این 133: الیکشن 2018 کا 2021 کے الیکشن سے موازنہ

na133pti2111.jpg

این اے 133 میں مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کرلی۔۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز نے 46 ہزار 811 ووٹ لے کر فتح حاصل کرلی۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری اسلم گل دوسرے نمبر پر رہے۔ انہوں نے 32 ہزار 313 ووٹ حاصل کیے۔

اطلاعات کے مطابق چھٹی کا دن ہونے اور ن لیگ، پی پی کی بھرپور انتخابی کمپین کے باوجود حلقے کی عوام کی بڑی تعداد ووٹنگ کے عمل سے لاتعلق رہی اور حلقے میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ تقریباً 18 فیصد رہا جس کی ایک بڑی وجہ تحریک انصاف کا میدان میں نہ ہونا ہے۔تحریک انصاف کا ووٹر اس الیکشن سے لاتعلق تھا اور اکثریت باہر نہیں نکلی۔

الیکشن 2018 میں اس حلقے میں تین بڑی جماعتیں تھیں جن میں ن لیگ، تحریک انصاف اور ٹی ایل پی شامل تھی، تحریک انصاف اور ٹی ایل پی کی غیرموجودگی کا پیپلزپارٹی نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اگر حلقے میں ووٹنگ ٹرین آؤٹ دیکھا جائے تو ووٹنگ ٹرن آؤٹ 18 فیصد رہا ہے جبکہ الیکشن 2018 میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ 52 فیصد تھا۔ الیکشن 2018 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار پرویز ملک نے 89699 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اعجازچوہدری 77293 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

الیکشن 2018 میں تیسرے نمبر پر ٹی ایل پی تھی جس کے امیدوار مطلوب احمد نے 13235 ووٹ حاصل کئے جبکہ چوتھے نمبر پر پیپلزپارٹی کے اسلم گل تھے جنہوں نے 5585 ووٹ حاصل کئے۔ اسکے علاوہ ن لیگ کے سابق رہنما زعیم قادری بھی حلقے سے الیکشن لڑرہے تھے اور 1953 ووٹ لے پائے۔

اس بار تحریک انصاف میدان میں نہیں تھی۔ تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی کو ن لیگ نے چیلنج کیا تھا اور الیکشن کی دوڑ سے باہر کروادیا تھا۔

پرویز ملک کی وفات کے بعد ن لیگ کی رہنما شائستہ پرویز ملک کو ٹکٹ دیا گیا، ن لیگ کا خیال تھا کہ شائستہ پرویز ملک کو ہمدردی کا ووٹ ملے گا، دوسرا تحریک انصاف کا امیدوار نہیں ہوگا تو انکے ووٹ کا بڑا حصہ بھی ن لیگ کے حصے میں جائے گا ۔ تحریک انصاف کے مقامی رہنما ایک لاکھ تک ووٹ کی امید کئے بیٹھے تھے۔

این اے 133 لاہور کے بڑے حلقوں میں شمار ہوتا ہے، اس حلقے کے نیچے 3 صوبائی حلقے ہیں اور کل 254 پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ یہ حلقہ ٹاؤن شپ، کوٹ لکھپت اسٹیشن، پھاٹکی، پنڈی راجپوتاں، تہایت موڑ، قینچی امرسدھو، بہار کالونی، گرین ٹاؤن، انڈسٹریل اسٹیٹ، پیکوروڈ پر مشتمل ہے جبکہ ماڈل ٹاؤن، باگڑیاں کا کچھ حصہ بھی اس حلقے میں آتا ہے۔

اگر این اے 133 میں 2018 اور 2021 کے الیکشن کا موازنہ کیا جائے تواس بار مسلم لیگ ن کو ہمدردیوں، تحریک انصاف اور ٹی ایل پی کی غیرموجودگی، پیسہ پانی کی طرح بہانے، بھرپور الیکشن مہم کے باوجود 43 ہزار کے قریب کم ووٹ ملے جبکہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ بھی 2018 کے مقابلے میں 34 فیصد کم رہا۔

na-133.jpg


اگر مسلم لیگ ن کے 46811 ووٹ اور پیپلزپارٹی کو ملنے والے 32 ہزار 313 ووٹوں کو جمع کیا جائے تو کل ووٹ 78942 بنتے ہیں اور دونوں جماعتوں کے ووٹ ن لیگ کو 2018 میں ملنے والے ووٹوں سے بھی 10 ہزار 757 ووٹ کم ہیں۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو 2018 کا ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب ووٹ ایسا ہے جو اس الیکشن میں ووٹ ڈالنے نہیں آیا۔

سوال یہ ابھرتا ہے کہ پیپلزپارٹی کو الیکشن 2018 میں 5500 ووٹوں کے مقابلے میں اس بار 32 ہزار 313 ووٹ کیسے پڑگئے؟ اسکے مختلف فیکٹرز ہیں، ایک فیکٹر تو سوشل میڈیا پر سب نے دیکھا کہ پیپلزپارٹی نے پیسہ پانی کی طرح بہایا، ووٹ خریدے، ہر پراپرٹی ڈیلر اور خالی دکان کواپنا انتخابی دفتر بنوایا۔ دوسرا فیکٹر تحریک انصاف کے ووٹوں سے کچھ حصہ پیپلزپارٹی کو ملنا ہے۔

تیسرا فیکٹر ٹی ایل پی اور طاہرالقادری کی منہاج القرآن سے ووٹ کا کچھ حصہ ملنا ہے، خیال رہے کہ طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک نے پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان کررکھا تھا اور اس حلقے میں طاہرالقادری کی جماعت کا ووٹ 10 سے 12 ہزار ہے جبکہ اس حلقے میں شیعہ ووٹ بنک بھی بڑی تعداد میں شامل ہے اور پیپلزپارٹی مجلس وحدت المسلمین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

ایک اور فیکٹر یہاں پر مسیحی آبادیوں کا ہونا ہے، یہ مسیحی آبادی پہلے پیپلزپارٹی اور پھر تحریک انصاف کی ووٹر بنی، ن لیگ کو یہاں ووٹ بہت کم ملتا ہے، اس حلقے کی مسیحی آبادی کا کوئی پرسان حال نہیں، یہ لوگ انتہائی غریب اور پسماندہ ہیں جن کا گزر بسر گلی محلوں میں چھوٹی موٹی دکانداری، صفائی ستھرائی، تابوت بناکر ہوتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے اس مسیحی آبادی میں پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے۔

ویسے بھی سیاست میں خلا کسی نہ کسی نے پر کرنا ہوتا ہے، تحریک انصاف میدان میں نہیں تھی تو خلا پیپلزپارٹی نے پر کیا، 2023 میں تحریک انصاف دوبارہ میدان میں ہوگی تو ہوسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی دوبارہ 5500 ووٹوں پر آجائے۔

اگر اس حلقے میں تحریک انصاف میدان میں ہوتی تو ن لیگ اور تحریک انصاف میں کانٹے کا مقابلہ ہوتا، تحریک انصاف کا ووٹر بھی نکلتا اور ن لیگ کا ووٹر جو گھر بیٹھا ہوا تھا وہ بھی پولنگ اسٹیشنز کا رخ کرتا۔ووٹنگ ٹرن آؤٹ بھی زیادہ ہوتا لیکن الیکشن والے دن تحریک انصاف کا ووٹر لاتعلق ہوکر گھر بیٹھا رہا ۔
 
Advertisement

iftikharalam

Minister (2k+ posts)
Agar PTI ka thora saa voter bhi bahar nikal ker PPP ko vote dai deta tu PML N nai LAhore main zaleel ho jana thaa...
 
Sponsored Link