حکومت نے پاک فوج میں اہم تقرریاں اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں،نجم سیٹھی

5sethi.jpg

نجم سیٹھی نے کہا ہے حکومت نے پاک فوج میں جنرل لیول اور اس سے اوپر کی تقرریاں وزیراعظم عمران خان کی رضامندی سے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں نجم سیٹھی نے کہا کہ حکومت کے رولز آف بزنس 2010 میں تبدیل ہوئے یہ وہ رولز ہیں جس میں حکومتی عہدیداران کی درجہ بندیاں اور رپورٹنگ لائنز ، تقرر و تبادلوں کی تشریح موجود ہوتی ہے کہ کون کس افسر کو تعینات کرے گا اور کون سا افسر کس کو جوابدہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس رولز آف بزنس میں رواں برس ستمبر کے مہینے میں 14 تاریخ کو ایک تازہ ترین ترمیم کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ " لیفٹیننٹ جنرلز اور ان سے اوپر کی سطح پر تقرریاں وزیراعظم کی منظوری اور صدر مملکت کے دستخط کے ساتھ کی جائیں گی"۔


نجم سیٹھی نے کہا کہ اس ترمیم سے رولز آف بزنس میں ان تقرریوں کے حوالے سے تکنیکی طور پر اختیار آرمی چیف کے پاس تھا جسے اب حکومت نے ایک نئی شق شامل کرکے وزیراعظم آفس کو تفویض کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند روز کےدوران ملک میں آئی ایس آئی کے چیئرمین کے حوالے سے ایک گومگو کی کیفیت پائی جاتی ہے، حکومت کی جانب سے اس معاملے میں تاحال کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم خبریں ہیں کہ وزارت دفاع کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی بنانے کیلئے سمری وزیراعظم آفس بھجوادی گئی ہے، اس خبر کی بھی تردید کا تصدیق تاحال نہیں ہوسکی ہے۔
 
Advertisement

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
5sethi.jpg

نجم سیٹھی نے کہا ہے حکومت نے پاک فوج میں جنرل لیول اور اس سے اوپر کی تقرریاں وزیراعظم عمران خان کی رضامندی سے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں نجم سیٹھی نے کہا کہ حکومت کے رولز آف بزنس 2010 میں تبدیل ہوئے یہ وہ رولز ہیں جس میں حکومتی عہدیداران کی درجہ بندیاں اور رپورٹنگ لائنز ، تقرر و تبادلوں کی تشریح موجود ہوتی ہے کہ کون کس افسر کو تعینات کرے گا اور کون سا افسر کس کو جوابدہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس رولز آف بزنس میں رواں برس ستمبر کے مہینے میں 14 تاریخ کو ایک تازہ ترین ترمیم کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ " لیفٹیننٹ جنرلز اور ان سے اوپر کی سطح پر تقرریاں وزیراعظم کی منظوری اور صدر مملکت کے دستخط کے ساتھ کی جائیں گی"۔


نجم سیٹھی نے کہا کہ اس ترمیم سے رولز آف بزنس میں ان تقرریوں کے حوالے سے تکنیکی طور پر اختیار آرمی چیف کے پاس تھا جسے اب حکومت نے ایک نئی شق شامل کرکے وزیراعظم آفس کو تفویض کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند روز کےدوران ملک میں آئی ایس آئی کے چیئرمین کے حوالے سے ایک گومگو کی کیفیت پائی جاتی ہے، حکومت کی جانب سے اس معاملے میں تاحال کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم خبریں ہیں کہ وزارت دفاع کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی بنانے کیلئے سمری وزیراعظم آفس بھجوادی گئی ہے، اس خبر کی بھی تردید کا تصدیق تاحال نہیں ہوسکی ہے۔
جو کام نواز زرداری ٹبر بار بار باریاں لیکر نہ کر سکا وہ کام عمران خان نے پہلی باری میں کر دیا کیونکہ وہ سلیکٹڈ ہے، نجم سیٹھی
 

zain786

Chief Minister (5k+ posts)
حکومت نے تقرری ہاتھ میں لے لی ہے اور سیٹھی دلال نے جن کی تقرریاں ہونی ہیں ان کا منہ میں لے لیا ہے
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
ان تین انتہای اہم اداروں میں تقرریاں سو فیصد انہی اداروں کے بورڈز آف ڈائریکٹرز یا ہیومن ریسورس کے شعبوں کو دے دی جائیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے
مثلا ایک قانون دان ہی جانتا ہے کہ اس کے جونئیرز وکلا میں سے کونسا اس قابل ہے کہ وہ بیرسٹر بن جاے یا جج بن کر فیصلے کر سکے؟
اسی طرح فوج کا ادارہ ہی جانتا ہے کہ کونسے شعبے میں کس کو لگانا بہتر ہے اسی طرح ایک آی جی پولیس ہی جانتا ہے کہ کس افسر میں اتنی اہلیت ہے کہ اس کی جگہ لے سکے؟
ہم آج صرف فوج کو ڈسکس کریں گے کیونکہ ایک نوٹیفیکیشن کے جھگڑے پر تمام ریاست کا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔ وزیراعظم اور وزرا سارے کام چھوڑ کراسی ایک سمسیا کے پیچھے پڑے ہوے ہیں جیسے انہیں اس ایک کام کیلئے ووٹ دئیے گئے تھے؟
حالانکہ ان کی ڈیوٹیاں کچھ اور ہیں۔ انکی ڈیوٹیاں مہنگای کو کنٹرول کرنا اور عوام کی ہر ہر ادارے میں خدمت کرنا اور درپیش مسائل کو دور کرنا ہے۔ یہ دو ہفتے سے صرف آی ایس چیف کی تقرری پر چوتڑ رگڑ رہے ہیں جیسے انکو معلوم ہو کہ کون سب سے اچھا جنرل ہے؟
پاکستانی عوام کی ایک نیچر ہے کہ جو بھی آرمی چیف آتا ہے وہ ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے۔ عوام اس سے پیار کرنے لگتے ہیں۔ خود میں بھی جنرل باجوہ سے ملا تھا تو ساتھ ایک اور دوست تھا اس کا تعارف ہوا تو باجوہ صاحب نے مسکراتے ہوے کہا کہ آپ کے شہر میں تو مرچوں میں اینٹیں ملادیتے ہیں جس پر ہم سب ہنسے اور وہ دوست شرمندہ ہوگیا
آرمی چیف ہو یا آی ایس چیف یا نیوی چیف یا ائرفورس چیف پاکستانی عوام ان کو اپنی محبت سے نوازتے ہیں اور ان کے نام پر بٹہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ الحمداللہ یہ تمام اصحاب بھی کبھی اپنے نام کے ساتھ بٹہ نہیں لگنے دیتے سواے ایک آدھ مثال کے کہیں کرپشن کا داغ تو کیا شائبہ تک دکھای نہیں دے گا۔
عمران خان نے چونکہ دیگر عہدیدار چنتے ہوے انتہای گندی مثالیں قائم کی ہیں مثلا عثمان بزدار کو چن کر پنجاب تباہ کروا دیا اور محمود خان سے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں جام کمال نے صوبے کو تباہ کردیا ہے ایک دھیلے کا کام نہیں ہوا اور نہ ہی ان کو کوی اپروچ کرسکتا ہے۔لہذا ان بھونڈی تعیناتیوں کو دیکھتے ہوے وزیراعظم کو کوی حق نہیں پنہچتا کہ وہ آرمی کے عہدوں پر بھی اپنی من مرضی کا بندہ لانا چاہیں۔
فوج کے اندر ہر بندے کی فائل موجود ہے جسے دیکھ کر ہی کسی پوزیشن پر موزوں بندے کا چناو کیا جاتا ہے اور یہ کام فوج کے سینیئرز ہی کرتے اچھے لگتے ہیں۔ لہذا وزیراعظم اور ان کے چٹے بٹے باز آجائیں۔میں اپوزیشن سے اپیل کروں گا کہ وہ بھی اقتدار میں آکر فوج کو خودمختار ادارہ بنائیں ہاں رسمی طور پر فوج اگر صدر کو کوی ایک یا زیادہ نام بھیجے تو وہ اسی وقت اس کی منظوری دے سکتے ہیں اول تو اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہئے مگر پھر بھی اگر ملکہ برطانیہ کی طرح علامتی منظوری لینی بھی ہو تو وہ فوری دی جاے
حکومت نے اس معاملے میں قابل شرم کردار ادا کیا ہے اب بھی وقت ہے کہ وہ قدم پیچھے ہٹا کر سوری کرلیں ورنہ کنٹونمنٹس الیکشن کا حشر یاد رکھیں
 

israr0333

Minister (2k+ posts)
Ajeeb selected he khan sahib.. Ko selectors ko select kar raha he..

Wese ye selection maryam ke hath me honi chahiay thi. 😁
 

Malik_007

Senator (1k+ posts)
ان تین انتہای اہم اداروں میں تقرریاں سو فیصد انہی اداروں کے بورڈز آف ڈائریکٹرز یا ہیومن ریسورس کے شعبوں کو دے دی جائیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے
مثلا ایک قانون دان ہی جانتا ہے کہ اس کے جونئیرز وکلا میں سے کونسا اس قابل ہے کہ وہ بیرسٹر بن جاے یا جج بن کر فیصلے کر سکے؟
اسی طرح فوج کا ادارہ ہی جانتا ہے کہ کونسے شعبے میں کس کو لگانا بہتر ہے اسی طرح ایک آی جی پولیس ہی جانتا ہے کہ کس افسر میں اتنی اہلیت ہے کہ اس کی جگہ لے سکے؟
ہم آج صرف فوج کو ڈسکس کریں گے کیونکہ ایک نوٹیفیکیشن کے جھگڑے پر تمام ریاست کا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔ وزیراعظم اور وزرا سارے کام چھوڑ کراسی ایک سمسیا کے پیچھے پڑے ہوے ہیں جیسے انہیں اس ایک کام کیلئے ووٹ دئیے گئے تھے؟
حالانکہ ان کی ڈیوٹیاں کچھ اور ہیں۔ انکی ڈیوٹیاں مہنگای کو کنٹرول کرنا اور عوام کی ہر ہر ادارے میں خدمت کرنا اور درپیش مسائل کو دور کرنا ہے۔ یہ دو ہفتے سے صرف آی ایس چیف کی تقرری پر چوتڑ رگڑ رہے ہیں جیسے انکو معلوم ہو کہ کون سب سے اچھا جنرل ہے؟
پاکستانی عوام کی ایک نیچر ہے کہ جو بھی آرمی چیف آتا ہے وہ ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے۔ عوام اس سے پیار کرنے لگتے ہیں۔ خود میں بھی جنرل باجوہ سے ملا تھا تو ساتھ ایک اور دوست تھا اس کا تعارف ہوا تو باجوہ صاحب نے مسکراتے ہوے کہا کہ آپ کے شہر میں تو مرچوں میں اینٹیں ملادیتے ہیں جس پر ہم سب ہنسے اور وہ دوست شرمندہ ہوگیا
آرمی چیف ہو یا آی ایس چیف یا نیوی چیف یا ائرفورس چیف پاکستانی عوام ان کو اپنی محبت سے نوازتے ہیں اور ان کے نام پر بٹہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ الحمداللہ یہ تمام اصحاب بھی کبھی اپنے نام کے ساتھ بٹہ نہیں لگنے دیتے سواے ایک آدھ مثال کے کہیں کرپشن کا داغ تو کیا شائبہ تک دکھای نہیں دے گا۔
عمران خان نے چونکہ دیگر عہدیدار چنتے ہوے انتہای گندی مثالیں قائم کی ہیں مثلا عثمان بزدار کو چن کر پنجاب تباہ کروا دیا اور محمود خان سے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں جام کمال نے صوبے کو تباہ کردیا ہے ایک دھیلے کا کام نہیں ہوا اور نہ ہی ان کو کوی اپروچ کرسکتا ہے۔لہذا ان بھونڈی تعیناتیوں کو دیکھتے ہوے وزیراعظم کو کوی حق نہیں پنہچتا کہ وہ آرمی کے عہدوں پر بھی اپنی من مرضی کا بندہ لانا چاہیں۔
فوج کے اندر ہر بندے کی فائل موجود ہے جسے دیکھ کر ہی کسی پوزیشن پر موزوں بندے کا چناو کیا جاتا ہے اور یہ کام فوج کے سینیئرز ہی کرتے اچھے لگتے ہیں۔ لہذا وزیراعظم اور ان کے چٹے بٹے باز آجائیں۔میں اپوزیشن سے اپیل کروں گا کہ وہ بھی اقتدار میں آکر فوج کو خودمختار ادارہ بنائیں ہاں رسمی طور پر فوج اگر صدر کو کوی ایک یا زیادہ نام بھیجے تو وہ اسی وقت اس کی منظوری دے سکتے ہیں اول تو اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہئے مگر پھر بھی اگر ملکہ برطانیہ کی طرح علامتی منظوری لینی بھی ہو تو وہ فوری دی جاے
حکومت نے اس معاملے میں قابل شرم کردار ادا کیا ہے اب بھی وقت ہے کہ وہ قدم پیچھے ہٹا کر سوری کرلیں ورنہ کنٹونمنٹس الیکشن کا حشر یاد رکھیں
isi tarah wada dalla jis ko 4 attacks ho chukay hain janta ha k uski churail beti he sahi choice ha next leadership k liyeh !!!!
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
Ajeeb selected he khan sahib.. Ko selectors ko select kar raha he..

Wese ye selection maryam ke hath me honi chahiay thi. 😁
حکومت نے تقرری ہاتھ میں لے لی ہے اور سیٹھی دلال نے جن کی تقرریاں ہونی ہیں ان کا منہ میں لے لیا ہے
حکومت نے فوج میں تقرریاں اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں اور سیٹھی جیسے لفافوں نے میاں صاحب کا منہ میں لیا ہوا ہے۔
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
ہم آج صرف فوج کو ڈسکس کریں گے کیونکہ ایک نوٹیفیکیشن کے جھگڑے پر تمام ریاست کا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔
بالکل یار۔ ابھی تو میاں مفرور نے اس پر سیاست چمکانی تھی، این آر او لینا تھا۔ سارا نظام ہی مفلوج کر دیا ہے عمران نیازی نے۔ اللہ اسے پوچھے۔ اسے میاں مفرور کی آہ لگے لندن سے۔
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
وزیراعظم اور وزرا سارے کام چھوڑ کراسی ایک سمسیا کے پیچھے پڑے ہوے ہیں جیسے انہیں اس ایک کام کیلئے ووٹ دئیے گئے تھے؟
یعنی تو آج غلطی سے یہ تسلیم کر بیٹھا کہ عمران نیازی کے وزرا کام بھی کرتے ہیں
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
بالکل یار۔ ابھی تو میاں مفرور نے اس پر سیاست چمکانی تھی، این آر او لینا تھا۔ سارا نظام ہی مفلوج کر دیا ہے عمران نیازی نے۔ اللہ اسے پوچھے۔ اسے میاں مفرور کی آہ لگے لندن سے۔
تم تو غصہ ہی کرگئے؟
میں تم لوگوں کی نوکری (چاٹا چاٹی) نہیں چھین رہا وہ کام تم کرتے رہو گے بلا روک ٹوک
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
ان تین انتہای اہم اداروں میں تقرریاں سو فیصد انہی اداروں کے بورڈز آف ڈائریکٹرز یا ہیومن ریسورس کے شعبوں کو دے دی جائیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے
مثلا ایک قانون دان ہی جانتا ہے کہ اس کے جونئیرز وکلا میں سے کونسا اس قابل ہے کہ وہ بیرسٹر بن جاے یا جج بن کر فیصلے کر سکے؟
اسی طرح فوج کا ادارہ ہی جانتا ہے کہ کونسے شعبے میں کس کو لگانا بہتر ہے اسی طرح ایک آی جی پولیس ہی جانتا ہے کہ کس افسر میں اتنی اہلیت ہے کہ اس کی جگہ لے سکے؟
ہم آج صرف فوج کو ڈسکس کریں گے کیونکہ ایک نوٹیفیکیشن کے جھگڑے پر تمام ریاست کا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔ وزیراعظم اور وزرا سارے کام چھوڑ کراسی ایک سمسیا کے پیچھے پڑے ہوے ہیں جیسے انہیں اس ایک کام کیلئے ووٹ دئیے گئے تھے؟
حالانکہ ان کی ڈیوٹیاں کچھ اور ہیں۔ انکی ڈیوٹیاں مہنگای کو کنٹرول کرنا اور عوام کی ہر ہر ادارے میں خدمت کرنا اور درپیش مسائل کو دور کرنا ہے۔ یہ دو ہفتے سے صرف آی ایس چیف کی تقرری پر چوتڑ رگڑ رہے ہیں جیسے انکو معلوم ہو کہ کون سب سے اچھا جنرل ہے؟
پاکستانی عوام کی ایک نیچر ہے کہ جو بھی آرمی چیف آتا ہے وہ ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے۔ عوام اس سے پیار کرنے لگتے ہیں۔ خود میں بھی جنرل باجوہ سے ملا تھا تو ساتھ ایک اور دوست تھا اس کا تعارف ہوا تو باجوہ صاحب نے مسکراتے ہوے کہا کہ آپ کے شہر میں تو مرچوں میں اینٹیں ملادیتے ہیں جس پر ہم سب ہنسے اور وہ دوست شرمندہ ہوگیا
آرمی چیف ہو یا آی ایس چیف یا نیوی چیف یا ائرفورس چیف پاکستانی عوام ان کو اپنی محبت سے نوازتے ہیں اور ان کے نام پر بٹہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ الحمداللہ یہ تمام اصحاب بھی کبھی اپنے نام کے ساتھ بٹہ نہیں لگنے دیتے سواے ایک آدھ مثال کے کہیں کرپشن کا داغ تو کیا شائبہ تک دکھای نہیں دے گا۔
عمران خان نے چونکہ دیگر عہدیدار چنتے ہوے انتہای گندی مثالیں قائم کی ہیں مثلا عثمان بزدار کو چن کر پنجاب تباہ کروا دیا اور محمود خان سے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں جام کمال نے صوبے کو تباہ کردیا ہے ایک دھیلے کا کام نہیں ہوا اور نہ ہی ان کو کوی اپروچ کرسکتا ہے۔لہذا ان بھونڈی تعیناتیوں کو دیکھتے ہوے وزیراعظم کو کوی حق نہیں پنہچتا کہ وہ آرمی کے عہدوں پر بھی اپنی من مرضی کا بندہ لانا چاہیں۔
فوج کے اندر ہر بندے کی فائل موجود ہے جسے دیکھ کر ہی کسی پوزیشن پر موزوں بندے کا چناو کیا جاتا ہے اور یہ کام فوج کے سینیئرز ہی کرتے اچھے لگتے ہیں۔ لہذا وزیراعظم اور ان کے چٹے بٹے باز آجائیں۔میں اپوزیشن سے اپیل کروں گا کہ وہ بھی اقتدار میں آکر فوج کو خودمختار ادارہ بنائیں ہاں رسمی طور پر فوج اگر صدر کو کوی ایک یا زیادہ نام بھیجے تو وہ اسی وقت اس کی منظوری دے سکتے ہیں اول تو اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہئے مگر پھر بھی اگر ملکہ برطانیہ کی طرح علامتی منظوری لینی بھی ہو تو وہ فوری دی جاے
حکومت نے اس معاملے میں قابل شرم کردار ادا کیا ہے اب بھی وقت ہے کہ وہ قدم پیچھے ہٹا کر سوری کرلیں ورنہ کنٹونمنٹس الیکشن کا حشر یاد رکھیں
Boot ko Izzat Do
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
یہ دو ہفتے سے صرف آی ایس چیف کی تقرری پر چوتڑ رگڑ رہے ہیں جیسے انکو معلوم ہو کہ کون سب سے اچھا جنرل ہے؟
بالکل یار۔ جب میاں مفرور ایک درباری جنرل بٹ کو آئی ایس آئی چیف اور پھر آرمی چیف بنا سکتے ہیں تو عمران نیازی یہ کام کیوں نہیں کر سکتا؟ اس کیلئے سویلین بالا دستی کا معیار الگ کیوں ہے؟
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
پاکستانی عوام کی ایک نیچر ہے کہ جو بھی آرمی چیف آتا ہے وہ ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے۔
تو پھر تیرے میاں مفرور کی ہر جنرل سے لڑائی کیسے ہو جاتی ہے؟ وہ پاکستانی عوام میں سے نہیں ہے؟ بھارتی عوام میں سے ہے؟
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
یعنی تو آج غلطی سے یہ تسلیم کر بیٹھا کہ عمران نیازی کے وزرا کام بھی کرتے ہیں
ایک وزیر اپنے آفس میں کچھ نہ کچھ تو کرتا ہی ہوگا اور نہیں تو اوپر کی منزل سے ادھر ادھر تانک جھانک ہی کرتا رہتا ہوگا۔ سیکرٹری سے چاے لاو، پانی لاو کہتا ہوگا اور محمکے کے سیکرٹریز کو کہتا ہوگا کہ اس ماہ دو کروڑ کم کیوں ملا ہے۔ مہنگای ہے تو میں کیا کروں میری بیگم نے کہا ہے کہ ضرور انگلینڈ جا کر شاپنگ کروں گی کیونکہ سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے رہوڈز میں پھررہی ہوں؟
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
آرمی چیف ہو یا آی ایس چیف یا نیوی چیف یا ائرفورس چیف پاکستانی عوام ان کو اپنی محبت سے نوازتے ہیں اور ان کے نام پر بٹہ نہیں دیکھنا چاہتے۔
بالکل یار۔ یہی جرنیل بار بار کرپشن کیسز میں این آر او بھی تو دیتے ہیں۔ کتنے پیارے ہیں نا؟
 
Sponsored Link