تعلیم کےاخراجات پورےکرنے کیلئے برتن بیچنے والی بہادرطالبہ سے ملاقات کااحوال

Whats-App-Image-2021-10-25-at-9-05-13-PM.jpg

تحریر طاہر نعیم ملک

کل شب مجھے ہمارے ہونہار شاگرد اور دوست سہراب برکت جو ان دنوں معروف سوشل میڈیا سائٹ سیاست پی کے سے وابستہ ہیں کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔اس ویڈیو کی جانب میری توجہ ہماری کولیگ بینش خان نے مبذول کروائی۔ یہ کہانی گردش حالات کے سامنے حوصلہ نہ ہارنے کی پرعزم داستان ھے ۔

مری سے تعلق رکھنے والی اس طالب علم کے والد نے ان کی والدہ کو طلاق دے دی اور ان کے نان نفقہ سے متعلق بھی کچھ نہ سوچا ۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں اولاد اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اگر اخراجات پورے نہیں کرسکتے ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو۔ ایک بیٹی اسلام آباد کی معروف نمل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ میں بھی اسی یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہوں ۔


اب دو وقت کی روٹی کے جب لالے پڑے ہوں تو ایسے میں تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لیکن اس پرعزم باہمت لڑکی نے ہار نہ مانی ۔ ان کی ایک جاننے والی خاتون نے انہیں کچن میں استعمال ہونے والی مختلف اشیاء لے کر دیں تاکہ یہ اسلام آباد کی کسی مشہور شاہراہ پر سٹال لگا سکیں ۔ اب یہ یونیورسٹی کے اوقات کے بعد اس شاہراہ پر اپنے تعلیمی اخراجات اور گھریلو خرچ اخراجات کو پورا کرنے کی خاطر اس سٹال پر اپنا کاروبار شروع کرنے لگیں۔

عام طور پر ایسی صورتحال میں لوگ ترس کھانا شروع کردیتے ہیں لیکن یہ کوئی قابل ترس صورتحال نہیں نوجوانوں کو اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کرنے چاہئیں جب آپ عاقل و بالغ عمر تک پہنچ جائیں تو پھر والدین پر بوجھ نہیں بننا چاہئے۔نوجوانوں کی ہمارے معاشی عمل میں شراکت سے معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے لئے قرض حسنہ دے ۔

قابل تعریف عمل یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں احساس پروگرام اور بیت المال کے بہت سے اسکالرشپ موجود ہیں جو ان طالب علموں کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ضرورت اس امر کی بھی ہے نوجوانوں کی رہنمائی کی جائے کہ وہ بے مقصد اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بجائے وہ فنون اور ہنر سیکھیں جن سے وہ معقول رزق حاصل کرسکیں اپنی اور گھر والوں کی کفالت موثر انداز میں کرسکیں۔

جہاں تک رہی بات اس بہادر بیٹی کی تو ہم دوست انشاء اللہ ان کے معقول کاروبار کے اسباب مہیا کرنے کی کوشش کریں گے آپ سب لوگوں سے اس ضمن میں تعاون کی اپیل ہے اور باعث اطمینان امر یہ ہے کہ نمل یونیورسٹی کے ریکٹر میجر جنرل ر محمد جعفر ایک درد دل رکھنے والے شخص ہیں میں ذاتی طور پر ان کے بہت سے اچھے اوصاف کا گواہ ہوں لیکن ان کی تفصیل بتانے کی مجھے اجازت نہیں اور جب بھی کبھی یونیورسٹی کے طالب علم کو فیس کا مسئلہ ہوا تو میڈیا سے وابستہ چند دوستوں نے ہمیشہ تعاون کیا لیکن انہوں نے بھی اپنی ذاتی تشہیر سے منع کیا ۔ وہ بھی اپنی بساط کے مطابق اس طالبہ کی ہر ممکن امداد کریں گے ۔اسی طرح میرے بیرون ملک مقیم احباب نے بھی ہر موقع پر میری توقعات کو پورا کیا ۔

اب میری حکومت وقت سے بھی اپیل ہے کہ جہاں وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یعنی احساس پروگرام کے نام سے معاشرے میں مستحق اور نادار لوگوں کی مدد امداد کررہی ھے وہاں اس پروگرام کے فنڈز میں مزید وسعت دے اور اصل عشرہ رحمت العالمین صلی اللہ وعلیہ وسلم منانے کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست ان تمام رحمتوں کا نزول یقینی بنائے جن کا ہمارے نبی پاک نے ریاست مدینہ کو ایک فلاحی ریاست بنا کر یقینی بنایا تھا ۔

معاشرے کو خیرات سے بڑھ کر کارخانوں اور مضبوط معیشت کی ضرورت ہے بڑھتی ھوئی مہنگائی اور اقتصادی کساد بازاری سے غریبوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔معاشرے میں غربت خیرات سے نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پسے ھوئے طبقات کے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنے سے کم ہوسکتی ھے ۔

آخر میں جہاں ہماری اس بیٹی نے سٹال لگایا ھے اس کا شمار اسلام آباد کی مہنگی ترین شاہراہ میں ہوتا ھے ۔ دو دو کنال کی کوٹھیوں میں کروڑوں روپے کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ ان محلات میں رہنے والوں کا تعلق پاکستان کی مشہور اور با اثر شخصیات میں ہوتا ھے ان میں سے کچھ کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں مجھے بہت دکھ ہوا کہ ان کے آنگن کے باہر ایک لڑکی رزق تلاش کرنے روزانہ آتی ہے لیکن انہوں نے اس سے پوچھنا بھی گوارا نہ کیا وہ اس سٹال سے کچھ خرید کر بھی تو اس کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں لیکن ان کی حوصلہ افزائی شاید کسی فیشن ڈیزائنر کی کیٹ واک کے پروگرام کے سپانسرشپ کے لئے مختص ہو ۔

اور اس شاہراہ سے ہر روز وزیر مشیر بھی ٹی وی ٹاک شوز میں جا کر غریبوں کی حالت زار پر درس دینے کے لئے جاتے ہیں کاش کسی روز وہ اس سٹال سے کچھ خرید سکیں کاش۔۔۔ کیونکہ بقول اقبال
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیان ۔
 
Advertisement

nasir77

Chief Minister (5k+ posts)
Aur wo jo Lafafay anchor Jhoot bol ker maal bana rehay hain???
Inshal-Allah is bachi ka lai koi sabub peda keray ga....
 
Sponsored Link