جعلی نوٹیفکیشنز شیئر کرنے پر امبر شمسی اور اظہر مشوانی کی نوک جھونک

9amberazahar.jpg


14 فروری سے متعلق جعلی نوٹیفکیشنز شیئر کرنے کے معاملے پر صحافی امبر رحیم شمسی اور وزیراعلی پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشہوانی کے درمیان ٹویٹر پر نوک جھوک۔

تفصیلات کے مطابق امبر رحیم شمسی نے ٹویٹر پر 14 فروری کے حوالےسے مختلف تعلیمی اداروں کے جعلی نوٹیفکیشنز شیئر کیے جس میں ویلنٹائنز ڈے کے مقابلے میں جامعات میں "حیا ڈے" منانے سے متعلق ہدایات دی گئی تھیں۔


امبر رحیم شمسی نے یہ نوٹیفکیشنز شیئر کرتے ہوئے "ہیپی ویلنٹائنز ڈے" لکھا، تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے اپنی ہی ٹویٹ میں شیئر کیے گئے پنجاب یونیورسٹی کے نوٹیفکیشن پر پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے جعلی قرار دیئے جانے کی ٹویٹ شیئر کی اور کہا کہ یہ والا جعلی ہے۔


امبر رحیم شمسی کی جانب سے یہ نوٹیفکیشنز شیئر کرنے کے جواب میں جماعت اسلامی کی رہنما ڈاکٹر سمیعہ راحیل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے اتنی غیر ذمہ دارانہ پوسٹ کی توقع نہیں تھی۔


امبر نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خبر کے طور پر نہیں لکھی۔ ایک موڈ اور ٹرینڈ ہے جس کی نشاندہی کی تھی۔ کبھی کبھی انسان غیر سنجیدگی میں بھی ٹویٹ کر لیتا ہے۔


وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے فوکل پرسن اظہر مشہوانی نے امبر کی جانب سے جعلی نوٹیفکیشنز شیئر کرنے پر ردعمل دیا اور کہا کہ"جیالا فیک نیوز ایسوسی ایشن جعلی مواد شیئر کرتے ہوئے"۔


امبر نے جواب دیا کہ اگر آپ کے نزدیک ویلنٹائنز ڈے کی مناسبت سے کوئی لطیفہ شیئر کرنا ایک خبر ہے تو آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔


اظہر مشہوانی نے کہا کہ میں نے تو خبر کی بات بھی نہیں کی، اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایڈیٹ کی ہوئی تصاویر شیئر کرنا ایک مذاق ہے توآپ کو اپنا پیشہ تبدیل کرلینا چاہیے، مگر صفر اعشاریہ صفر 5 فیصد کے برین سیل رکھنے والا جیالا اور کیا کرسکتا ہے؟۔



امبر رحیم شمسی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر خوشی پھیلانے کیلئے شکریہ، کہیں مجھے اس بات کی بھی وضاحت کی ضرورت تو نہیں ہے؟


اظہر مشہوانی نے اس لفظی جنگ کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ چلیں اب آگے بڑھتے ہیں جس کے جواب میں امبر رحیم شمسی نے کہا کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ عام لوگوں کی طرح برتاؤ کیا جاسکتا ہے؟
 
Advertisement

Everus

Senator (1k+ posts)

ویلنٹائن ڈے جیسی حرام کاریوں کی غیر متشدد انداز میں حوصلہ شکنی کرنا ہر مہذب مسلمان پاکستانی کا اخلاقی فریضہ ہے کیوں کہ نہ اس حرام زادگی کا مسلمانوں سے تعلق ہے کوئی نہ یہ ہماری روایات سے

اسطرح کی چدکیاں مغرب زدہ غلام ذہنوں کو مرغوب ہیں مگر کوئی شریف آدمی اسے برداشت نہیں کرتا اس بے حیائی میں لتھڑے فتنے کی روک تھام ہر شریف پاکستانی کا اخلاقی فریضہ ہے لیکن لونڈے باز مولوی جب اس پر آواز اٹھاتے ہیں تو انکے حجروں سے چھوٹے چھوٹے بچوں کی دردناک چیخوں میں انکا اعتراض بے اثر ہو جاتا ہے
 

Lefty

Minister (2k+ posts)
Samajh sa bahir ha aaj kal insaan kuch na ban sakay to forun sa pahlay bal k pidaish sa b pahlay he Wakeel or sahafi to forun ban jata ha
 
Sponsored Link