ترمیم سے لگتا ہے49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط ہے، سپریم کورٹ

supremecou111.jpg


سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ نیب نے 21 سال کے دوران ہونے والی پلی بارگین کی تفصیلات جمع عدالت میں جمع کرا دیں۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ترمیم سے لگتا ہے 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط ہے۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کرکے نیب قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت دباؤ کا الزام لگنے پر پلی بارگین منسوخ ہوجائے گی، منسوخ ہونے پر پلی بارگین کے تحت جمع رقم واپس کرنا ہوگی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پلی بارگین منسوخ ہونے سے سزا کیساتھ جرم بھی ختم ہوجائے گا؟ وکیل نے کہا کہ ترمیم کی تحت جرم اور سزا دونوں ہی ختم ہوجائیں گے، عدالت نے کہا کہ پلی بارگین اعتراف جرم ہوتا ہے جس کی سزا میں عدالت پیسے واپس کرنے کی منظوری دیتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا قانون سازی سے کیسے ختم ہوسکتی؟ صدر بھی رحم کی اپیل میں سزا معاف کر سکتے ہیں جرم ختم نہیں ہوتا۔


جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پلی بارگین جرم کی بنیاد ہے وہ ختم ہو جائے تو جرم کیسے برقرار رہے گا؟ قاتل کا جرم ختم ہو سکتا ہے تو بدعنوانی کے ملزم کا کیوں نہیں؟ عدالت نے کہا کہ کرپشن 50 کروڑ روپے سے کم ہو تو پلی بارگین کیساتھ مقدمہ بھی ختم ہو جائے گا؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم سے لگتا ہے 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط ہے، وکیل نے کہا کہ کابینہ اور دیگر فورمز کیساتھ وزرا اور معاونین خصوصی کو بھی استثنیٰ دیدیا گیا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھانے والا عام آدمی بھی نیب ریڈار پر آسکتا ہے؟ معاشرہ ایسا ہے کہ کاروباری افراد کو کئی جگہ رشوت دینا پڑتی ہے، کیا کاروباری افراد کو بزنس کرنے پر بھی سزا ملے گی؟

وکیل نے کہا کہ عوامی عہدیدار کی منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کرنے والا نیب ریڈار پر آئے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب قوانین میں ترامیم عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نہیں کی گئیں؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کرکے نیب قوانین میں ترامیم کی گئی ہی۔

نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین کے ترامیم میں 500 ملین کا بینچ مارک بنا دیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے مقدمات عدالتوں سے واپس آئے ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں جواب دیا کہ عدالتوں سے 219 مقدمات واپس آچکے ہیں، اب تک تعداد 280 ہوگئی۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں بھی ایسا ہی تھا نام اور رقم نہیں بتائی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ایمنسٹی اسکیم بھی فراڈ ہے؟ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے پیسے کو وائٹ کرنا تو بڑے عرصے سے چل رہا ہے۔


وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ رہا ہے مگر کرپشن کی رقم کا ایشو مختلف ہوتا ہے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے رقم ڈکلئیر کرنے والوں کو کچھ نہ کہنا نہ پوچھنے کا لکھا گیا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس میں بھی رکشے والے اور ایسے لوگوں کے کھاتوں سے اربوں نکلے تھے۔

عدالت نے کہا نئے قانون کے مطابق احتساب عدالت اور نیب ہاتھ کھڑے کر دے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ترامیم کو گزشتہ حکومت نے شروع کیا تھا باتوں سے باتیں نکل رہی ہیں، دو ماہ میں ان ترامیم کی ڈرافٹنگ کا کریڈٹ وزیر قانون کو جاتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ کچھ کریڈٹ سابقہ حکومت کو بھی جاتا ہے جو خود اس عمل میں شامل رہی اور پھر چیلنج کر دیا۔
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Ye case itna long jana hi nahi chahay.
Gov khud tarameem bana kar khud fayada nahi utha sakti..Corruption ka paisa koi apnay naam nahi rakhta...
Rangay hatho pakra janay wala ye nahi keh sakta ke tum sabat karo ke main ne ye maal chori kia ha??Chori ki nishandahi karnay wala 5 saal jail ja sakta ha agar kisi ne saboot hi ghayab kar dia ho..
Chori shuda maal case chalnay ke Duran baicha ja sakta ha....
Itnay simple case ko 10 din bhi lamba khainchna na sirf against the laws ha.. belkay dishonesty ha.mazaq ha Qanoon k sath..
 
Last edited:

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
موتر سے مچھلیاں پکڑ رہے ہیں
بتانا یہ ہے کہ یہُ قانون تبدیلی جائیز ہے یا نہئں
کسی چھوٹے سے گاؤں کا ایک دیہاتی وکیل پکڑ کر پوچھ لو وہ بھی فوری بتا دے گا کانفلیکٹ آف انٹرسٹ ہے یہ قانون اور نیب کے قانون اور سز ا انہوں نے بدلی جو بینیفشری ہیں اور پاکستان کے مستقبل اور کرپشن ختم کرنے کی خاطر پرانا سٹیٹس بحال ہونا چاہے
 

crankthskunk

Chief Minister (5k+ posts)
Reading judge's comments you started to wonder, which ass appointed these nutcases as judges!!
Which judge or jury can say that looting and corruption should be legalised. And if caught, they are not answerable, instead the one who caught them is answerable. Fcuking idiots, if you ask me.
Send them back to Primary.
 
Sponsored Link