تبدیلی آرہی ہے؟ شوکت ترین کی کانفرنس کے اہم نقاط

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
محترم شوکت ترین کے وزیر خزانہ بننے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انکو ٹیلیویژن اسکرین پر عوام سے براہ راست مخاطب دیکھا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی عندیہ دے دیا گیا کہ پہلے سے اب کیا مختلف ہونے جارہا ہے۔ وہ پہلے ہی عوام کو دماغی طور پر تیّار کرتے نظر آرہے ہیں کہ ہم پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف سے ضرور جھگڑا کریں گے، لیکن نتائج جو بھی نکلیں، اسکا ذمّہ دار حکومت کو نہیں ٹھہرانا۔

یہ ایک اچھا سیف گارڈ ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ باتیں وہ بہت اچھے طریقے سے دبے لفظوں میں سمجھا گئے ہیں، اور یہ بنیادی نقاط غور کرنے کے قابل ہیں۔

۱
اسٹیٹ بینک کی خودمختاری:

دوران پریس کانفرنس، شوکت ترین نے اس بات کا عندیہ دو مرتبہ دیا کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختاری نہیں دی جارہی۔ اسکا پہلا عندیہ یہ تھا کہ جب انھوں نے فرمایا کہ حکومت کی پالیسی میں سب سے اہم ہے پرائس کنٹرول، یعنی قیمتوں پر قابو پانا۔ خیر اس بات سے تمام بات تو واضع نہیں ہوتی، بلکہ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے ہی پرائس کنٹرول پر مناسب قابو پایا جاسکتا ہے، لیکن اس کے بعد جب انھوں نے حکومتی پلان کے بارے مین بتایا کہ اسٹیٹ بینک کو کہا جارہا ہے کہ چھوٹے اور متوسط کاروباروں کے لیئے دیئے جانے والے قرضوں کو ایک لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ تک تو کم از کم لے کر جاٰٗئیں۔ ساتھ ہی ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ آڑتی برادری کی ناجائز منافع خوری کو ختم کرنے اور کسانوں کے مالی استحصال سے بچنے کے لیئے شارٹ ٹرم پالیسی یہی ہے کہ بنیادی اشیاء خردونوش کے لیئے حکومت اسٹریٹجک ریزرو بنانے جا رہی ہے۔ تو اسکا مطلب ہے کہ حکومت خود ہی پرائس کنٹرول اسٹریٹجی بنا رہی ہے، ورنہ وہ صاف کہہ دیتے کہ اب یہ کام اسٹیٹ بینک کا ہے، جب ہم اسے مکمّل آزاد ادارہ بنا دیں گے، نیب، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی طرح۔

۲۔
نیب کے مسائل سے چھٹکارا:

ایک اور بات جو سامنے آئی وہ ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ نے یہ کوشش کرے ہوئے کہ وہ کسی سیاسی بیان سے پرہیز کریں، ایک سوال کے جواب میں صاف طور پر بتایا کہ وہ نیب کی کاروائی پر بھروسہ نہیں رکھتے اور اسی لیئے وہ اپنی پالیسی مین کہیں بھی نیب کو نہیں دیکھتے۔ انکا خیال یہی رہا کہ نیب جب تک گمشدہ دولت کا سراغ لگائے گا، تب تک پانی سر سے اوپر ہوچکا ہوگا، لہٰذا ہمیں بھی بہ طور قوم، نیب کی طرف دیکھنا بند کردینا چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں جہاں احتساب پر اتنا زور دیا گیا، پاکستان کی بیوروکریسی نے ڈر کے مارے کام کرنا بند کردیا ہے۔ لہٰذا اس اثر کو بھی زائل کرنے کی اشہد ضرورت ہے۔

۳۔
سیاسی ہم آہنگی کا اہتمام

عمران خان صاحب کی حکومت کا اب تک یہ خاصہ رہا ہے کہ انھوں نے کسی بھی صورت کسی کرپٹ عناصر کے ساتھ کسی قسم کی گفت و شنید کی لیئے ایک انچ جگہہ بھی نہیں چھوڑی۔ جس کی وجہ سے پارلیمنٹ اور سینیٹ دونوں گزشتہ تین سال سے مچھلی بازار بنے ہوئے ہیں۔ لیکن شوکت ترین صاحب نے یہ عندیہ دیا ہے کہ ملک کی بہتر معاشی صورتحال کے لیئے ایک سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اب اس بات پر عمران خان کو بھی قائل کرلیا گیا ہے کہ اگر جہانگیر ترین، علیم خان اور پرویز خٹک کے ساتھ مل کر پارٹی چلائی جاسکتی ہے، تو یہ لوگ بھی قریباً اسی قبیلے کے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ کوئی کرپشن کی ڈیل نہ کریں، لیکن ملک میں ایک سیاسی استحکام کی فضاء ضرور قائم کریں، تاکہ ملک میں انویسٹمنٹ آئے۔ پیسہ بہت شرمیلا ہوتا ہے، اور آئے دن کے دھرنے اور احتجاجوں کو دیکھ کر یہ فوراً کسی ڈرپوک چڑیا کی طرح اڑ جاتا ہے۔ بھئ بات یہ ہے کہ احتساب کرنا عدلیہ اور نیب کا کام ہے اور وہ آپ کے نیچے تو ہیں نہیں، نہ ہی آپ کی سنتے ہیں، تو آپ کیوں احتساب کا نعرہ بلند کر کے اپنا سیاسی استحکام مجروح کرتے ہیں؟ آپ صرف ان اداروں میں احتساب کا کام شروع کریں جہاں آپ کے اختیارات ہیں۔ نیب اور عدلیہ کی حرکتوں کی وجہ سے اپنے آپ کو عوام کے سامنے ذلیل مت کروائیں۔ بہرحال، مجھے یہ دلیل قابل فہم لگتی ہے۔

۴۔
تجارتی مافیا پر کریک ڈاوٗن:

شوکت ترین کی پریس کانفرنس میں سب سے بڑا عندیہ مہنگائی پر قابو پانے اور ملک میں معاشی ترقی کو نچلے طبقے تک پہنچانے کے ضمن میں بارہا اس بات کا ذکر آیا کہ آڑتی یعنی مڈل مین کی ناجائز منافع خوری اور کسان کے مالی استحصال کی وجہ سے ہم آج اس جگہہ پر کھڑے ہیں کہ جہاں ہمیں ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی بنیادی اشیاء خوردونوش کے لیئے درآمدات کرنی پڑ رہی ہیں۔ قیمتیں آسمان پر پہنچ رہی ہیں اور پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں حکومت نے نہ صرف چھوٹے کسانوں کو حکومتی قرضے دینے کا ارادہ کیا ہے، بلکہ اس آڑتی سسٹم کو بھی سیدھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسمیں سب سے پہلے ان کی کمر توڑنے کے لیئے حکومت اسٹریٹجک ریزرو قائم کرے گی کہ جہاں کہیں بھی پاکستان کے شہروں میں یہ بنیادی اشیاء خورد و نوش کو مصنوعی قلّت پیدا کرنے کے لیئے غائب کرنے کی کوشش کریں گے تو حکومت اس جگہہ پر خود پیسہ ڈال کر وہ اشیاء اپنے پاس ذخیرہ کرسکتی ہے اور بعد از جب یہ زیادہ قیمت پر ان اشیاء کو بیچنے کی کوشش کرینگے تو حکومت اپنے ذخیرے میں سے وہی اشیاء مارکیٹ میں سستے داموں چھوڑ دے گی تاکہ ان کی کمر توڑی جاسکے۔ یہ ایک بہت بہتر اسٹریٹجی ہے۔ اس کے بعد حکومت لانگ ٹرم پلاننگ میں کسانوں کے لیئے کولڈ اسٹوریج اور کماڈٹی ایکچینج کا بھی قیام عمل میں لائے گی کہ جہاں پر کوئی بھی کسان کسی آڑتی کے آگے اپنی سڑتی ہوئی فصل بیچنے کے لیئے ایڑیاں نہ رگڑے، بلکہ حکومتی ریٹ کے اوپر کماڈٹی ایکسچینج میں اپنی فصل ایک جائز منافع پر بیچ دے۔ یا پھر مناسب کرائے پر کولڈ اسٹوریج میں رکھوا دے۔

لیکن اس سب سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس آڑتی بزنس، یعنی چیزوں کی مصنوعی قلّت پیدا کرنے والوں پر اب برے دن آنے والے ہیں۔

۵۔
افسر شاہی کا خاتمہ:

پاکستان کے معاشی استحکام کے لیئے اس بات پر بھی توّجہ دی گئی کہ صرف تجارتی خسارہ کم کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ حکومتی خرچے کم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیئے جن سرکاری محکموں کا فعالیت ہی اب نہیں یا انکا جواز نہیں انکو ختم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی سرکاری کاروباری اداروں کی نجکاری بھی جلد از جلد ہوجائے گی اور اس مسئلے میں حکومت اب کچھ مزید سننے کو موڈ میں نہیں ہے۔ ان داروں پر ہر سال جو اربوں روپیہ ڈبویا جاتا ہے، اس سے جان چھڑائی جائے گی۔

لیکن اس سب میں جو سب سے اہم بات نوٹ کرنے کی تھی وہ یہ کہ بیوروکریسی میں اب تنخواہوں کا بھی نظام کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔ جو زیادہ کام کرے گا، اسے زیادہ تنخواہ ملے گی اور جسکے کام کی ضرورت نہیں، اسے گھر بھیج دیا جائے گا۔اس سلسلے میں شنید یہ ہے کہ ایک سروے پہلے ہی ہوچکا ہے اور ایک پلان تیّار ہے جس میں اسّی ہزار غیر ضروری سرکاری اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا جائے گا، لیکن کرونا کی وجہ سے حکومت اب تک یہ اقدام نہیں لے سکی کہ اس وقت ایسا کرنے سے بیروزگاری کا گراف یکدم بہت اوپر چلا جائے گا۔ اس کے لیئے کسی ایسے موقع کا انتظار کیا جارہا ہے کہ جس پرائیویٹ انڈسٹری چل رہی ہو تاکہ برطرف کیئے گئے ملازمین کو فوری طور پراوئیویٹ سیکٹر میں نوکریاں مل جائیں۔


باقی تمام گپ شپ وہی تھی جو ہم ہر وزیر خزانہ کے منہہ سے سنتے آرہے ہیں۔ لیکن یہ چند نکات ایسے ہیں جن کی بنیاد پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک کی معیشت اور خاص کر عام عوام کی مہنگائی سے بڑھتی پریشانی کو کم کیا جاسکے گا۔

کسی بھلے مانس نے کہا تھا کہ خان صاحب، ہماری اسّی فیصد آبادی یہ تجارتی خسارہ، ڈالر کی قیمت، بجلی کی کپیسٹی پیمنٹ اور دیگر اسطرح کی ٹیکنیکل باتوں کو نہیں سمجھتی، یہ صرف روٹی کی قیمت پر حکومت کی کارکردگی کو پرکھتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ بات درست ہے۔ جب تک روٹی کی قیمت کم نہیں ہوگی، خان صاحب الٹا بھی لٹک جائیں، یہ قوم نہیں مانے گی کہ معیشت کہیں سے بہتر بھی ہوئی ہے۔

لیکن آخری بات جو شوکت ترین صاحب قوم کو سمجھا گئے ہیں کہ ہم خود لعنت بھیجتے ہیں آئی ایم ایف پر اور ہم پاکستانی عوام کی طرف سے لڑنے جارہے ہیں ان سے، لیکن پھر بھی قوم کسی بھی قسم کی مزید سختیوں کے لیئے تیّار رہے اور موجودہ حکومت کو اسکا ذمّدار نہ ٹھہرائے
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Resident Evil

Senator (1k+ posts)
محترم شوکت ترین کے وزیر خزانہ بننے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انکو ٹیلیویژن اسکرین پر عوام سے براہ راست مخاطب دیکھا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی عندیہ دے دیا گیا کہ پہلے سے اب کیا مختلف ہونے جارہا ہے۔ وہ پہلے ہی عوام کو دماغی طور پر تیّار کرتے نظر آرہے ہیں کہ ہم پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف سے ضرور جھگڑا کریں گے، لیکن نتائج جو بھی نکلیں، اسکا ذمّہ دار حکومت کو نہیں ٹھہرانا۔

یہ ایک اچھا سیف گارڈ ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ باتیں وہ بہت اچھے طریقے سے دبے لفظوں میں سمجھا گئے ہیں، اور یہ بنیادی نقاط غور کرنے کے قابل ہیں۔

۱
اسٹیٹ بینک کی خودمختاری:

دوران پریس کانفرنس، شوکت ترین نے اس بات کا عندیہ دو مرتبہ دیا کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختاری نہیں دی جارہی۔ اسکا پہلا عندیہ یہ تھا کہ جب انھوں نے فرمایا کہ حکومت کی پالیسی میں سب سے اہم ہے پرائس کنٹرول، یعنی قیمتوں پر قابو پانا۔ خیر اس بات سے تمام بات تو واضع نہیں ہوتی، بلکہ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے ہی پرائس کنٹرول پر مناسب قابو پایا جاسکتا ہے، لیکن اس کے بعد جب انھوں نے حکومتی پلان کے بارے مین بتایا کہ اسٹیٹ بینک کو کہا جارہا ہے کہ چھوٹے اور متوسط کاروباروں کے لیئے دیئے جانے والے قرضوں کو ایک لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ تک تو کم از کم لے کر جاٰٗئیں۔ ساتھ ہی ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ آڑتی برادری کی ناجائز منافع خوری کو ختم کرنے اور کسانوں کے مالی استحصال سے بچنے کے لیئے شارٹ ٹرم پالیسی یہی ہے کہ بنیادی اشیاء خردونوش کے لیئے حکومت اسٹریٹجک ریزرو بنانے جا رہی ہے۔ تو اسکا مطلب ہے کہ حکومت خود ہی پرائس کنٹرول اسٹریٹجی بنا رہی ہے، ورنہ وہ صاف کہہ دیتے کہ اب یہ کام اسٹیٹ بینک کا ہے، جب ہم اسے مکمّل آزاد ادارہ بنا دیں گے، نیب، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی طرح۔

۲۔
نیب کے مسائل سے چھٹکارا:

ایک اور بات جو سامنے آئی وہ ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ نے یہ کوشش کرے ہوئے کہ وہ کسی سیاسی بیان سے پرہیز کریں، ایک سوال کے جواب میں صاف طور پر بتایا کہ وہ نیب کی کاروائی پر بھروسہ نہیں رکھتے اور اسی لیئے وہ اپنی پالیسی مین کہیں بھی نیب کو نہیں دیکھتے۔ انکا خیال یہی رہا کہ نیب جب تک گمشدہ دولت کا سراغ لگائے گا، تب تک پانی سر سے اوپر ہوچکا ہوگا، لہٰذا ہمیں بھی بہ طور قوم، نیب کی طرف دیکھنا بند کردینا چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں جہاں احتساب پر اتنا زور دیا گیا، پاکستان کی بیوروکریسی نے ڈر کے مارے کام کرنا بند کردیا ہے۔ لہٰذا اس اثر کو بھی زائل کرنے کی اشہد ضرورت ہے۔

۳۔
سیاسی ہم آہنگی کا اہتمام

عمران خان صاحب کی حکومت کا اب تک یہ خاصہ رہا ہے کہ انھوں نے کسی بھی صورت کسی کرپٹ عناصر کے ساتھ کسی قسم کی گفت و شنید کی لیئے ایک انچ جگہہ بھی نہیں چھوڑی۔ جس کی وجہ سے پارلیمنٹ اور سینیٹ دونوں گزشتہ تین سال سے مچھلی بازار بنے ہوئے ہیں۔ لیکن شوکت ترین صاحب نے یہ عندیہ دیا ہے کہ ملک کی بہتر معاشی صورتحال کے لیئے ایک سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اب اس بات پر عمران خان کو بھی قائل کرلیا گیا ہے کہ اگر جہانگیر ترین، علیم خان اور پرویز خٹک کے ساتھ مل کر پارٹی چلائی جاسکتی ہے، تو یہ لوگ بھی قریباً اسی قبیلے کے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ کوئی کرپشن کی ڈیل نہ کریں، لیکن ملک میں ایک سیاسی استحکام کی فضاء ضرور قائم کریں، تاکہ ملک میں انویسٹمنٹ آئے۔ پیسہ بہت شرمیلا ہوتا ہے، اور آئے دن کے دھرنے اور احتجاجوں کو دیکھ کر یہ فوراً کسی ڈرپوک چڑیا کی طرح اڑ جاتا ہے۔ بھئ بات یہ ہے کہ احتساب کرنا عدلیہ اور نیب کا کام ہے اور وہ آپ کے نیچے تو ہیں نہیں، نہ ہی آپ کی سنتے ہیں، تو آپ کیوں احتساب کا نعرہ بلند کر کے اپنا سیاسی استحکام مجروح کرتے ہیں؟ آپ صرف ان اداروں میں احتساب کا کام شروع کریں جہاں آپ کے اختیارات ہیں۔ نیب اور عدلیہ کی حرکتوں کی وجہ سے اپنے آپ کو عوام کے سامنے ذلیل مت کروائیں۔ بہرحال، مجھے یہ دلیل قابل فہم لگتی ہے۔

۴۔
تجارتی مافیا پر کریک ڈاوٗن:

شوکت ترین کی پریس کانفرنس میں سب سے بڑا عندیہ مہنگائی پر قابو پانے اور ملک میں معاشی ترقی کو نچلے طبقے تک پہنچانے کے ضمن میں بارہا اس بات کا ذکر آیا کہ آڑتی یعنی مڈل مین کی ناجائز منافع خوری اور کسان کے مالی استحصال کی وجہ سے ہم آج اس جگہہ پر کھڑے ہیں کہ جہاں ہمیں ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی بنیادی اشیاء خوردونوش کے لیئے درآمدات کرنی پڑ رہی ہیں۔ قیمتیں آسمان پر پہنچ رہی ہیں اور پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں حکومت نے نہ صرف چھوٹے کسانوں کو حکومتی قرضے دینے کا ارادہ کیا ہے، بلکہ اس آڑتی سسٹم کو بھی سیدھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسمیں سب سے پہلے ان کی کمر توڑنے کے لیئے حکومت اسٹریٹجک ریزرو قائم کرے گی کہ جہاں کہیں بھی پاکستان کے شہروں میں یہ بنیادی اشیاء خورد و نوش کو مصنوعی قلّت پیدا کرنے کے لیئے غائب کرنے کی کوشش کریں گے تو حکومت اس جگہہ پر خود پیسہ ڈال کر وہ اشیاء اپنے پاس ذخیرہ کرسکتی ہے اور بعد از جب یہ زیادہ قیمت پر ان اشیاء کو بیچنے کی کوشش کرینگے تو حکومت اپنے ذخیرے میں سے وہی اشیاء مارکیٹ میں سستے داموں چھوڑ دے گی تاکہ ان کی کمر توڑی جاسکے۔ یہ ایک بہت بہتر اسٹریٹجی ہے۔ اس کے بعد حکومت لانگ ٹرم پلاننگ میں کسانوں کے لیئے کولڈ اسٹوریج اور کماڈٹی ایکچینج کا بھی قیام عمل میں لائے گی کہ جہاں پر کوئی بھی کسان کسی آڑتی کے آگے اپنی سڑتی ہوئی فصل بیچنے کے لیئے ایڑیاں نہ رگڑے، بلکہ حکومتی ریٹ کے اوپر کماڈٹی ایکسچینج میں اپنی فصل ایک جائز منافع پر بیچ دے۔ یا پھر مناسب کرائے پر کولڈ اسٹوریج میں رکھوا دے۔

لیکن اس سب سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس آڑتی بزنس، یعنی چیزوں کی مصنوعی قلّت پیدا کرنے والوں پر اب برے دن آنے والے ہیں۔

۵۔
افسر شاہی کا خاتمہ:

پاکستان کے معاشی استحکام کے لیئے اس بات پر بھی توّجہ دی گئی کہ صرف تجارتی خسارہ کم کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ حکومتی خرچے کم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیئے جن سرکاری محکموں کا فعالیت ہی اب نہیں یا انکا جواز نہیں انکو ختم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی سرکاری کاروباری اداروں کی نجکاری بھی جلد از جلد ہوجائے گی اور اس مسئلے میں حکومت اب کچھ مزید سننے کو موڈ میں نہیں ہے۔ ان داروں پر ہر سال جو اربوں روپیہ ڈبویا جاتا ہے، اس سے جان چھڑائی جائے گی۔

لیکن اس سب میں جو سب سے اہم بات نوٹ کرنے کی تھی وہ یہ کہ بیوروکریسی میں اب تنخواہوں کا بھی نظام کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔ جو زیادہ کام کرے گا، اسے زیادہ تنخواہ ملے گی اور جسکے کام کی ضرورت نہیں، اسے گھر بھیج دیا جائے گا۔اس سلسلے میں شنید یہ ہے کہ ایک سروے پہلے ہی ہوچکا ہے اور ایک پلان تیّار ہے جس میں اسّی ہزار غیر ضروری سرکاری اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا جائے گا، لیکن کرونا کی وجہ سے حکومت اب تک یہ اقدام نہیں لے سکی کہ اس وقت ایسا کرنے سے بیروزگاری کا گراف یکدم بہت اوپر چلا جائے گا۔ اس کے لیئے کسی ایسے موقع کا انتظار کیا جارہا ہے کہ جس پرائیویٹ انڈسٹری چل رہی ہو تاکہ برطرف کیئے گئے ملازمین کو فوری طور پراوئیویٹ سیکٹر میں نوکریاں مل جائیں۔


باقی تمام گپ شپ وہی تھی جو ہم ہر وزیر خزانہ کے منہہ سے سنتے آرہے ہیں۔ لیکن یہ چند نکات ایسے ہیں جن کی بنیاد پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک کی معیشت اور خاص کر عام عوام کی مہنگائی سے بڑھتی پریشانی کو کم کیا جاسکے گا۔

کسی بھلے مانس نے کہا تھا کہ خان صاحب، ہماری اسّی فیصد آبادی یہ تجارتی خسارہ، ڈالر کی قیمت، بجلی کی کپیسٹی پیمنٹ اور دیگر اسطرح کی ٹیکنیکل باتوں کو نہیں سمجھتی، یہ صرف روٹی کی قیمت پر حکومت کی کارکردگی کو پرکھتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ بات درست ہے۔ جب تک روٹی کی قیمت کم نہیں ہوگی، خان صاحب الٹا بھی لٹک جائیں، یہ قوم نہیں مانے گی کہ معیشت کہیں سے بہتر بھی ہوئی ہے۔

لیکن آخری بات جو شوکت ترین صاحب قوم کو سمجھا گئے ہیں کہ ہم خود لعنت بھیجتے ہیں آئی ایم ایف پر اور ہم پاکستانی عوام کی طرف سے لڑنے جارہے ہیں ان سے، لیکن پھر بھی قوم کسی بھی قسم کی مزید سختیوں کے لیئے تیّار رہے اور موجودہ حکومت کو اسکا ذمّدار نہ ٹھہرائے
سر جی' اَپن کو کچھ جیادہ خوشی فہمی نہیں،، پھر بھی
کپتان کی نیّت کو دیکھتے ہوئے اُسکو آخری گیند تک دیکھنے پر متّفق ہوں

Click on Link,,
https://siasat.pk/forums/threads/پی-پی-84-ضمنی-انتخاب-ن-لیگی-امیدوار-معظم-شیر-کلو-کو-برتری-حاصل.786337/#post-6126432
 
Last edited:

kakamuna420

Chief Minister (5k+ posts)
A bank manager was sent to UK to head 4 branches of a bankrupt bank as a country manager. That made him qualified to lead economies and talk about finance. LOL

This is the same as a lohar was asked to become a lead politician of this country
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
سر جی' اَپن کو کچھ جیادہ خوشی فہمی نہیں،، پھر بھی
کپتان کی نیّت کو دیکھتے ہوئے اُسکو آخری گیند تک دیکھنے پر متّفق ہوں

Click on Link,,
https://siasat.pk/forums/threads/پی-پی-84-ضمنی-انتخاب-ن-لیگی-امیدوار-معظم-شیر-کلو-کو-برتری-حاصل.786337/#post-6126432
میں آپ کی بات سے تھوڑا سا اختلاف ضرور کروں گا اور وہ یہ مخالف پارٹیوں کا پلڑا جتنا بھاری ہوسکتا تھا، اتنا نہ ہوسکا، اور یہی وجہ ہے آئے روز ان کے پیٹ میں نئے مروڑ اٹھنے کی۔ جسکو بھی معیشت کی الف بے کا بھی اندازہ ہو تو وہ معیشت کی ان حالات میں واپسی کو دیکھ بھی سکتا ہے اور اسکو کسی معجزہ نہ سہی، لیکن کسی اچنبھے سے کم نہیں گردانتا۔

ہاں، لیکن اب لگتا ہے کہ خان نے آخری دس اوور والی اننگ کھیلنے کا اعلان کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں، یہ تمام ذی شعور جانتے ہیں، لیکن دوسری جانب خان نے قیمتیں کم کرنے کے لیئے شائد اب اپنے بلّے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا کہہ دیا ہے، اب ہر مہینے ایک نہ ایک باوٗنڈری ضرور لگتی نظر آئے گی۔ اسمیں بہت ساری وکٹیں حکومت کی گرنے کا بھی خطرہ ہے۔ لیکن گیم اب فاسٹ ٹریک ہوتی نظر آرہی ہے۔
 
Last edited:

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
A bank manager was sent to UK to head 4 branches of a bankrupt bank as a country manager. That made him qualified to lead economies and talk about finance. LOL

This is the same as a lohar was asked to become a lead politician of this country
I get your point. But just listen to his Presscon, he has mentioned it multiple times that Hammad Azhar had been doing this and he had been doing that.

Hammad Azhar seems to be active in the background. IK has not totally pulled him out.

I think there is more of a political conundrum in choosing Shaukat Tareen as FM.
 

kakamuna420

Chief Minister (5k+ posts)
I get your point. But just listen to his Presscon, he has mentioned it multiple times that Hammad Azhar had been doing this and he had been doing that.

Hammad Azhar seems to be active in the background. IK has not totally pulled him out.

I think there is more of a political conundrum in choosing Shaukat Tareen as FM.
a bad carpenter fights with his tools.
In any case, he should show us his VISION and PLAN. If not, go home.
 

Rajarawal111

Chief Minister (5k+ posts)
محترم شوکت ترین کے وزیر خزانہ بننے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انکو ٹیلیویژن اسکرین پر عوام سے براہ راست مخاطب دیکھا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی عندیہ دے دیا گیا کہ پہلے سے اب کیا مختلف ہونے جارہا ہے۔ وہ پہلے ہی عوام کو دماغی طور پر تیّار کرتے نظر آرہے ہیں کہ ہم پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف سے ضرور جھگڑا کریں گے، لیکن نتائج جو بھی نکلیں، اسکا ذمّہ دار حکومت کو نہیں ٹھہرانا۔

یہ ایک اچھا سیف گارڈ ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ باتیں وہ بہت اچھے طریقے سے دبے لفظوں میں سمجھا گئے ہیں، اور یہ بنیادی نقاط غور کرنے کے قابل ہیں۔

۱
اسٹیٹ بینک کی خودمختاری:

دوران پریس کانفرنس، شوکت ترین نے اس بات کا عندیہ دو مرتبہ دیا کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختاری نہیں دی جارہی۔ اسکا پہلا عندیہ یہ تھا کہ جب انھوں نے فرمایا کہ حکومت کی پالیسی میں سب سے اہم ہے پرائس کنٹرول، یعنی قیمتوں پر قابو پانا۔ خیر اس بات سے تمام بات تو واضع نہیں ہوتی، بلکہ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے ہی پرائس کنٹرول پر مناسب قابو پایا جاسکتا ہے، لیکن اس کے بعد جب انھوں نے حکومتی پلان کے بارے مین بتایا کہ اسٹیٹ بینک کو کہا جارہا ہے کہ چھوٹے اور متوسط کاروباروں کے لیئے دیئے جانے والے قرضوں کو ایک لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ تک تو کم از کم لے کر جاٰٗئیں۔ ساتھ ہی ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ آڑتی برادری کی ناجائز منافع خوری کو ختم کرنے اور کسانوں کے مالی استحصال سے بچنے کے لیئے شارٹ ٹرم پالیسی یہی ہے کہ بنیادی اشیاء خردونوش کے لیئے حکومت اسٹریٹجک ریزرو بنانے جا رہی ہے۔ تو اسکا مطلب ہے کہ حکومت خود ہی پرائس کنٹرول اسٹریٹجی بنا رہی ہے، ورنہ وہ صاف کہہ دیتے کہ اب یہ کام اسٹیٹ بینک کا ہے، جب ہم اسے مکمّل آزاد ادارہ بنا دیں گے، نیب، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی طرح۔

۲۔
نیب کے مسائل سے چھٹکارا:

ایک اور بات جو سامنے آئی وہ ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ نے یہ کوشش کرے ہوئے کہ وہ کسی سیاسی بیان سے پرہیز کریں، ایک سوال کے جواب میں صاف طور پر بتایا کہ وہ نیب کی کاروائی پر بھروسہ نہیں رکھتے اور اسی لیئے وہ اپنی پالیسی مین کہیں بھی نیب کو نہیں دیکھتے۔ انکا خیال یہی رہا کہ نیب جب تک گمشدہ دولت کا سراغ لگائے گا، تب تک پانی سر سے اوپر ہوچکا ہوگا، لہٰذا ہمیں بھی بہ طور قوم، نیب کی طرف دیکھنا بند کردینا چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں جہاں احتساب پر اتنا زور دیا گیا، پاکستان کی بیوروکریسی نے ڈر کے مارے کام کرنا بند کردیا ہے۔ لہٰذا اس اثر کو بھی زائل کرنے کی اشہد ضرورت ہے۔

۳۔
سیاسی ہم آہنگی کا اہتمام

عمران خان صاحب کی حکومت کا اب تک یہ خاصہ رہا ہے کہ انھوں نے کسی بھی صورت کسی کرپٹ عناصر کے ساتھ کسی قسم کی گفت و شنید کی لیئے ایک انچ جگہہ بھی نہیں چھوڑی۔ جس کی وجہ سے پارلیمنٹ اور سینیٹ دونوں گزشتہ تین سال سے مچھلی بازار بنے ہوئے ہیں۔ لیکن شوکت ترین صاحب نے یہ عندیہ دیا ہے کہ ملک کی بہتر معاشی صورتحال کے لیئے ایک سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اب اس بات پر عمران خان کو بھی قائل کرلیا گیا ہے کہ اگر جہانگیر ترین، علیم خان اور پرویز خٹک کے ساتھ مل کر پارٹی چلائی جاسکتی ہے، تو یہ لوگ بھی قریباً اسی قبیلے کے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ کوئی کرپشن کی ڈیل نہ کریں، لیکن ملک میں ایک سیاسی استحکام کی فضاء ضرور قائم کریں، تاکہ ملک میں انویسٹمنٹ آئے۔ پیسہ بہت شرمیلا ہوتا ہے، اور آئے دن کے دھرنے اور احتجاجوں کو دیکھ کر یہ فوراً کسی ڈرپوک چڑیا کی طرح اڑ جاتا ہے۔ بھئ بات یہ ہے کہ احتساب کرنا عدلیہ اور نیب کا کام ہے اور وہ آپ کے نیچے تو ہیں نہیں، نہ ہی آپ کی سنتے ہیں، تو آپ کیوں احتساب کا نعرہ بلند کر کے اپنا سیاسی استحکام مجروح کرتے ہیں؟ آپ صرف ان اداروں میں احتساب کا کام شروع کریں جہاں آپ کے اختیارات ہیں۔ نیب اور عدلیہ کی حرکتوں کی وجہ سے اپنے آپ کو عوام کے سامنے ذلیل مت کروائیں۔ بہرحال، مجھے یہ دلیل قابل فہم لگتی ہے۔

۴۔
تجارتی مافیا پر کریک ڈاوٗن:

شوکت ترین کی پریس کانفرنس میں سب سے بڑا عندیہ مہنگائی پر قابو پانے اور ملک میں معاشی ترقی کو نچلے طبقے تک پہنچانے کے ضمن میں بارہا اس بات کا ذکر آیا کہ آڑتی یعنی مڈل مین کی ناجائز منافع خوری اور کسان کے مالی استحصال کی وجہ سے ہم آج اس جگہہ پر کھڑے ہیں کہ جہاں ہمیں ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی بنیادی اشیاء خوردونوش کے لیئے درآمدات کرنی پڑ رہی ہیں۔ قیمتیں آسمان پر پہنچ رہی ہیں اور پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں حکومت نے نہ صرف چھوٹے کسانوں کو حکومتی قرضے دینے کا ارادہ کیا ہے، بلکہ اس آڑتی سسٹم کو بھی سیدھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسمیں سب سے پہلے ان کی کمر توڑنے کے لیئے حکومت اسٹریٹجک ریزرو قائم کرے گی کہ جہاں کہیں بھی پاکستان کے شہروں میں یہ بنیادی اشیاء خورد و نوش کو مصنوعی قلّت پیدا کرنے کے لیئے غائب کرنے کی کوشش کریں گے تو حکومت اس جگہہ پر خود پیسہ ڈال کر وہ اشیاء اپنے پاس ذخیرہ کرسکتی ہے اور بعد از جب یہ زیادہ قیمت پر ان اشیاء کو بیچنے کی کوشش کرینگے تو حکومت اپنے ذخیرے میں سے وہی اشیاء مارکیٹ میں سستے داموں چھوڑ دے گی تاکہ ان کی کمر توڑی جاسکے۔ یہ ایک بہت بہتر اسٹریٹجی ہے۔ اس کے بعد حکومت لانگ ٹرم پلاننگ میں کسانوں کے لیئے کولڈ اسٹوریج اور کماڈٹی ایکچینج کا بھی قیام عمل میں لائے گی کہ جہاں پر کوئی بھی کسان کسی آڑتی کے آگے اپنی سڑتی ہوئی فصل بیچنے کے لیئے ایڑیاں نہ رگڑے، بلکہ حکومتی ریٹ کے اوپر کماڈٹی ایکسچینج میں اپنی فصل ایک جائز منافع پر بیچ دے۔ یا پھر مناسب کرائے پر کولڈ اسٹوریج میں رکھوا دے۔

لیکن اس سب سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس آڑتی بزنس، یعنی چیزوں کی مصنوعی قلّت پیدا کرنے والوں پر اب برے دن آنے والے ہیں۔

۵۔
افسر شاہی کا خاتمہ:

پاکستان کے معاشی استحکام کے لیئے اس بات پر بھی توّجہ دی گئی کہ صرف تجارتی خسارہ کم کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ حکومتی خرچے کم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیئے جن سرکاری محکموں کا فعالیت ہی اب نہیں یا انکا جواز نہیں انکو ختم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی سرکاری کاروباری اداروں کی نجکاری بھی جلد از جلد ہوجائے گی اور اس مسئلے میں حکومت اب کچھ مزید سننے کو موڈ میں نہیں ہے۔ ان داروں پر ہر سال جو اربوں روپیہ ڈبویا جاتا ہے، اس سے جان چھڑائی جائے گی۔

لیکن اس سب میں جو سب سے اہم بات نوٹ کرنے کی تھی وہ یہ کہ بیوروکریسی میں اب تنخواہوں کا بھی نظام کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔ جو زیادہ کام کرے گا، اسے زیادہ تنخواہ ملے گی اور جسکے کام کی ضرورت نہیں، اسے گھر بھیج دیا جائے گا۔اس سلسلے میں شنید یہ ہے کہ ایک سروے پہلے ہی ہوچکا ہے اور ایک پلان تیّار ہے جس میں اسّی ہزار غیر ضروری سرکاری اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا جائے گا، لیکن کرونا کی وجہ سے حکومت اب تک یہ اقدام نہیں لے سکی کہ اس وقت ایسا کرنے سے بیروزگاری کا گراف یکدم بہت اوپر چلا جائے گا۔ اس کے لیئے کسی ایسے موقع کا انتظار کیا جارہا ہے کہ جس پرائیویٹ انڈسٹری چل رہی ہو تاکہ برطرف کیئے گئے ملازمین کو فوری طور پراوئیویٹ سیکٹر میں نوکریاں مل جائیں۔


باقی تمام گپ شپ وہی تھی جو ہم ہر وزیر خزانہ کے منہہ سے سنتے آرہے ہیں۔ لیکن یہ چند نکات ایسے ہیں جن کی بنیاد پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک کی معیشت اور خاص کر عام عوام کی مہنگائی سے بڑھتی پریشانی کو کم کیا جاسکے گا۔

کسی بھلے مانس نے کہا تھا کہ خان صاحب، ہماری اسّی فیصد آبادی یہ تجارتی خسارہ، ڈالر کی قیمت، بجلی کی کپیسٹی پیمنٹ اور دیگر اسطرح کی ٹیکنیکل باتوں کو نہیں سمجھتی، یہ صرف روٹی کی قیمت پر حکومت کی کارکردگی کو پرکھتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ بات درست ہے۔ جب تک روٹی کی قیمت کم نہیں ہوگی، خان صاحب الٹا بھی لٹک جائیں، یہ قوم نہیں مانے گی کہ معیشت کہیں سے بہتر بھی ہوئی ہے۔

لیکن آخری بات جو شوکت ترین صاحب قوم کو سمجھا گئے ہیں کہ ہم خود لعنت بھیجتے ہیں آئی ایم ایف پر اور ہم پاکستانی عوام کی طرف سے لڑنے جارہے ہیں ان سے، لیکن پھر بھی قوم کسی بھی قسم کی مزید سختیوں کے لیئے تیّار رہے اور موجودہ حکومت کو اسکا ذمّدار نہ ٹھہرائے


اپنے سہیل شجاع پا جی
 

Rajarawal111

Chief Minister (5k+ posts)
سر جی' اَپن کو کچھ جیادہ خوشی فہمی نہیں،، پھر بھی
کپتان کی نیّت کو دیکھتے ہوئے اُسکو آخری گیند تک دیکھنے پر متّفق ہوں

Click on Link,,
https://siasat.pk/forums/threads/پی-پی-84-ضمنی-انتخاب-ن-لیگی-امیدوار-معظم-شیر-کلو-کو-برتری-حاصل.786337/#post-6126432
نہیں نہیں نہیں - کیوں نہیں خوش فہمی -- نالائق تسلیم کر لیا ہے عمران خان کو
الله قسم بہت دکھ ہوتا ہے جب پکے روڑ عمرانی مایوسیوں کا اظہار کرتے ہیں
مجھے اپنی انٹرٹینمنٹ بند ہوتی نظر آتی ہے




me ☝️☝️
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)


اپنے سہیل شجاع پا جی
ہا ہا ہا۔۔۔۔

لیکن راجہ صاحب۔ لکھ لو میری بات بھی، بلکہ میں خود لکھ کر دے رہا ہوں۔ اگلے تین ماہ میں کنزیومر پرائس انڈیکس اوپر جانا بند ہوجائے گا۔

دوسرا جیسے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کی باتیں ہورہی تھیں، حفیظ شیخ کے ہوتے، وہ بھی اب قصہّ پارینہ ہوگئیں۔

باقی باتیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ آجائیں گی۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
نہیں نہیں نہیں - کیوں نہیں خوش فہمی -- نالائق تسلیم کر لیا ہے عمران خان کو
الله قسم بہت دکھ ہوتا ہے جب پکے روڑ عمرانی مایوسیوں کا اظہار کرتے ہیں
مجھے اپنی انٹرٹینمنٹ بند ہوتی نظر آتی ہے




me ☝️☝️
بے فکر رہ، ابھی کچھ عرصے تیری انٹرٹینمنٹ چلتی رہے گی۔ پھر اس کے بعد دوسروں کی انٹرٹینمنٹ کی باری آئے گی۔
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
بے فکر رہ، ابھی کچھ عرصے تیری انٹرٹینمنٹ چلتی رہے گی۔ پھر اس کے بعد دوسروں کی انٹرٹینمنٹ کی باری آئے گی۔
اجلاس میں نجی بجلی گھروں کی پہلی قسط کی ادائیگی سمیت اہم گرانٹس کی منظوری دی گئی جبکہ ادائیگیوں کے اجراء کے ضمن میں وزیر خزانہ کی قیادت میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اجلاس میں ای سی سی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 47 آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز کی مد میں 90 ارب روپے دیئے جائیں گے تاہم 2002 کے پالیسی والے اور نیب کیسز میں ملوث آئی پی پیز کو ادائیگی نہیں کی جائےگی۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
اجلاس میں نجی بجلی گھروں کی پہلی قسط کی ادائیگی سمیت اہم گرانٹس کی منظوری دی گئی جبکہ ادائیگیوں کے اجراء کے ضمن میں وزیر خزانہ کی قیادت میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اجلاس میں ای سی سی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 47 آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز کی مد میں 90 ارب روپے دیئے جائیں گے تاہم 2002 کے پالیسی والے اور نیب کیسز میں ملوث آئی پی پیز کو ادائیگی نہیں کی جائےگی۔
اور یہ بات ہر معاشیات کا طالب علم جانتا ہے کہ کنسٹرکشن ایک ایسی صنعت ہے جس کے چلنے سے ساتھ قریباً چایس صنعتیں اور چل پڑتی ہیں۔

پاکستان میں فورکلوژر کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے بینک اسطرف سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا لوگوں کا جمع کیا ہوا پیسہ بینکوں میں ویسے ہی پڑا رہتا تھا۔ اب وہ پیسہ اکانومی میں چلنا شروع ہوگا۔ بلکہ یوں کہیں کہ اکانومی کو چلائے گا۔

لیکن یہ سب باتیں پہلے سے ہورہی ہیں اور ان پر کام بھی چل رہا ہے۔ قانون آچکا ہے اور ساتھ ہی بینک بھی اور ہاوٗسنگ کے پلان بھی موجود ہیں۔

اس کانفرنس میں جو کچھ نیا تھا وہ یہ ہے کہ اب پرائس کنٹرول کی طرف حکومت جا رہی ہے اور خاص کر مڈل مین یعنی آڑتی کی اجارہ داری ختم کی جارہی ہے، جو کہ نہ صرف ناجائز منافع خوری کرتے ہیں، بلکہ کسانوں اور خریداروں کا مالی استحصال بھی کرتے ہیں۔

انڈسٹری کا پہیّہ کرونا کے باوجود گھما دیا گیا ہے اور یہ درست سمت میں اور درست رفتار کے ساتھ چل پڑا ہے۔ لیکن یہ آٹا، چینی اور تیل مافیا کا بندوبست ہونے جارہا ہے۔ عمران خان کی اتنے عرصے سے اس مافیا سے جنگ چل رہی ہے اور اب ان کی دکھتی نبضوں پر اسکا ہاتھ آچکا ہے۔

اسٹریٹجک ریزرو قائم کرنے کے بعد مافیا کی کمر توڑ دی جائے گی کیونکہ مارکیٹ میں اب حکومت خود ان کے مقابل ہوگی۔
یہ کام اگلے تین ماہ تک پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا، لہٰذا میرا اندازہ یہ ہے کہ اگلے تین ماہ کے بعد کنزیومر پرائس انڈیکس نیچے کی طرف جانا شروع ہوجائے گا۔ چلیں چار مہینے کر لیں۔ اس سے زیادہ کا کام نہیں یہ۔

دراصل عام عوام کے لیئے معاشیات کی ٹیکنیکل چیزیں سمجھنا ممکن نہیں۔ وہ صرف آٹے اور دال کی قیمت سے معاشی ترقی کو ماپتے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ انڈسٹری کا پہیّہ بھلے چلا دیں، لیکن یہ تاجر جو بیچ مین اپنا ناجائز نفع اور مصنوعی قلّت پیدا کرتے ہیں، جب تک ان سے چھٹکارا نہیں ملے گا تب تک معیشت کی ترقی کا اصل اثر عوام تک نہیں پہنچے گا۔
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
اسٹریٹجک ریزرو قائم کرنے کے بعد مافیا کی کمر توڑ دی جائے گی کیونکہ مارکیٹ میں اب حکومت خود ان کے مقابل ہوگی۔
This will be the best strategy but i m still worried that ppl who going to perform it are not honest as most Pakistani's.

This need a very tough task force and quick response team.

Cold storage formula i was thinking from long it can be well connected with Utility stores by doubling the number of stores but again issue is their administration who are looting the institute from long
 

Resident Evil

Senator (1k+ posts)
نہیں نہیں نہیں - کیوں نہیں خوش فہمی -- نالائق تسلیم کر لیا ہے عمران خان کو
الله قسم بہت دکھ ہوتا ہے جب پکے روڑ عمرانی مایوسیوں کا اظہار کرتے ہیں
مجھے اپنی انٹرٹینمنٹ بند ہوتی نظر آتی ہے




me ☝️☝️
یہی تو فرق ہے مجھ جیسے عمرانیوں، اور تم جیسے پٹواری حرامزادوں میں

کہ جب اُنہیں رام گلی کے دلوں کے دیانتداری کے لئے قسم اُٹھانے کے لئے کہا جاتا ہے
تو کسی گندگی کے کیڑے کی طرح،،گندگی میں گھس کر چھپنے لگتے ہیں


https://www.siasat.pk/forums/threads/ملک-دیوالیہ-ہونے-والی-ڈگ-ڈگی-کا-اب-کیا-کریں-؟؟.780949/#post-6081957
 

Shahid Abassi

Minister (2k+ posts)
معیشت کی سمت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک کی بہتری چاہتے ہو یا الیکشن جیتنا مطلوب ہے۔ اگر تو ملک کی بہتری مطلوب ہے تو حفیظ شیخ نے بہترین کام کیا ہے اور ملکی پالیسی اسی لائن پر چلتی رہنی چاہیئے لیکن اس کے بدلے عوام آپ کو زرداری کی طرح پنجاب کی صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ پہلےسسٹینڈ گروتھ کے لئے اکانومی کی مظبوط بیس بنائی جائے ناکہ ن لیگ کی طرح ووٹر کو خوش کرنے کے لئے امپورٹ سستی کرکے اس کے گیٹ کھول دئیے جائیں اور وقتی گروتھ حاصل کی جائے جس کا سارا دارومدار امپورٹ پر ہو۔ ہر سال چھ ارب ڈالر مارکیٹ میں پھینکیں جائے تاکہ ڈالر کنٹرول میں رہے اور ہمارا ڈالروں کا خسارہ ’سالانہ‘ بیس ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے۔ یہ سب کچھ عمران بھی کر سکتا ہے اور بڑے آرام سے اگلا الیکشن جیت سکتا ہے۔ جنہیں اس بات کی سمجھ نہی آتی وہ صرف یہ سوچ لیں کہ اگر عمران ن لیگ کی پالیسی پر ہی چل رہا ہوتا تو تین سال میں ساٹھ ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہمیں مزید سو ارب (پرانے قرض کی قسطیں ملا کر) بیرونی قرضے لینے پر مجبور کر چکا ہوتا۔ عوام خوش ہوتی، تبدیلی کی واہ واہ ہوتی اور سارے وزیر لائق فائق گردانے جاتے، مہنگائی کا نام و نشان تک نہ ہوتا اور وہ اگلا الیکشن ٹو تھرڈ مجارٹی سے جیتتا۔ دس سال حکومت کرتا، اپنا بیگ اٹھاتا اور بچوں کے پاس لندن جا رہتا۔ لیکن ملک جاتا بھاڑ میں، قرضوں کی سلانہ قسط جو اب گیارہ ارب ڈالر ہے وہ ۲۵ ارب ڈالر ہوتی، ایکسپورٹ ایک ٹکا نہ بڑھتی، چھ مہینے میں ملک دیوالیہ ہوجاتا، ایک بریڈ کے لئے ایک بوری رپوؤں کی لے جانی پڑتی، حکومت ن کی ہوتی اور لوگ نواز شریف کے منہ پر سیاہی مل رہے ہوتے۔ اور ہاں فوج بھی قبیلوں میں بٹ کر چِنگ چیوں پر گنیں فٹ کر کے اپنے اپنے علاقے کا دفاع کر رہی ہوتی۔ لوگوں سے چھین کر کھاتی اور ہر لشکر کا ایک فنانسر باہر بھی بیٹھا ہوتا۔

لیکن۔۔۔
عمران خان نے دوسرا رستہ چنا۔ ملک اور عوام کی بہتری کا رستہ، چاہے اس سے درد ہو رہا ہے لوگوں کو سختی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ اس نے ڈالر کنٹرول کرنے پر سالانہ چھ ارب ڈالر خرچ کرنا بند کر دئیے۔ کیونکہ اب اسے کنٹرول کرنے کی قیمت بھی ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر بڑھ رہی تھی اور یہ ایک دو سال تک خود ہی پھٹ کر اڑھائی سو روپئیے پر جا گرنا تھا۔
ڈالر کھلا چھوڑا تو مہنگائی لازم تھی۔ لیکن مہنگائی کی یہ سب سے بڑی وجہ پھر بھی نہی تھی۔
امپورٹ پر قدغن لگی، ریمیٹینسز بڑھائیں اور کچھ ایکسپورٹ میں بھی حل چل ہوئی تو بیس ارب ڈالر سالانہ کا خسارہ ایک ارب سرپلس میں چلا گیا۔ کیا کسی نے داد دی ؟ نہ؟ کیونکہ جاہل قوم ان باتوں کو نہی سمجھتی۔
حالنکہ یہ اتنی بڑی اچیومنٹ تھی کہ کوئی اور ملک ہوتا تو اسی پر اگلا الیکشن جیت جاتا کہ حکومت نے کووڈ کے ہوتے ہوئے بھی ہماری معیشت میں دس ارب ڈالر ایڈ کئے جو کہ پچھلے پندرہ برس میں نہ ہوا تھا۔ اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کیا۔ بدھووں کو کیا معلوم کہ ہماری قومی اکانومی ، ہماری ذاتی اکانومی اور ہمارا دفاع سب کچھ کرنٹ اکاؤنٹ کی مرہون منت ہے۔
امپورٹ کم کی گئی تو سپلائی میں کمی آئی لیکن ڈیمانڈ (لوگوں کے پاس قابلِ خرچ پیسہ) وہی پہلے جتنی تھی۔ یعنی اشیا کی سپلائی کم ڈیمانڈ پہلے والی ہائی۔ یعنی مہنگائی یا انفلیشن کا انسٹینٹ نسخہ۔ دنیا میں جہاں بھی کبھی بھی یہ کیا گیا وہاں چار سے دس سال تک انفلیشن رہا۔ مصر اور یونان ماضی قریب کی مثالیں ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ہم نواز شریف کی حرام زدگیوں کی یہی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ لیکن آنے والی نسلوں کو بچانے کے لئے۔
اب نہ تو عام عوام، نہ پڑھے لکھے اور نہ ہی وزیر اس بات کو سمجھتے ہیں۔ کوئی حکومتی کارندہ اس کا دفاع نہی کر سکا، لوگوں کو بتا نہی سکا۔ احتساب احتساب کا گانا گاتے رہے حالانکہ بیوقوفوں کو معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ یہی احتساب احتساب کی قوالی تمہارے گلے پڑنی ہے کہ فوج کسی کا احتساب نہی ہونے دے گی کہ یہ تو اس کے مہرے ہیں اور ان کی کرپشن کے کیسز تو وہ انہیں بلیک میل کرنے کو استعمال کرتی ہے۔ جب کسی کو سزا نہی ہوگی تو تمہاری قوالی ٹھس ہو جائے گی اور تمہارا مزاق بنے گا۔ تمہیں عقل ہوتی تو احتساب کی بجائے ن لیگ کے معیشت کے ساتھ کھلواڑ کا گیت گاتے، بار بار گاتے جب تک کہ ریڑھی والا بھی معیشت کا سبق سیکھ جاتا اور نواز شریف کو آج کی مہنگائی کا ذمہ وار ٹھہراتا۔ لیکن خان تو پھر پٹھان ہے، عقل کی بجائے شریفوں کی نفرت اسے کھا گئی۔
۔
اب شوکت ترین کو لے آئے ہیں، جو کہ اکانومسٹ بھی نہی ہے، اسد عمر کی طرح ایم بی اے بیک گراؤنڈ ہے۔ جہاں حفیظ شیخ اکنامک ڈسپلین کا ماننے والا تھا وہاں یہ ادھار کا خرچ کرکے گروتھ بڑھانا چاہتا ہے۔ ٹیکس زیادہ اکٹھا کرنے کی بڑھکیں تو مار رہا ہے لیکن کرونا وبا میں بزنسمین کا مزید کیا خون
نچوڑے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا
۔

باقی رہا انفلیشن (مہنگائی) تو وہ تو حفیظ شیخ بھی ہوتا تو اس سال نیچے آ ہی جانا تھا۔ اگلے چھ ماہ میں یہ سات فیصد پر ہو گا اور میرے کچھ دوست شوکت ترین کی واہ واہ کر رہے ہونگے۔ حالنکہ یہ تو ورلڈ بنک کی بھی پرڈکشن ہے۔ گروتھ بھی اگلے سال چار فیصد پہلے سے پرڈکٹ ہے اور معیشت کا پہیہ بھی چل ہی پڑا تھا کہ سارے انڈیکیٹر مثبت چل رہے ہیں۔
 
Last edited:

jee_nee_us

Chief Minister (5k+ posts)
siasat.pk pe itne maeeshat daan nazar aatay hen ke hairat hotee he ke hakoomat inko kiun nahin hire kerti.

jiss mulk bechare ko karzon per interest utaarne ke liye bhi kerza lena perta ho , wahan current account bank ko surplus mein lana buhat hee baree baat thee jabke current account deficit jab hakoomay mili thi to 20 billion dollars tha.

Agar waqt ke sath sath dollar apni real value per aata rehta pmln ke daur mein to ek dam mehngai ka toofan na aata.



iss post ko dekhen aur hisaab lagayen ke daar ker kya raha thaa. werna koi miracle nahin hua thaa ke 6 mahine ke ander ander dollar 25 rupay charh gaya thaa. PTI ki hakoomat pichli hakoomat ki draamay baazian bhugay rahi he , jis mein exports ko sukair diya gaya tha aur imports barha di gai thin aur itna karza le liya thaa ke uss ka interest adaa kerne ke liye karza lena perta hai.

ipps se aisee deals ki gai thin ke bijli mehngi hee perni thee . saray thermal energy walay mansoobay lagaye gaye , hydel ki taraf aaye bhi nahin kiunkay uska unko agle elections mein faida nahin hona thaa.

jab dams ban jayengay to logon ko ehsaas hoga ke kitne ziada zarooree the , buhat asaani se daar ki terha logon ko dhoka dia ja sakta hai dollars zaya ker ke dollar ko stable kia ja sakta he lekin uss ka bojh pakistan ki exports uthayengi aur berozgaarri berhay gi. ye ek lambi jang he aur inshallah hum kamyab honge.
 

alisajid

Senator (1k+ posts)
central bank can only influence inflation of economy is driven by interest rate or credit purchases...like Us where almost all purchases are done via credit cards. In such economies, moving interest rates (which is actually the job of central bank) slightly creates a huge difference. so in theory he is right that SBP cannot influence price levels in Pakistan as we being cash driven economy...
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
معیشت کی سمت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک کی بہتری چاہتے ہو یا الیکشن جیتنا مطلوب ہے۔ اگر تو ملک کی بہتری مطلوب ہے تو حفیظ شیخ نے بہترین کام کیا ہے اور ملکی پالیسی اسی لائن پر چلتی رہنی چاہیئے لیکن اس کے بدلے عوام آپ کو زرداری کی طرح پنجاب کی صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ پہلےسسٹینڈ گروتھ کے لئے اکانومی کی مظبوط بیس بنائی جائے ناکہ ن لیگ کی طرح ووٹر کو خوش کرنے کے لئے امپورٹ سستی کرکے اس کے گیٹ کھول دئیے جائیں اور وقتی گروتھ حاصل کی جائے جس کا سارا دارومدار امپورٹ پر ہو۔ ہر سال چھ ارب ڈالر مارکیٹ میں پھینکیں جائے تاکہ ڈالر کنٹرول میں رہے اور ہمارا ڈالروں کا خسارہ ’سالانہ‘ بیس ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے۔ یہ سب کچھ عمران بھی کر سکتا ہے اور بڑے آرام سے اگلا الیکشن جیت سکتا ہے۔ جنہیں اس بات کی سمجھ نہی آتی وہ صرف یہ سوچ لیں کہ اگر عمران ن لیگ کی پالیسی پر ہی چل رہا ہوتا تو تین سال میں ساٹھ ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہمیں مزید سو ارب (پرانے قرض کی قسطیں ملا کر) بیرونی قرضے لینے پر مجبور کر چکا ہوتا۔ عوام خوش ہوتی، تبدیلی کی واہ واہ ہوتی اور سارے وزیر لائق فائق گردانے جاتے، مہنگائی کا نام و نشان تک نہ ہوتا اور وہ اگلا الیکشن ٹو تھرڈ مجارٹی سے جیتتا۔ دس سال حکومت کرتا، اپنا بیگ اٹھاتا اور بچوں کے پاس لندن جا رہتا۔ لیکن ملک جاتا بھاڑ میں، قرضوں کی سلانہ قسط جو اب گیارہ ارب ڈالر ہے وہ ۲۵ ارب ڈالر ہوتی، ایکسپورٹ ایک ٹکا نہ بڑھتی، چھ مہینے میں ملک دیوالیہ ہوجاتا، ایک بریڈ کے لئے ایک بوری رپوؤں کی لے جانی پڑتی، حکومت ن کی ہوتی اور لوگ نواز شریف کے منہ پر سیاہی مل رہے ہوتے۔ اور ہاں فوج بھی قبیلوں میں بٹ کر چِنگ چیوں پر گنیں فٹ کر کے اپنے اپنے علاقے کا دفاع کر رہی ہوتی۔ لوگوں سے چھین کر کھاتی اور ہر لشکر کا ایک فنانسر باہر بھی بیٹھا ہوتا۔

لیکن۔۔۔
عمران خان نے دوسرا رستہ چنا۔ ملک اور عوام کی بہتری کا رستہ، چاہے اس سے درد ہو رہا ہے لوگوں کو سختی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ اس نے ڈالر کنٹرول کرنے پر سالانہ چھ ارب ڈالر خرچ کرنا بند کر دئیے۔ کیونکہ اب اسے کنٹرول کرنے کی قیمت بھی ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر بڑھ رہی تھی اور یہ ایک دو سال تک خود ہی پھٹ کر اڑھائی سو روپئیے پر جا گرنا تھا۔
ڈالر کھلا چھوڑا تو مہنگائی لازم تھی۔ لیکن مہنگائی کی یہ سب سے بڑی وجہ پھر بھی نہی تھی۔
امپورٹ پر قدغن لگی، ریمیٹینسز بڑھائیں اور کچھ ایکسپورٹ میں بھی حل چل ہوئی تو بیس ارب ڈالر سالانہ کا خسارہ ایک ارب سرپلس میں چلا گیا۔ کیا کسی نے داد دی ؟ نہ؟ کیونکہ جاہل قوم ان باتوں کو نہی سمجھتی۔
حالنکہ یہ اتنی بڑی اچیومنٹ تھی کہ اسی پر اگلا الیکشن جیت جاتا کہ حکومت نے کووڈ کے ہوتے ہوئے بھی ہماری معیشت میں دس ارب ڈالر ایڈ کئے جو کہ پچھلے پندرہ برس میں نہ ہوا تھا۔ اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کیا۔ بدھووں کو کیا معلوم کہ ہماری قومی اکانومی ، ہماری ذاتی اکانومی اور ہمارا دفاع سب کچھ کرنٹ اکاؤنٹ کی مرہون منت ہے۔
امپورٹ کی کمی سے سپلائی میں کمی آئی لیکن ڈیمانڈ (لوگوں کے پاس قابلِ خرچ پیسہ) وہی پہلے جتنی تھی۔ اشیا کی سپلائی کم ڈیمانڈ پہلے والی ہائی۔ یعنی مہنگائی یا انفلیشن کا انسٹینٹ نسخہ۔ دنیا میں جہاں بھی کبھی بھی یہ کیا گیا وہاں چار سے دس سال تک انفلیشن رہا۔ مصر اور یونان ماضی قریب کی مثالیں ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ہم نواز شریف کی حرام زدگیوں کی یہی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ لیکن آنے والی نسلوں کو بچانے کے لئے۔
اب نہ تو عام عوام، نہ پڑھے لکھے اور نہ ہی وزیر اس بات کو سمجھتے ہیں۔ کوئی حکومتی کارندہ اس کا دفاع نہی کر سکا، لوگوں کو بتا نہی سکا۔ احتساب احتساب کا گانا گاتے رہے حالانکہ بیوقوفوں کو معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ یہی احتساب احتساب کی قوالی تمہارے گلے پڑنی ہے کہ فوج کسی کا احتساب نہی ہونے دے گی کہ یہ تو اس کے مہرے ہیں اور ان کی کرپشن کے کیسز تو وہ انہیں بلیک میل کرنے کو استعمال کرتی ہے۔ جب کسی کو سزا نہی ہوگی تو تمہاری قوالی ٹھس ہو جائے گی اور تمہارا مزاق بنے گا۔ تمہیں عقل ہوتی تو احتساب کی بجائے ن لیگ کے معیشت کے ساتھ کھلواڑ کا گیت گاتے، بار بار گاتے جب تک کہ ریڑھی والا بھی معیشت کا سبق سیکھ جاتا اور نواز شریف کو آج کی مہنگائی کا ذمہ وار ٹھہراتا۔ لیکن خان تو پھر پٹھان ہے، عقل کی بجائے شریفوں کی نفرت اسے کھا گئی۔
۔
اب شوکت ترین کو لے آئے ہیں، جو کہ اکانومسٹ بھی نہی ہے، اسد عمر کی طرح ایم بی اے بیک گراؤنڈ ہے۔ جہاں حفیظ شیخ اکنامک ڈسپلین کا ماننے والا تھا وہاں یہ ادھار کا خرچ کرکے گروتھ بڑھانا چاہتا ہے۔ ٹیکس زیادہ اکٹھا کرنے کی بڑھکیں تو مار رہا ہے لیکن کرونا وبا میں بزنسمین کا مزید کیا خون
نچوڑے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا
۔

باقی رہا انفلیشن (مہنگائی) تو وہ تو حفیظ شیخ بھی ہوتا تو اس سال نیچے آ ہی جانا تھا۔ اگلے چھ ماہ میں یہ سات فیصد پر ہو گا اور میرے کچھ دوست شوکت ترین کی واہ واہ کر رہے ہونگے۔ حالنکہ یہ تو ورلڈ بنک کی بھی پرڈکشن ہے۔ گروتھ بھی اگلے سال چار فیصد پہلے سے پرڈکٹ ہے اور معیشت کا پہیہ بھی چل ہی پڑا تھا کہ سارے انڈیکیٹر مثبت چل رہے ہیں۔
بلکل درست فرمایا، کہ یہاں ملک کی معیشت کو درست کرنے کے لیئے پہلے اسکے بنیادی مسائل کی طرف توجہّ دی گئی اور کوئی شعبدہ بازی نہیں دکھائی گئی۔

یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق، اگلے چار سال کے اندر اندر پاکستان میں پینے کے پانی کی قلّت شروع ہوجائے گی، یہ بات آج سے دس برس پہلے سے پاکستان کو معلوم ہے۔ بھارت کے ڈیم بنانے کی رفتار اور ارادے بھی ہم پر صاف ظاہر تھے، لیکن کسی نے بھی ڈیم بنانے پر توجہّ دی؟ کیونکہ یہ کام ہی پانچ سال سے زیادہ کا ہے اور ان سیاسی حکومتوں کو ڈر لگا رہتا ہے کہ اسکا کریڈت اگلی آنے والی حکومت نہ لے جائے۔ بس اسی لیئے میٹرو بن گئی، اورنج لائن بن گئی، لیپ ٹاپ بانٹے گئے، کہ لوگوں کو صبح شام نظر آئیں نون لیگ کے پوسٹر۔


مگر شاہد صاحب وہ شعر ہے نا کہ ۔۔۔

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

کرنٹ اکاوٗنٹ خسارہ، ڈالر کا ریٹ، ایکسپورٹ اور انڈسٹری چلانے کے بعد، خان صاحب کو یکدم اندازہ ہوا کہ اتنی محنت کے بعد بھی گالیاں پڑنے کی رفتار میں کمی نہیں آرہی، معلوم ہوا وجہ تو یہ مڈل مین آڑتی بیچ میں نکلے، جو کسی بھی چیز کی ویلیو چین میں کوئی خاص اضافہ نہیں کرتے لیکن مہنگائی کے سب سے بڑے سائنس دان ہمارے ملک میں یہی ہیں۔ یہ کبھی بھی معیشت کا اصل ایفیکٹ عوام تک نہیں پہنچنے دیتے۔

لیکن پھر ہوا کچھ یوں کہ:

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

امپورٹ کم کرنے سے انفلیشن لازمی تھی اور جبکہ ڈالر کے ریٹ کو درست کیا گیا تو بہت بڑا دھچکا لگا قیمتوں کو۔ لیکن جب ہماری ایکسپورٹ بڑھی اور ریمیٹینس بھی، تو اس کا اثر عام آدمی کی زندگی پر نظر آنا چاہیئے تھا، لیکن وہ نطر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ آخر اتنی محنت کہاں غائب ہورہی تھی؟

محنت کھا رہا تھا مڈل مین یعنی آڑتی، اور وہ بھی مصنوعی قلّت پیدا کرکے۔ روٹی، پیٹرول، بجلی، گیس۔ یہ تمام وہ بنیادی مرکّب ہیں کہ جن میں سے کسی ایک چیز کی قیمت بڑھے گی تو اسکا ملٹی پلائر ایفیکٹ باقی اکانومی پر جاتا ہے۔ لیکن یہاں ستم ظریفی یہ رہی کہ ان چاروں پر پیسے بڑھا دیئے گئے، پیٹرول پر عربوں نے، بجلی اور گیس پر آئی ایم ایف نے اور روٹی کے اوپر ۔۔۔۔۔ دوستوں نے۔

پھر کرونا کے وار۔۔۔۔۔

لیکن اب کنزیومر پرائس انڈیکس قابل برداشت نہیں ہے عوام کے لیئے۔ دراصل ہماری آبادی کا بہت بڑا حصہّ تنخواہ دار یا دیہاڑی دار لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس مارکیٹ فلکچویشن کا شکار سب سے زیادہ یہ لوگ ہوتے ہیں۔ کاروباری تو کل کو اپنے سودے کی قیمت بڑھا لیتا ہے اور اسکی قوتِ خرید اتنی ہی رہتی ہے، لیکن تنخواہ دار بیچارہ سب سے زیادہ پس جاتا ہے۔

تو اب لگتا ہے خان کی ترجیحاتی لسٹ میں یہ لوگ شامل ہوگئے ہیں۔ پہلے یہ شائد کنزیومر پرائس کو مستحکم رکھنے کے لیئے اسٹیٹ بینک کو آزاد کرنے جارہے تھے، اور تھیوری کے حساب سے یہ درست بھی ہے، لیکن پاکستان کی پریکٹس کے حساب سے یہ کام بہت ہی زیادہ خطرے کا باعث بن سکتا تھا۔ عدلیہ، الیکشن کمیشن اور نیب کو ہم آزاد کر کے دیکھ چکے ہیں، وہ سب مادر پدر آزاد ہیں، آجکل۔

معیشت کا بنیادی ڈھانچہ درست کرنے کے بعد اب اس محنت کے ثمرات لوگوں تک پہنچانے کی باری آگئی ہے۔ ابھی پاکستان کے اس سب سے بڑے مافیا کا سامنا ہوگیا ہے۔ کبھی کسی نے سوچا ہے کہ چینی، آٹے اور گھی کی ملوں میں سب سے زیادہ پیسہ ان سیاستدانوں کا کیوں لگا ہوتا ہے؟
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں