روس کا غیر دوست ممالک کو اپنی کرنسی میں گیس فروخت کرنے کا فیصلہ

russia-oil11.jpg


روسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ روس نے غیر دوست ممالک کو گیس کی فروخت کیلئے اپنی کرنسی میں ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمرپیوٹن نے کہا ہے کہ روس غیر دوستانہ ممالک سے گیس کی فروخت کیلئے روسی کرنسی روبل میں ادائیگی کا مطالبہ کرے گا ،اس سے یورپی ممالک میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد کیا گیا تاکہ روسی معیشت کو سہارا دیا جائے اور اسی لیے روس کی جانب سے مقامی سطح پر نکالی جانے والی گیس پر معاشی انحصار بھی بڑھ گیا ہے۔

روسی صدر نے اپنے ایک بیان میں عالمی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ روس کا جو غیر دوست ملک ہماری گیس خریدنا چاہتا ہے اسے ہماری کرنسی روبل میں ہی ادائیگی کرنا ہوگی، روس حجم اور قیمتوں پر طے ہونے معاہدوں کو پایہ تکمیل پہنچانے اور ان معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی کو جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں جارہی بس ادائیگیوں کیلئے کرنسی کی تبدیلی کی جارہی ہے یعنی اب ادائیگیوں کیلئے گیس خریدنے والے کو کسی اور کرنسی کے بجائے روسی کرنسی روبل میں ادائیگی کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک میں استعمال ہونے والی مجموعی گیس میں 40 فیصد گیس روس سے امپورٹ کی جاتی ہے، روسی صدر کے اس اعلان کے بعد روسی کرنسی جو 24 فروری کے یوکرین حملے کے بعد تنزلی کاشکار تھی تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔
 
Advertisement

JusticeLover

Minister (2k+ posts)
یہ مسلہ اس بات کا مظھر ھے کہ کرنسی قابل اعتماد نھیں۔
دنیا کو سونے کو کرنسی کے طور پر اپنانا ھوگا۔
 

A.jokhio

Minister (2k+ posts)
russia-oil11.jpg


روسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ روس نے غیر دوست ممالک کو گیس کی فروخت کیلئے اپنی کرنسی میں ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمرپیوٹن نے کہا ہے کہ روس غیر دوستانہ ممالک سے گیس کی فروخت کیلئے روسی کرنسی روبل میں ادائیگی کا مطالبہ کرے گا ،اس سے یورپی ممالک میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد کیا گیا تاکہ روسی معیشت کو سہارا دیا جائے اور اسی لیے روس کی جانب سے مقامی سطح پر نکالی جانے والی گیس پر معاشی انحصار بھی بڑھ گیا ہے۔

روسی صدر نے اپنے ایک بیان میں عالمی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ روس کا جو غیر دوست ملک ہماری گیس خریدنا چاہتا ہے اسے ہماری کرنسی روبل میں ہی ادائیگی کرنا ہوگی، روس حجم اور قیمتوں پر طے ہونے معاہدوں کو پایہ تکمیل پہنچانے اور ان معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی کو جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں جارہی بس ادائیگیوں کیلئے کرنسی کی تبدیلی کی جارہی ہے یعنی اب ادائیگیوں کیلئے گیس خریدنے والے کو کسی اور کرنسی کے بجائے روسی کرنسی روبل میں ادائیگی کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک میں استعمال ہونے والی مجموعی گیس میں 40 فیصد گیس روس سے امپورٹ کی جاتی ہے، روسی صدر کے اس اعلان کے بعد روسی کرنسی جو 24 فروری کے یوکرین حملے کے بعد تنزلی کاشکار تھی تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔
right decision but it will have consequences.....
 

khipk

Senator (1k+ posts)
Is per ek kahawat yaad ayee..

"بڑا کدو پر تیر مار لیا، واہ"

Current importers of Russian gas are contemplating ban on it, and this will just make their decision easier. Putin is making one disastrous decision after another. Russian Rubble and its economy is in downfall, similar to situation which resulted in the collapse of soviet union in 1991.
 
Sponsored Link