جس دفتر سے نکل کر آیااللہ تعالیٰ نے اسی دفتر میں واپس بجھوادیا،اسحاق ڈار

7ishaqdarwasadatfr.jpg

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں قائد ن لیگ میاں محمد نوازشریف سے طویل ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی ومعاشی صورتحال پر بات چیت کی گئی، اجلاس کے دوران مشاورت کے بعد اسحاق ڈار کو وفاقی وزیر خزانہ نامزد کر دیا گیا جس کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی معاملات پر معاونت دینگے۔

ڈان کے مطابق نامزد وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔ 2017ء میں پاکستانی معیشت دنیا کی بڑی معیشت بننے والی تھی، شرح نمو زیادہ، شرح سود کم تھی، اب بھی کوشش ہوگی کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کر سکوں۔ اپنے میڈیکل کیلئے جس دفتر سے نکل کر آیا آج اللہ تعالیٰ واپس وہیں بھجوا رہے ہیں!


گزشتہ روز اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا تھا کہ: آج میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں میں نے زبانی طور پر وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستان پہنچ کر باضابطہ استعفیٰ دے دوں گا۔ وزیر خزانہ کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دینا اعزاز کی بات ہے۔ پاکستان پائندہ آباد! ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار چند دنوں میں پاکستان واپس آکر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے اور مفتاح اسماعیل کے عہدے کی مدت 18 اکتوبر تک ہے وہ کابینہ میں بطور مشیر شریک رہیں گے۔

یاد رہے کہ 2017ء میں نیب بدعنوانی ریفرنس کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار علاج کی غرض سے لندن چلے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر نیب کی طرف سے 83 کروڑ 17 لاکھ روپے کے اثاثے بنانے کا الزام تھا، انہیں احتساب عدالت نے 21 نومبر 2017ء کو مفرور اشتہاری قرار دے دیا تھا جبکہ ان کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر قائم مقدمات میں عدالت میں با ربار طلبی پر بھی پیش نہ ہوئے کیونکہ وطن واپسی پر گرفتاری کا خدشہ تھا لیکن گزشتہ ہفتے احتساب عدالت نے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے گرفتار کرنے سے روک دیا تھا، وہ پانچ سال بعد وطن واپس آئینگے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نوازشریف نے مفتاح اسماعیل کے کام کو سراہا جس پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ نے مجھے وفاقی وزیر بنایا عہدہ آپ کی امانت تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 مہینوں سے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کیا، ملک اور پارٹی کا وفادار رہا۔ سابقہ حکومتی کی مالی بربادی کا ازالہ اب تک کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مفتاح اسماعیل کو نجکاری اور شمسی توانائی کے حوالے سے عہدے کی پیشکش کی گئی جس کی ذمہ داری لینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔میڈیا کی طرف سے مفتاح اسماعیل سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں پیشکش ہوئی تو تو کیا وہ کابینہ کا عہدہ سنبھالیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں نہیں کروں گا۔‘
 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
7ishaqdarwasadatfr.jpg

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں قائد ن لیگ میاں محمد نوازشریف سے طویل ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی ومعاشی صورتحال پر بات چیت کی گئی، اجلاس کے دوران مشاورت کے بعد اسحاق ڈار کو وفاقی وزیر خزانہ نامزد کر دیا گیا جس کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی معاملات پر معاونت دینگے۔

ڈان کے مطابق نامزد وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔ 2017ء میں پاکستانی معیشت دنیا کی بڑی معیشت بننے والی تھی، شرح نمو زیادہ، شرح سود کم تھی، اب بھی کوشش ہوگی کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کر سکوں۔ اپنے میڈیکل کیلئے جس دفتر سے نکل کر آیا آج اللہ تعالیٰ واپس وہیں بھجوا رہے ہیں!


گزشتہ روز اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا تھا کہ: آج میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں میں نے زبانی طور پر وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستان پہنچ کر باضابطہ استعفیٰ دے دوں گا۔ وزیر خزانہ کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دینا اعزاز کی بات ہے۔ پاکستان پائندہ آباد! ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار چند دنوں میں پاکستان واپس آکر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے اور مفتاح اسماعیل کے عہدے کی مدت 18 اکتوبر تک ہے وہ کابینہ میں بطور مشیر شریک رہیں گے۔

یاد رہے کہ 2017ء میں نیب بدعنوانی ریفرنس کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار علاج کی غرض سے لندن چلے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر نیب کی طرف سے 83 کروڑ 17 لاکھ روپے کے اثاثے بنانے کا الزام تھا، انہیں احتساب عدالت نے 21 نومبر 2017ء کو مفرور اشتہاری قرار دے دیا تھا جبکہ ان کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر قائم مقدمات میں عدالت میں با ربار طلبی پر بھی پیش نہ ہوئے کیونکہ وطن واپسی پر گرفتاری کا خدشہ تھا لیکن گزشتہ ہفتے احتساب عدالت نے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے گرفتار کرنے سے روک دیا تھا، وہ پانچ سال بعد وطن واپس آئینگے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نوازشریف نے مفتاح اسماعیل کے کام کو سراہا جس پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ نے مجھے وفاقی وزیر بنایا عہدہ آپ کی امانت تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 مہینوں سے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کیا، ملک اور پارٹی کا وفادار رہا۔ سابقہ حکومتی کی مالی بربادی کا ازالہ اب تک کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مفتاح اسماعیل کو نجکاری اور شمسی توانائی کے حوالے سے عہدے کی پیشکش کی گئی جس کی ذمہ داری لینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔میڈیا کی طرف سے مفتاح اسماعیل سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں پیشکش ہوئی تو تو کیا وہ کابینہ کا عہدہ سنبھالیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں نہیں کروں گا۔‘
نکل کر آیا تھا یا جیل سے ڈر کر لندن بھاگا تھا؟ کنجر کتا
 

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)

Don’t worry Dar cycle house ——Kush ho lo —— Bajwa Bharwa Nadeem khusra aur Rashid Qadiani tumhein Toilet paper ki tarah apni Gand saaf karnay kay baad dump kar dein gay ——- Kuch dino kay baad tum apni Gand bhi dekhanay kay qabal nahi raho gay —— Tumhara muqabila Pakistan kay Dushman Qadianiion se hai 😜😂😂

 

jakfh

Senator (1k+ posts)
7ishaqdarwasadatfr.jpg

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں قائد ن لیگ میاں محمد نوازشریف سے طویل ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی ومعاشی صورتحال پر بات چیت کی گئی، اجلاس کے دوران مشاورت کے بعد اسحاق ڈار کو وفاقی وزیر خزانہ نامزد کر دیا گیا جس کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی معاملات پر معاونت دینگے۔

ڈان کے مطابق نامزد وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔ 2017ء میں پاکستانی معیشت دنیا کی بڑی معیشت بننے والی تھی، شرح نمو زیادہ، شرح سود کم تھی، اب بھی کوشش ہوگی کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کر سکوں۔ اپنے میڈیکل کیلئے جس دفتر سے نکل کر آیا آج اللہ تعالیٰ واپس وہیں بھجوا رہے ہیں!


گزشتہ روز اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا تھا کہ: آج میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں میں نے زبانی طور پر وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستان پہنچ کر باضابطہ استعفیٰ دے دوں گا۔ وزیر خزانہ کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دینا اعزاز کی بات ہے۔ پاکستان پائندہ آباد! ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار چند دنوں میں پاکستان واپس آکر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے اور مفتاح اسماعیل کے عہدے کی مدت 18 اکتوبر تک ہے وہ کابینہ میں بطور مشیر شریک رہیں گے۔

یاد رہے کہ 2017ء میں نیب بدعنوانی ریفرنس کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار علاج کی غرض سے لندن چلے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر نیب کی طرف سے 83 کروڑ 17 لاکھ روپے کے اثاثے بنانے کا الزام تھا، انہیں احتساب عدالت نے 21 نومبر 2017ء کو مفرور اشتہاری قرار دے دیا تھا جبکہ ان کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر قائم مقدمات میں عدالت میں با ربار طلبی پر بھی پیش نہ ہوئے کیونکہ وطن واپسی پر گرفتاری کا خدشہ تھا لیکن گزشتہ ہفتے احتساب عدالت نے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے گرفتار کرنے سے روک دیا تھا، وہ پانچ سال بعد وطن واپس آئینگے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نوازشریف نے مفتاح اسماعیل کے کام کو سراہا جس پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ نے مجھے وفاقی وزیر بنایا عہدہ آپ کی امانت تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 مہینوں سے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کیا، ملک اور پارٹی کا وفادار رہا۔ سابقہ حکومتی کی مالی بربادی کا ازالہ اب تک کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مفتاح اسماعیل کو نجکاری اور شمسی توانائی کے حوالے سے عہدے کی پیشکش کی گئی جس کی ذمہ داری لینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔میڈیا کی طرف سے مفتاح اسماعیل سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں پیشکش ہوئی تو تو کیا وہ کابینہ کا عہدہ سنبھالیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں نہیں کروں گا۔‘
sakay kanjar teri budhi nu lan kanjri ka bacha
 

Rajarawal111

Prime Minister (20k+ posts)
sakay kanjar teri budhi nu lan kanjri ka bacha
jithy di khoti othy ...aho

Don’t worry Dar cycle house ——Kush ho lo —— Bajwa Bharwa Nadeem khusra aur Rashid Qadiani tumhein Toilet paper ki tarah apni Gand saaf karnay kay baad dump kar dein gay ——- Kuch dino kay baad tum apni Gand bhi dekhanay kay qabal nahi raho gay —— Tumhara muqabila Pakistan kay Dushman Qadianiion se hai 😜😂😂

نکل کر آیا تھا یا جیل سے ڈر کر لندن بھاگا تھا؟ کنجر کتا
7ishaqdarwasadatfr.jpg

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں قائد ن لیگ میاں محمد نوازشریف سے طویل ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی ومعاشی صورتحال پر بات چیت کی گئی، اجلاس کے دوران مشاورت کے بعد اسحاق ڈار کو وفاقی وزیر خزانہ نامزد کر دیا گیا جس کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی معاملات پر معاونت دینگے۔

ڈان کے مطابق نامزد وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں تھا، واپس آکر ترقی کا سفر پھر سے شروع کریں گے۔ 2017ء میں پاکستانی معیشت دنیا کی بڑی معیشت بننے والی تھی، شرح نمو زیادہ، شرح سود کم تھی، اب بھی کوشش ہوگی کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کر سکوں۔ اپنے میڈیکل کیلئے جس دفتر سے نکل کر آیا آج اللہ تعالیٰ واپس وہیں بھجوا رہے ہیں!


گزشتہ روز اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا تھا کہ: آج میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں میں نے زبانی طور پر وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستان پہنچ کر باضابطہ استعفیٰ دے دوں گا۔ وزیر خزانہ کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دینا اعزاز کی بات ہے۔ پاکستان پائندہ آباد! ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار چند دنوں میں پاکستان واپس آکر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے اور مفتاح اسماعیل کے عہدے کی مدت 18 اکتوبر تک ہے وہ کابینہ میں بطور مشیر شریک رہیں گے۔

یاد رہے کہ 2017ء میں نیب بدعنوانی ریفرنس کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار علاج کی غرض سے لندن چلے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر نیب کی طرف سے 83 کروڑ 17 لاکھ روپے کے اثاثے بنانے کا الزام تھا، انہیں احتساب عدالت نے 21 نومبر 2017ء کو مفرور اشتہاری قرار دے دیا تھا جبکہ ان کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے تھے۔ اسحاق ڈار پر قائم مقدمات میں عدالت میں با ربار طلبی پر بھی پیش نہ ہوئے کیونکہ وطن واپسی پر گرفتاری کا خدشہ تھا لیکن گزشتہ ہفتے احتساب عدالت نے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے گرفتار کرنے سے روک دیا تھا، وہ پانچ سال بعد وطن واپس آئینگے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نوازشریف نے مفتاح اسماعیل کے کام کو سراہا جس پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ نے مجھے وفاقی وزیر بنایا عہدہ آپ کی امانت تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 مہینوں سے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کیا، ملک اور پارٹی کا وفادار رہا۔ سابقہ حکومتی کی مالی بربادی کا ازالہ اب تک کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مفتاح اسماعیل کو نجکاری اور شمسی توانائی کے حوالے سے عہدے کی پیشکش کی گئی جس کی ذمہ داری لینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔میڈیا کی طرف سے مفتاح اسماعیل سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں پیشکش ہوئی تو تو کیا وہ کابینہ کا عہدہ سنبھالیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں نہیں کروں گا۔‘

اوے چوٹھ بول رہا ہے یہ --- قمیر بجوافر نے اس کو اسی دفتر میں لگایا ہے

wljoguix7cs81.png
 

Meme

Minister (2k+ posts)
سارا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کو اس نہج پہ لے گیا ہے ورنہ گمان ہے کہ اسے این او سی نا ملتا۔ مہینہ دو مہینہ پہلے بھی آنے کی کوشش کی تھی اس نے پر آ نہیں سکا تھا۔
 
Last edited:

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
سارا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کو اس نہج پہ لے گیا ہے ورنہ اسے این او سی نا ملتا۔ مہینہ دو مہینہ پہلے بھی آنے کی کوشش کی تھی اس نے پر آ نہیں سکا تھا۔
کاش اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں سے معاملات ٹھیک کرنے کی بجائے اپنے ملک پاکستان اور اسکی عوام کیساتھ بھی معاملات ٹھیک کر لے
 

Meme

Minister (2k+ posts)
سارا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کو اس نہج پہ لے گیا ہے ورنہ اسے این او سی نا ملتا۔ مہینہ دو مہینہ پہلے بھی آنے کی کوشش کی تھی اس نے پر آ نہیں سکا تھا۔
اسی وجہ سے مریم کو بھی ریلیف ملا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ نواز شریف کو بھی ریلیف ملے۔
 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
اسی وجہ سے مریم کو بھی ریلیف ملا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ نواز شریف کو بھی ریلیف ملے۔
یعنی ملک میں کوئی آئین و قانون نہیں۔ چوروں ڈاکوؤں کو صرف اسلئے قانون کچھ نہیں کہے گا کیونکہ ملک کی کتی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے ناراض ہے؟
🤭🤭🤭
 

Meme

Minister (2k+ posts)
یعنی ملک میں کوئی آئین و قانون نہیں۔ چوروں ڈاکوؤں کو صرف اسلئے قانون کچھ نہیں کہے گا کیونکہ ملک کی کتی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے ناراض ہے؟
🤭🤭🤭
جی انکل، جیسے اسٹبلشمنٹ نے فارن فنڈنگ کیس آٹھ سال سے اس وقت تک روک کر رکھا جب تک خم تھا زلف کپتان میں۔
 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
جی انکل، جیسے اسٹبلشمنٹ نے فارن فنڈنگ کیس آٹھ سال تک روک کر رکھا جب تک خم تھا زلف کپتان میں۔
اب تو فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آگیا ہے نا؟ اسمیں سے کیا نکال لیا اب تک؟
 

Meme

Minister (2k+ posts)
اب تو فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آگیا ہے نا؟ اسمیں سے کیا نکال لیا اب تک؟
یہ تو بڑا اچھا سوال کیا تم نے کہ اسٹبلشمنٹ عمران کیخلاف بے شمار مواقع ہونے کے باوجود آخر کارروائی کیوں نہیں کر رہی۔ اس کا جواب سیدھا نہیں بہت پیچیدہ ہے۔۔
 
Sponsored Link