرنے کے لیے امپورٹ کو کنٹرول کرنا تھا اور پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا پینتیس سے چالیس فیصد امپورٹ پر منحصر تھا جو امپورٹ کی کمی کی وجہ سے مزید کم ہو گیا تھا . یوں جب ڈار کا ڈالر بمب پھٹا تو مہنگائی کا طوفان ، ملک کا دیوالیہ اور ٹیکس کی کمی کا شکار یہ قوم ہو گئی . ڈار نے روپے کی قدر کنٹرول کرنے کی جو شعبدہ بازی دکھائی تھی اس کے سنگین نتائج سامنے تھے
آج اس قوم کے پاس قرضہ بھرنے کے پیسے نہیں اور صرف چھے ارب ڈالر کے قرضے کی خاطر قوم سولی پر لٹکا دی گئی ہے اور وہ بھی کیا وقت تھا جب ڈار موٹر وے اور اورنج ٹرین بنانے کے لیے ڈالر پانی کی طرح بہا رہا تھا . کون جانتا تھا کہ اس قوم کے پاس لگزری سڑکیں ہوں گی لیکن قرضے ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے . ایسا ہی ہے آج اربوں ڈالر کی موٹر وے ہے اورنج ٹرین ہے لیکن اس کو بنانے کے لیے جو قرضہ لیا اسے چکانے کے پیسے نہیں . بنگلہ دیش میں نہ کوئی موٹر وے بنی نہ اورنج ٹرین بنی اس کی ایکسپورٹ پانچ سال میں ڈبل ہو گئیں . پاکستان میں خاندان اور دوستوں کو نوازنے کے لیے لگژری پراجکٹ بناۓ گۓ اور ایکسپورٹ اور قرضوں کی بات پس پشت ڈال دی گئی . حالات کنٹرول سے باہر ہو گۓ تو ملک چھوڑ کر بھاگ گۓ . آج نون لیگ کو موٹر وے پر فخر ہے لیکن جو قرضہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور قوم کے گلے کا پھندہ بن چکا ہے اس کی بات نہیں کرتے
 
Advertisement

The Sane

Minister (2k+ posts)
٢٠١٣ میں جب نواز شریف کو حکومت ملی تو اس وقت ملک میں کوئی انتظامی بحران نہیں تھا دہہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں تھی اور لوڈ شیڈنگ کے باوجود ملکی معاشی ترقی کی رفتار ٤ فیصد تھی . اب حکومت وقت کے پاس ایک ہی چیلنج بچا تھا وہ تھا ملکی معیشت . گو کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اس وقت پچاس ارب ڈالر سے کم تھا لیکن اس کے باوجود اس وقت ایسا فریم ورک بنانے کی ضرورت تھی جس سے قرضہ مزید کم ہو جاتا لیکن اسحاق ڈار کی پالیسیوں سے ملکی قرضہ ڈبل ہو گیا اور ناقابل برداشت ہو گیا جس کی وجہ سے ملکی معیشت بیٹھ گئی .
نون لیگ کو جب اقتدار ملا تب ملکی صنعتوں کو کم سے کم ریلیف کی ضرورت تھی لیکن اسحاق ڈار نے آتے ہی ود ہولڈنگ اور مہنگی بجلی کر کے صنعتی تباہی کی بنیاد رکھ دی تھی . اگر تھوڑا صبر کر لیتے اور جیسے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش ہوئیں بجلی مہنگی کرنے کی ضرورت نہ پڑتی . تیل کی کم قیمتوں کا ریلیف بھی عوام کو منتقل نہ کیا جا سکا . نواز شریف کا اکانمی ماڈل بھی نریندر مودی جیسا تھا جس میں ہمخیال گروپ کی جی ڈی پی خوب بڑھتی ہے اور عام عوام مزید تباہ ہوتی ہے . چند دوستوں کی معیشت کے علاوہ باقی ملک کی معیشت نواز دور میں ترقی نہ کر سکی
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف معیشت کی کی اصطلاح سے نا واقف اکاونٹنٹ اسحاق ڈار ملکی معیشت کو اکاونٹ میں ہیر پھیر کر کے بہترین کرنا چاہتا تھا . وہ اکاونٹسی کا ماہر تھا اور یہ ہی کام بہترین طور پر کر سکتا تھا . اب اس کے ہاتھ ملک کا فارن اکاونٹ لگ چکا تھا . اس نے اپنی مہارت دکھانے کے لیے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کا سٹنٹ کیا جس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانا پڑی . ایک طرف اسحاق ڈار مہنگے قرضے لے کر موٹروے اور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں کی راہ ہموار کرتا رہا اور دوسری طرف فارن اکاونٹ کا بیلنس تباہ ہو چکا تھا . ٦٠ ارب ڈالر کی امپورٹ اور بیس ارب ڈالر کی ایکسپورٹ اس کے ساتھ صرف ١٧ ارب ڈالر کی ریمٹننس کے ساتھ روپے کی قدر ١٠٤ کسی حساب سے بھی نہیں بنتی تھی . یہ ایک بازی گر کی بازی تھی یا جواری کا جوا تھا جو اکاونٹ کی ہیر پھیر سے روپیہ کنٹرول کر رہا تھا جب کہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف تھے . اس بازی کی قیمت کم سے کم چھے ارب ڈالر کی فارن اکاونٹ لایبلیتی بن چکے تھے اور آگے جا کر اس میں مزید اضافہ ہونا تھا . اسحاق ڈار روپے کی قدر پر لگایا جوا ہار چکا تھا اب اس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانی تھی سامنے بھیانک انجام دیکھ کر ڈار سال پہلے ہی ملک سے فرار ہو گیا تھا . اسے پتا تھا وہ معیشت کی چولیں ہلا چکا ہے اس لیے اب بدنامی سے بچنے کے لیے ملک سے بھاگنا ضروری تھا
اب اس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں سب سے پہلے روپے کی اصل قدر بحال ہونی تھی اور یہ دس بارہ نہیں چالیس پچاس میں تھی جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان لازمی تھا یہ ملکی معیشت کو لگا پہلا جھٹکا تھا . اس کے بعد قرضوں کا انبار تھا جہاں پانچ سال پہلے سود کی مد میں دو تین ارب ڈالر جاتے تھے اب قرضہ ڈبل ہونے کی وجہ سے یہ پانچ ارب ڈالر تک تھی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اس قوم کو دوسرا جھٹکا تھا . اس کے بعد روپے کی قدر کنٹرول کرنے کے لیے امپورٹ کو کنٹرول کرنا تھا اور پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا پینتیس سے چالیس فیصد امپورٹ پر منحصر تھا جو امپورٹ کی کمی کی وجہ سے مزید کم ہو گیا تھا . یوں جب ڈار کا ڈالر بمب پھٹا تو مہنگائی کا طوفان ، ملک کا دیوالیہ اور ٹیکس کی کمی کا شکار یہ قوم ہو گئی . ڈار نے روپے کی قدر کنٹرول کرنے کی جو شعبدہ بازی دکھائی تھی اس کے سنگین نتائج سامنے تھے
آج اس قوم کے پاس قرضہ بھرنے کے پیسے نہیں اور صرف چھے ارب ڈالر کے قرضے کی خاطر قوم سولی پر لٹکا دی گئی ہے اور وہ بھی کیا وقت تھا جب ڈار موٹر وے اور اورنج ٹرین بنانے کے لیے ڈالر پانی کی طرح بہا رہا تھا . کون جانتا تھا کہ اس قوم کے پاس لگزری سڑکیں ہوں گی لیکن قرضے ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے . ایسا ہی ہے آج اربوں ڈالر کی موٹر وے ہے اورنج ٹرین ہے لیکن اس کو بنانے کے لیے جو قرضہ لیا اسے چکانے کے پیسے نہیں . بنگلہ دیش میں نہ کوئی موٹر وے بنی نہ اورنج ٹرین بنی اس کی ایکسپورٹ پانچ سال میں ڈبل ہو گئیں . پاکستان میں خاندان اور دوستوں کو نوازنے کے لیے لگژری پراجکٹ بناۓ گۓ اور ایکسپورٹ اور قرضوں کی بات پس پشت ڈال دی گئی . حالات کنٹرول سے باہر ہو گۓ تو ملک چھوڑ کر بھاگ گۓ . آج نون لیگ کو موٹر وے پر فخر ہے لیکن جو قرضہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور قوم کے گلے کا پھندہ بن چکا ہے اس کی بات نہیں کرتے
بھٹو کے بس دو ہی قاتل۔۔۔۔نواز اور اس کا باپ ضیا
 

Citizen X

Prime Minister (20k+ posts)
٢٠١٣ میں جب نواز شریف کو حکومت ملی تو اس وقت ملک میں کوئی انتظامی بحران نہیں تھا دہہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں تھی اور لوڈ شیڈنگ کے باوجود ملکی معاشی ترقی کی رفتار ٤ فیصد تھی . اب حکومت وقت کے پاس ایک ہی چیلنج بچا تھا وہ تھا ملکی معیشت . گو کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اس وقت پچاس ارب ڈالر سے کم تھا لیکن اس کے باوجود اس وقت ایسا فریم ورک بنانے کی ضرورت تھی جس سے قرضہ مزید کم ہو جاتا لیکن اسحاق ڈار کی پالیسیوں سے ملکی قرضہ ڈبل ہو گیا اور ناقابل برداشت ہو گیا جس کی وجہ سے ملکی معیشت بیٹھ گئی .
نون لیگ کو جب اقتدار ملا تب ملکی صنعتوں کو کم سے کم ریلیف کی ضرورت تھی لیکن اسحاق ڈار نے آتے ہی ود ہولڈنگ اور مہنگی بجلی کر کے صنعتی تباہی کی بنیاد رکھ دی تھی . اگر تھوڑا صبر کر لیتے اور جیسے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش ہوئیں بجلی مہنگی کرنے کی ضرورت نہ پڑتی . تیل کی کم قیمتوں کا ریلیف بھی عوام کو منتقل نہ کیا جا سکا . نواز شریف کا اکانمی ماڈل بھی نریندر مودی جیسا تھا جس میں ہمخیال گروپ کی جی ڈی پی خوب بڑھتی ہے اور عام عوام مزید تباہ ہوتی ہے . چند دوستوں کی معیشت کے علاوہ باقی ملک کی معیشت نواز دور میں ترقی نہ کر سکی
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف معیشت کی کی اصطلاح سے نا واقف اکاونٹنٹ اسحاق ڈار ملکی معیشت کو اکاونٹ میں ہیر پھیر کر کے بہترین کرنا چاہتا تھا . وہ اکاونٹسی کا ماہر تھا اور یہ ہی کام بہترین طور پر کر سکتا تھا . اب اس کے ہاتھ ملک کا فارن اکاونٹ لگ چکا تھا . اس نے اپنی مہارت دکھانے کے لیے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کا سٹنٹ کیا جس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانا پڑی . ایک طرف اسحاق ڈار مہنگے قرضے لے کر موٹروے اور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں کی راہ ہموار کرتا رہا اور دوسری طرف فارن اکاونٹ کا بیلنس تباہ ہو چکا تھا . ٦٠ ارب ڈالر کی امپورٹ اور بیس ارب ڈالر کی ایکسپورٹ اس کے ساتھ صرف ١٧ ارب ڈالر کی ریمٹننس کے ساتھ روپے کی قدر ١٠٤ کسی حساب سے بھی نہیں بنتی تھی . یہ ایک بازی گر کی بازی تھی یا جواری کا جوا تھا جو اکاونٹ کی ہیر پھیر سے روپیہ کنٹرول کر رہا تھا جب کہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف تھے . اس بازی کی قیمت کم سے کم چھے ارب ڈالر کی فارن اکاونٹ لایبلیتی بن چکے تھے اور آگے جا کر اس میں مزید اضافہ ہونا تھا . اسحاق ڈار روپے کی قدر پر لگایا جوا ہار چکا تھا اب اس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانی تھی سامنے بھیانک انجام دیکھ کر ڈار سال پہلے ہی ملک سے فرار ہو گیا تھا . اسے پتا تھا وہ معیشت کی چولیں ہلا چکا ہے اس لیے اب بدنامی سے بچنے کے لیے ملک سے بھاگنا ضروری تھا
اب اس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں سب سے پہلے روپے کی اصل قدر بحال ہونی تھی اور یہ دس بارہ نہیں چالیس پچاس میں تھی جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان لازمی تھا یہ ملکی معیشت کو لگا پہلا جھٹکا تھا . اس کے بعد قرضوں کا انبار تھا جہاں پانچ سال پہلے سود کی مد میں دو تین ارب ڈالر جاتے تھے اب قرضہ ڈبل ہونے کی وجہ سے یہ پانچ ارب ڈالر تک تھی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اس قوم کو دوسرا جھٹکا تھا . اس کے بعد روپے کی قدر کنٹرول کرنے کے لیے امپورٹ کو کنٹرول کرنا تھا اور پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا پینتیس سے چالیس فیصد امپورٹ پر منحصر تھا جو امپورٹ کی کمی کی وجہ سے مزید کم ہو گیا تھا . یوں جب ڈار کا ڈالر بمب پھٹا تو مہنگائی کا طوفان ، ملک کا دیوالیہ اور ٹیکس کی کمی کا شکار یہ قوم ہو گئی . ڈار نے روپے کی قدر کنٹرول کرنے کی جو شعبدہ بازی دکھائی تھی اس کے سنگین نتائج سامنے تھے
آج اس قوم کے پاس قرضہ بھرنے کے پیسے نہیں اور صرف چھے ارب ڈالر کے قرضے کی خاطر قوم سولی پر لٹکا دی گئی ہے اور وہ بھی کیا وقت تھا جب ڈار موٹر وے اور اورنج ٹرین بنانے کے لیے ڈالر پانی کی طرح بہا رہا تھا . کون جانتا تھا کہ اس قوم کے پاس لگزری سڑکیں ہوں گی لیکن قرضے ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے . ایسا ہی ہے آج اربوں ڈالر کی موٹر وے ہے اورنج ٹرین ہے لیکن اس کو بنانے کے لیے جو قرضہ لیا اسے چکانے کے پیسے نہیں . بنگلہ دیش میں نہ کوئی موٹر وے بنی نہ اورنج ٹرین بنی اس کی ایکسپورٹ پانچ سال میں ڈبل ہو گئیں . پاکستان میں خاندان اور دوستوں کو نوازنے کے لیے لگژری پراجکٹ بناۓ گۓ اور ایکسپورٹ اور قرضوں کی بات پس پشت ڈال دی گئی . حالات کنٹرول سے باہر ہو گۓ تو ملک چھوڑ کر بھاگ گۓ . آج نون لیگ کو موٹر وے پر فخر ہے لیکن جو قرضہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور قوم کے گلے کا پھندہ بن چکا ہے اس کی بات نہیں کرتے
LOL Ironic coming for a Billo Khusri lover whos entire family are economic hitman
 

Lefty

Minister (2k+ posts)
٢٠١٣ میں جب نواز شریف کو حکومت ملی تو اس وقت ملک میں کوئی انتظامی بحران نہیں تھا دہہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں تھی اور لوڈ شیڈنگ کے باوجود ملکی معاشی ترقی کی رفتار ٤ فیصد تھی . اب حکومت وقت کے پاس ایک ہی چیلنج بچا تھا وہ تھا ملکی معیشت . گو کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اس وقت پچاس ارب ڈالر سے کم تھا لیکن اس کے باوجود اس وقت ایسا فریم ورک بنانے کی ضرورت تھی جس سے قرضہ مزید کم ہو جاتا لیکن اسحاق ڈار کی پالیسیوں سے ملکی قرضہ ڈبل ہو گیا اور ناقابل برداشت ہو گیا جس کی وجہ سے ملکی معیشت بیٹھ گئی .
نون لیگ کو جب اقتدار ملا تب ملکی صنعتوں کو کم سے کم ریلیف کی ضرورت تھی لیکن اسحاق ڈار نے آتے ہی ود ہولڈنگ اور مہنگی بجلی کر کے صنعتی تباہی کی بنیاد رکھ دی تھی . اگر تھوڑا صبر کر لیتے اور جیسے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش ہوئیں بجلی مہنگی کرنے کی ضرورت نہ پڑتی . تیل کی کم قیمتوں کا ریلیف بھی عوام کو منتقل نہ کیا جا سکا . نواز شریف کا اکانمی ماڈل بھی نریندر مودی جیسا تھا جس میں ہمخیال گروپ کی جی ڈی پی خوب بڑھتی ہے اور عام عوام مزید تباہ ہوتی ہے . چند دوستوں کی معیشت کے علاوہ باقی ملک کی معیشت نواز دور میں ترقی نہ کر سکی
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف معیشت کی کی اصطلاح سے نا واقف اکاونٹنٹ اسحاق ڈار ملکی معیشت کو اکاونٹ میں ہیر پھیر کر کے بہترین کرنا چاہتا تھا . وہ اکاونٹسی کا ماہر تھا اور یہ ہی کام بہترین طور پر کر سکتا تھا . اب اس کے ہاتھ ملک کا فارن اکاونٹ لگ چکا تھا . اس نے اپنی مہارت دکھانے کے لیے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کا سٹنٹ کیا جس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانا پڑی . ایک طرف اسحاق ڈار مہنگے قرضے لے کر موٹروے اور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں کی راہ ہموار کرتا رہا اور دوسری طرف فارن اکاونٹ کا بیلنس تباہ ہو چکا تھا . ٦٠ ارب ڈالر کی امپورٹ اور بیس ارب ڈالر کی ایکسپورٹ اس کے ساتھ صرف ١٧ ارب ڈالر کی ریمٹننس کے ساتھ روپے کی قدر ١٠٤ کسی حساب سے بھی نہیں بنتی تھی . یہ ایک بازی گر کی بازی تھی یا جواری کا جوا تھا جو اکاونٹ کی ہیر پھیر سے روپیہ کنٹرول کر رہا تھا جب کہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف تھے . اس بازی کی قیمت کم سے کم چھے ارب ڈالر کی فارن اکاونٹ لایبلیتی بن چکے تھے اور آگے جا کر اس میں مزید اضافہ ہونا تھا . اسحاق ڈار روپے کی قدر پر لگایا جوا ہار چکا تھا اب اس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانی تھی سامنے بھیانک انجام دیکھ کر ڈار سال پہلے ہی ملک سے فرار ہو گیا تھا . اسے پتا تھا وہ معیشت کی چولیں ہلا چکا ہے اس لیے اب بدنامی سے بچنے کے لیے ملک سے بھاگنا ضروری تھا
اب اس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں سب سے پہلے روپے کی اصل قدر بحال ہونی تھی اور یہ دس بارہ نہیں چالیس پچاس میں تھی جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان لازمی تھا یہ ملکی معیشت کو لگا پہلا جھٹکا تھا . اس کے بعد قرضوں کا انبار تھا جہاں پانچ سال پہلے سود کی مد میں دو تین ارب ڈالر جاتے تھے اب قرضہ ڈبل ہونے کی وجہ سے یہ پانچ ارب ڈالر تک تھی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اس قوم کو دوسرا جھٹکا تھا . اس کے بعد روپے کی قدر کنٹرول کرنے کے لیے امپورٹ کو کنٹرول کرنا تھا اور پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا پینتیس سے چالیس فیصد امپورٹ پر منحصر تھا جو امپورٹ کی کمی کی وجہ سے مزید کم ہو گیا تھا . یوں جب ڈار کا ڈالر بمب پھٹا تو مہنگائی کا طوفان ، ملک کا دیوالیہ اور ٹیکس کی کمی کا شکار یہ قوم ہو گئی . ڈار نے روپے کی قدر کنٹرول کرنے کی جو شعبدہ بازی دکھائی تھی اس کے سنگین نتائج سامنے تھے
آج اس قوم کے پاس قرضہ بھرنے کے پیسے نہیں اور صرف چھے ارب ڈالر کے قرضے کی خاطر قوم سولی پر لٹکا دی گئی ہے اور وہ بھی کیا وقت تھا جب ڈار موٹر وے اور اورنج ٹرین بنانے کے لیے ڈالر پانی کی طرح بہا رہا تھا . کون جانتا تھا کہ اس قوم کے پاس لگزری سڑکیں ہوں گی لیکن قرضے ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے . ایسا ہی ہے آج اربوں ڈالر کی موٹر وے ہے اورنج ٹرین ہے لیکن اس کو بنانے کے لیے جو قرضہ لیا اسے چکانے کے پیسے نہیں . بنگلہ دیش میں نہ کوئی موٹر وے بنی نہ اورنج ٹرین بنی اس کی ایکسپورٹ پانچ سال میں ڈبل ہو گئیں . پاکستان میں خاندان اور دوستوں کو نوازنے کے لیے لگژری پراجکٹ بناۓ گۓ اور ایکسپورٹ اور قرضوں کی بات پس پشت ڈال دی گئی . حالات کنٹرول سے باہر ہو گۓ تو ملک چھوڑ کر بھاگ گۓ . آج نون لیگ کو موٹر وے پر فخر ہے لیکن جو قرضہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور قوم کے گلے کا پھندہ بن چکا ہے اس کی بات نہیں کرتے
kia ya sab Bilawal and Zardari ko ni pata the batain or agar pata the to phir 7 8 months PDM ma isi Hitman k sath honeymoon ku manatay rahay ???????
 

CANSUK

Chief Minister (5k+ posts)
ميثاق جمہوريت کے فائدے ، ميری باری اب تيری باری رج کے لوٹو اور پھوٹو ۔​
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
٢٠١٣ میں جب نواز شریف کو حکومت ملی تو اس وقت ملک میں کوئی انتظامی بحران نہیں تھا دہہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں تھی اور لوڈ شیڈنگ کے باوجود ملکی معاشی ترقی کی رفتار ٤ فیصد تھی . اب حکومت وقت کے پاس ایک ہی چیلنج بچا تھا وہ تھا ملکی معیشت . گو کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اس وقت پچاس ارب ڈالر سے کم تھا لیکن اس کے باوجود اس وقت ایسا فریم ورک بنانے کی ضرورت تھی جس سے قرضہ مزید کم ہو جاتا لیکن اسحاق ڈار کی پالیسیوں سے ملکی قرضہ ڈبل ہو گیا اور ناقابل برداشت ہو گیا جس کی وجہ سے ملکی معیشت بیٹھ گئی .
نون لیگ کو جب اقتدار ملا تب ملکی صنعتوں کو کم سے کم ریلیف کی ضرورت تھی لیکن اسحاق ڈار نے آتے ہی ود ہولڈنگ اور مہنگی بجلی کر کے صنعتی تباہی کی بنیاد رکھ دی تھی . اگر تھوڑا صبر کر لیتے اور جیسے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش ہوئیں بجلی مہنگی کرنے کی ضرورت نہ پڑتی . تیل کی کم قیمتوں کا ریلیف بھی عوام کو منتقل نہ کیا جا سکا . نواز شریف کا اکانمی ماڈل بھی نریندر مودی جیسا تھا جس میں ہمخیال گروپ کی جی ڈی پی خوب بڑھتی ہے اور عام عوام مزید تباہ ہوتی ہے . چند دوستوں کی معیشت کے علاوہ باقی ملک کی معیشت نواز دور میں ترقی نہ کر سکی
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف معیشت کی کی اصطلاح سے نا واقف اکاونٹنٹ اسحاق ڈار ملکی معیشت کو اکاونٹ میں ہیر پھیر کر کے بہترین کرنا چاہتا تھا . وہ اکاونٹسی کا ماہر تھا اور یہ ہی کام بہترین طور پر کر سکتا تھا . اب اس کے ہاتھ ملک کا فارن اکاونٹ لگ چکا تھا . اس نے اپنی مہارت دکھانے کے لیے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کا سٹنٹ کیا جس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانا پڑی . ایک طرف اسحاق ڈار مہنگے قرضے لے کر موٹروے اور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں کی راہ ہموار کرتا رہا اور دوسری طرف فارن اکاونٹ کا بیلنس تباہ ہو چکا تھا . ٦٠ ارب ڈالر کی امپورٹ اور بیس ارب ڈالر کی ایکسپورٹ اس کے ساتھ صرف ١٧ ارب ڈالر کی ریمٹننس کے ساتھ روپے کی قدر ١٠٤ کسی حساب سے بھی نہیں بنتی تھی . یہ ایک بازی گر کی بازی تھی یا جواری کا جوا تھا جو اکاونٹ کی ہیر پھیر سے روپیہ کنٹرول کر رہا تھا جب کہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف تھے . اس بازی کی قیمت کم سے کم چھے ارب ڈالر کی فارن اکاونٹ لایبلیتی بن چکے تھے اور آگے جا کر اس میں مزید اضافہ ہونا تھا . اسحاق ڈار روپے کی قدر پر لگایا جوا ہار چکا تھا اب اس کی بھیانک قیمت قوم کو چکانی تھی سامنے بھیانک انجام دیکھ کر ڈار سال پہلے ہی ملک سے فرار ہو گیا تھا . اسے پتا تھا وہ معیشت کی چولیں ہلا چکا ہے اس لیے اب بدنامی سے بچنے کے لیے ملک سے بھاگنا ضروری تھا
اب اس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں سب سے پہلے روپے کی اصل قدر بحال ہونی تھی اور یہ دس بارہ نہیں چالیس پچاس میں تھی جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان لازمی تھا یہ ملکی معیشت کو لگا پہلا جھٹکا تھا . اس کے بعد قرضوں کا انبار تھا جہاں پانچ سال پہلے سود کی مد میں دو تین ارب ڈالر جاتے تھے اب قرضہ ڈبل ہونے کی وجہ سے یہ پانچ ارب ڈالر تک تھی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اس قوم کو دوسرا جھٹکا تھا . اس کے بعد روپے کی قدر کنٹرول کرنے کے لیے امپورٹ کو کنٹرول کرنا تھا اور پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا پینتیس سے چالیس فیصد امپورٹ پر منحصر تھا جو امپورٹ کی کمی کی وجہ سے مزید کم ہو گیا تھا . یوں جب ڈار کا ڈالر بمب پھٹا تو مہنگائی کا طوفان ، ملک کا دیوالیہ اور ٹیکس کی کمی کا شکار یہ قوم ہو گئی . ڈار نے روپے کی قدر کنٹرول کرنے کی جو شعبدہ بازی دکھائی تھی اس کے سنگین نتائج سامنے تھے
آج اس قوم کے پاس قرضہ بھرنے کے پیسے نہیں اور صرف چھے ارب ڈالر کے قرضے کی خاطر قوم سولی پر لٹکا دی گئی ہے اور وہ بھی کیا وقت تھا جب ڈار موٹر وے اور اورنج ٹرین بنانے کے لیے ڈالر پانی کی طرح بہا رہا تھا . کون جانتا تھا کہ اس قوم کے پاس لگزری سڑکیں ہوں گی لیکن قرضے ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے . ایسا ہی ہے آج اربوں ڈالر کی موٹر وے ہے اورنج ٹرین ہے لیکن اس کو بنانے کے لیے جو قرضہ لیا اسے چکانے کے پیسے نہیں . بنگلہ دیش میں نہ کوئی موٹر وے بنی نہ اورنج ٹرین بنی اس کی ایکسپورٹ پانچ سال میں ڈبل ہو گئیں . پاکستان میں خاندان اور دوستوں کو نوازنے کے لیے لگژری پراجکٹ بناۓ گۓ اور ایکسپورٹ اور قرضوں کی بات پس پشت ڈال دی گئی . حالات کنٹرول سے باہر ہو گۓ تو ملک چھوڑ کر بھاگ گۓ . آج نون لیگ کو موٹر وے پر فخر ہے لیکن جو قرضہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور قوم کے گلے کا پھندہ بن چکا ہے اس کی بات نہیں کرتے
شاباش جیالے۔ بس ایسی اچھی اچھی پوسٹ کیا کرو
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
یہ جیالا نہیں، کھوتی شریف کا شیر جوان ہے، جو پیپل پالٹی کا جھنڈا لگا کر دونوں طرف چلتا ہے
البتہ اس نے یہ والی پوسٹ حقائق پر مبنی کی ہے۔ اس کو سچ بولنے پر شاباش دیں
 

The Sane

Minister (2k+ posts)
البتہ اس نے یہ والی پوسٹ حقائق پر مبنی کی ہے۔ اس کو سچ بولنے پر شاباش دیں
یہ ان اجڈوں کی چال ہے ۔ پہلے ایک دو ایسی پوسٹیں بنا کر اعتماد حاصل کرو اور پھر اپنی اوقات پر آ جاؤ۔
 

atensari

President (40k+ posts)
مذاق جمہوریت میں یہی طے ہوا تھا. ٢٠١٣ میں حکومت نواز شریف ہی کو ملنی تھی اور ویسا ہی ہوا
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs خبریں