توہین عدالت کیس،راناشمیم،میرشکیل سمیت تمام فریقین فرد جرم کیلئے طلب

mir--1j2jj21.jpg


اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی سے متعلق کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، عدالت نےراناشمیم، میرشکیل، عامرغوری، انصارعباسی کو فرد جرم عائد کرنے کیلئے بیس جنوری کو طلب کرلیا۔

رانا شمیم بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کے حوالے سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکمنامہ جاری کیا،تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے توہین کے ملزمان کو کافی وقت دے لیا،ملزمان کا یہی مؤقف رہا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا، رپورٹر ، ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر کا موقف اہم ہے، یہ مؤقف ماننا زیر التوا کیسز سے متعلق کچھ بھی چھاپنے کا لائسنس دینے جیسا ہوگا۔


حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ لگتا ہے رپورٹر، ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر زیر التوا کیسز کے رُولز سے ناواقف ہیں، توہین عدالت کیس کے دوران بھی کیس پر تنظیموں کے مؤقف چھاپے جا رہے ہیں، رپورٹر نے کہا بیان حلفی کا درست یا غلط ہونے کا جاننا اس کی ذمہ داری نہیں تھی، پروفیشنل صحافی زیر التوا کیس سے متعلق ذمہ داری سے واقف نہیں نظر آئے۔

اپنے حلف نامے میں رانا شمیم نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو ٹیلی فون کر کے کہا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی درخواست ضمانت کو 2018 کے عام انتخابات تک منظور نہ کریں۔

رانا شمیم کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے یہ کال گلگت کے دورے کے دوران کی، جہاں انہوں نے جی بی سپریم اپیلٹ کورٹ کے ریسٹ ہاؤس میں ان کی میزبانی کی تھی،حلف نامے پر مبنی اسٹوری دی نیوز میں شائع ہونے پر عدالت رانا شمیم، صحافیوں انصار عباسی، عامر غوری اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کررہی ہے۔
 
Advertisement

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
mir--1j2jj21.jpg


اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی سے متعلق کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، عدالت نےراناشمیم، میرشکیل، عامرغوری، انصارعباسی کو فرد جرم عائد کرنے کیلئے بیس جنوری کو طلب کرلیا۔

رانا شمیم بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کے حوالے سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکمنامہ جاری کیا،تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے توہین کے ملزمان کو کافی وقت دے لیا،ملزمان کا یہی مؤقف رہا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا، رپورٹر ، ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر کا موقف اہم ہے، یہ مؤقف ماننا زیر التوا کیسز سے متعلق کچھ بھی چھاپنے کا لائسنس دینے جیسا ہوگا۔


حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ لگتا ہے رپورٹر، ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر زیر التوا کیسز کے رُولز سے ناواقف ہیں، توہین عدالت کیس کے دوران بھی کیس پر تنظیموں کے مؤقف چھاپے جا رہے ہیں، رپورٹر نے کہا بیان حلفی کا درست یا غلط ہونے کا جاننا اس کی ذمہ داری نہیں تھی، پروفیشنل صحافی زیر التوا کیس سے متعلق ذمہ داری سے واقف نہیں نظر آئے۔

اپنے حلف نامے میں رانا شمیم نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو ٹیلی فون کر کے کہا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی درخواست ضمانت کو 2018 کے عام انتخابات تک منظور نہ کریں۔

رانا شمیم کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے یہ کال گلگت کے دورے کے دوران کی، جہاں انہوں نے جی بی سپریم اپیلٹ کورٹ کے ریسٹ ہاؤس میں ان کی میزبانی کی تھی،حلف نامے پر مبنی اسٹوری دی نیوز میں شائع ہونے پر عدالت رانا شمیم، صحافیوں انصار عباسی، عامر غوری اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کررہی ہے۔
دیکھی پھر میری میڈیا مینجمنٹ، جیو نیوز کی جئی تئی پھیر دی ہے، مریم نواز
🤣🤣🤣
 

Scholar1

Minister (2k+ posts)
‏اگر شاہ رخ جتوئی اور عثمان مرزا اتنے طاقتور ہیں سوچیں گاڈ فادر اور زر شر کتنے طاقتور ہونگے؟ عمران خان کا مقابلہ شاید تاریخ کے سب سے بڑے اور منظم مافیا سے ہے وہ غلطیاں بھی کرے گا لیکن اسکا انکے سامنے ہتھیار نہ ڈالنا بہت بڑا کارنامہ ہے ہم میں سے کوئی ان کے مقابلے میں آئے تو شاید سمجھوتہ کر لے گا۔
‏جو سسٹم عزیر بلوچ اور راؤ انوار کو سزا دینے کی اہلیت و جرات نہیں رکھتا
وہ زرداری اور نواز شریف کے قبیلے کو سزا دینے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا ہے
یہاں شاہ رخ جتوئی ریاست کا بہنوئی بن کر موجیں کر رہا ہے
دفاعی طاقت آپ دس گنا بھی بڑھا لیں لیکن
جب تک انصاف نہیں ہو گا
ملک اور اس کے شہری محفوظ نہیں ھو سکتے
نہ ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے !! عمران خان کا سب سے بڑا احسان یہ ہے اس نے مکروہ سسٹم کے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول عدلیہ بیوروکسی اور میڈیا کو ننگا کر کہ عوام کہ سامنے رکھ دیا اور حجت تمام ہوئ باقی اس قوم کی مرضی۔۔
 
Sponsored Link