سویڈن کے بچے کا نام ولادی میرپیوٹن کیوں نہیں رکھا جاسکتا؟

sweidi121.jpg


بچے کا نام والدین رکھتے ہیں یا پھر گھر کے افراد، لیکن یہ کیا سویڈن کے ایک جوڑے کو اپنے بچے کا من پسند نام رکھنے سے روک دیا گیا، جی ہاں سویڈن کے جوڑے کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا نام پر اپنے بچے کا نام رکھنے کا سوچا، لیکن حکام نے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔


سویڈن حکومت نے نوجوان جوڑے کو بچے کا نام روسی صدر کے نام پر رکھنے سے منع کردیا،بچے کا نام روسی صدر کے نام پر رکھنے کی درخواست سویڈش ٹیکس ادارے اسکاٹورکیٹ نے مسترد کردی،

درخواست مسترد کرنے کی وجہ تو نہیں بتائی گئی لیکن اسکینڈے نیویا ممالک یعنی ڈنمارک، سوئیڈن اور ناروے کے قانون کے مطابق بچے کیلئے ایسے نام کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا جو مستقبل میں بچے کے لیے مسائل لائے۔




سویڈن میں والدین کے لیے اپنے نوزائیدہ بچوں کے نام ان کے پیدا ہونے کے پہلے تین ماہ کے اندر رجسٹر کرانا ضروری ہے،یہ قانون 1982 میں نافذ ہوا جسے 2017 میں مزید اپ ڈیٹ کردیا گیا،قانون کے مطابق بچے کا پہلا نام ایسا نہ ہو جس سے مسائل ہوں، بچے کے پہلے نام کی اس کے خاندانی نام سے مشابہت بھی نہیں ہونی چاہئے،یہ قانون اپنا نام تبدیل کرنے کے خواہشمند بالغ افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔


سوئڈن کے سرکاری اعداد و شمارمیں ولادی میر نام کےایک ہزار سے زائد افراد ہیں،سویڈن میں لڑکوں کے سب سے زیادہ مشہور ناموں میں لوکاس، لیام، آسکر، نوح، ولیم، ہیوگو،اولیور، میٹیو، الیاس اور ایڈم ہیں،بچے کے نام کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اب جوڑے کو ایک اور درخواست بھیجنا ہوگی۔
 
Advertisement
Sponsored Link