ایبٹ آباد یونیورسٹی کاکنسرٹ تنازعہ کاشکار انتظامیہ پر فحاشی پھیلانے کاالزام

7comsatab.jpg

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی میں پانچ دسمبر کے لیے طے شدہ میوزک کنسرٹ تنازعے کا شکار ہو گیا۔

دو سال کے کورونا لاک ڈاؤن اور آن لائن کلاسز کے مشکل شیڈول کے بعد COMSATS یونیورسٹی کے ایبٹ آباد کیمپس کے طلباء نے ان معمولات سے وقفہ لینے کے لئے ایک تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا لیکن بدقسمتی سے یہ کانسرٹ تنازعے کا شکار ہو گیا۔

کامسیٹس یونیورسٹی کی سوسائٹی ’فن کدہ‘ کے زیراہتمام اس تقریب میں تھیٹر ڈرامے، ایک میوزیکل نائٹ، اور گلوکار فرحان سعید کی خصوصی پرفارمنس شامل ہے۔

پہلے اس ایونٹ کو اوپن رکھا گیا تھا مگر بعد میں اس کو ہال میں منعقد کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سوسائٹی نے بتایا کہ اس ایونٹ میں داخلے کے لیے ایک ہزار اور دو ہزار روپے کی ’مناسب‘ فیس مقرر کی گئی جس کا مقصد حاصل ہونے والی رقم کو فلاحی کاموں پر خرچ کرنا تھا۔

کامسیٹس کے میڈیا کوآرڈینیٹر، ناصر احمد نے بتایا، ہمارے پاس ہمیشہ یونیورسٹی میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں، پچھلے دو سالوں سے، ہم کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے میلہ منعقد کرنے سے قاصر تھے۔

احمد کے مطابق، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کے مطابق، ہر سال یونیورسٹی میں طلبہ ویک منایا جاتا ہے جس کے دوران طلبہ کئی غیر نصابی سرگرمیوں جیسے اسپورٹس گالا اور ڈرامہ ویک کا اہتمام کرتے ہیں۔ "یہ پڑھائی سے وقفے کی طرح ہے۔”

فن کدہ سوسائٹی کے ایک طالب علم عہدیدار کے مطابق پروگرام یونیورسٹی کی انتظامیہ کی مکمل مشاورت بلکہ ’ہدایات‘ کے مطابق کیا گیا ہے جس کے لیے کافی عرصے سے تیاریاں کی جا رہی تھیں مگر جب سے احتجاج کی دھمکیاں ملنی شروع ہوئی ہیں، اُس وقت سے یونیورسٹی انتظامیہ کچھ خوف کی شکار نظر آتی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آرہا ہے، مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر تنقید سے بھرپور پوسٹس اور ویڈیوز سے بھر گیا ہے جس میں اس کنسرٹ کی مذمت کی گئی ہے۔ لوگوں نے اسے "اسلام مخالف”، "حرام” اور "اسلام کی اخلاقی اقدار پر حملہ” قرار دیا ہے۔

ایک مذہبی طلبہ تنظیم، اسلامی جمعیت طلبہ کے جانب سے ٹوئٹ کی گئی۔


ہنزلہ داؤد نامی صارف کا کہنا تھا کہ کانسرٹس ہمارا کلچر نہیں ہیں۔


کچھ ٹویٹر صارفین نے وزیر اعظم عمران خان کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس میں مغربی ثقافت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔


طلباء تنظیم نے کنسرٹ کے خلاف احتجاج میں شہر میں متعدد پوسٹر لگائے ہیں۔ ان میں سے ایک لکھا کہ جو لوگ مسلمانوں میں فحاشی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا مقدر جہنم ہے۔


ایک اور پوسٹ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک مذہبی مبلغ، لوگوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ، یونیورسٹی کی طرف سے ترتیب دیا گیا یہ پروگرام خواتین اور مردوں کو ایک ساتھ رقص کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس کے بعد وہ شخص فرحان سعید پر فحش باتیں کرتا ہے۔ "تصور کریں کہ کسی یونیورسٹی میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ رقص کریں گے۔ یہ اسلام مخالف ہے۔"

کامسیٹس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ IJT یونیورسٹی کے خلاف توہین آمیز مہم چلا رہا ہے۔ اگر طلباء واقعی کنسرٹ کے خلاف ہوتے تو وہ انتظامیہ سے شکایت کرتے۔ ہمیں ابھی تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کنسرٹ اب بھی ہو گا، اور یونیورسٹی کا اسے منسوخ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
 
Advertisement

Landmark

Minister (2k+ posts)

Koi Youthia​

btay gah ye kon se new Mordren Reasite-Madena ha jo​

Music ko halal kaewa rehe ha ?​

 

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)

Koi Youthia​

btay gah ye kon se new Mordren Reasite-Madena ha jo​

Music ko halal kaewa rehe ha ?

میوزک تو پاکستان میں پہلے سے حلال ہے؟...فلموں میں میوزک، ٹی وی پر میوزک، گھروں میں میوزک،
شادی بیاہ پر میوزک، مزاروں پر میوزک…...اگر کسی یونی ورسٹی فنکشن میں کچھ میوزک ہو گیا تو کیا
قیامت برپا ہو جائے گی.
 

Landmark

Minister (2k+ posts)
میوزک تو پاکستان میں پہلے سے حلال ہے؟...فلموں میں میوزک، ٹی وی پر میوزک، گھروں میں میوزک،
شادی بیاہ پر میوزک، مزاروں پر میوزک…...اگر کسی یونی ورسٹی فنکشن میں کچھ میوزک ہو گیا تو کیا
قیامت برپا ہو جائے گی.

phaly to or b both kuch huta he tu

ap ko kiss ley vote deya pher?

is ko madena ka man q dete hu pher
 
Sponsored Link