شہباز گل پرمبینہ تشدد کیس،اسلام آبادہائیکورٹ کا آئی جی کوانکوائری کاحکم

shhebaz-gill-arrest-HC-IG.jpg


شہباز گل پر مبینہ تشدد کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی کو انکوائری کا حکم دے دیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کیس کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو شہباز گل پر تشدد سے متعلق انکوائری کا حکم دے دیا اور پولیس کو کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شہباز گل سے ملاقات کی اجازت کا غلط استعمال نہ ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے وکلاء اور دوستوں کو ملنے کی اجازت دے دی اور کہا کہ تشدد پر پولیس کی ابتدائی رپورٹ دیکھ لیں پھر فیصلہ کریں گے کہ جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے یا نہیں۔

پی ٹی آئی رہنماء ڈاکٹر شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل نے ابتدائی طور پر میڈیکل چیک اپ کروانے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت عالیہ نے ریمارکس مبینہ تشدد کے حوالے سے دیتے ہوئے کہا کہ آہ و بکا مچی ہوئی ہے تشدد ہوگیا، کیا یہ میڈیا ہائپ ہے یا واقعی ایسا ہوا ہے؟ ،ریمانڈ کا کیس اس لئے سن رہے ہیں کہ شہباز گل سیاسی شخصیت ہیں، عام افراد کے تو روزانہ ریمانڈ ہوتے ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران شہباز گل کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ کسی کو شہباز گل سے ملنے نہیں دیا جا رہا جبکہ وکلاء ملاقات کے حوالے سے قانون کی تعریف کرنے سے قاصر رہے، سپیکر پبلک پراسیکیوٹر نے ملزم سے ملاقات کا قانون کا بتایا۔ عدالت نے کہا کہ ابھی شہباز گل تکنیکی طور پر ریمانڈ پر نہیں ہیں اس لیے معطلی کی ضرورت ہی نہیں، اس حوالے سے تحریری حکم نامہ جاری کریں گے اور کیس کی سماعت کو سوموار تک ملتوی کر دیا ہے۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ معذرت کیساتھ میڈیا میں میری غلط رپورٹ شائع ہوتی ہے، خبر کچھ ہوتی ہے اور سرخی کچھ لگتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آئی جی اسلام آباد بتائیں آپ کیا اقدامات کریں گے؟ شہباز گل کے وکلاء نے جواب میں عدالت میں بیان دیا کہ ہمیں ان پر اعتماد نہیں ہے۔ شہباز گل کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسے نہیں کریں کورٹ روم کو سرکس نہ بنائیں۔

شہباز گل کی پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ پولیس نے ڈیوٹی جج جوڈیشل راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں جمع کرائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چار سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے طبی معائنہ کیا اور بتایا کہ انہیں بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے اور ضرورت پڑنے پر برونکڈیلٹر کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ وہ جسم میں درد محسوس کر رہے ہیں، کندھے، گردن اور چھاتی کی بائیں جانب درد بھی ہے جس پر ان کا ای سی جی کیا گیا۔ میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کا ایکس رے، یورک ایسڈ، خون اور دل کا ٹیسٹ کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ کارڈیالوجسٹ اور پلمانولوجسٹ طبی معائنہ کریں۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے میڈیکل افسر اڈیالہ جیل سے پوچھا کہ پھر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ کو میں نے علاج کے لیے تو نہیں بلایا۔عدالت نے سوال کیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کدھر ہیں؟ جس کے جواب میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل تبدیل ہو گئے، میرے پاس چارج ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ لوگوں کو شوکاز نوٹس جاری کر رہا ہوں، شام چار بجے روبکار ملی تو رات نو بجے حوالگی کیوں کی؟میڈیکل افسر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل نے سوا چار بجے دل کی تکلیف کی شکایت کی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیسے ہی ایڈیشنل سیشن جج کے ریمانڈ کا آرڈر ملا تو تکلیف ہو گئی۔
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Wah Judge sahib..Kia zahanat ha ap ki..wo bhi justice level par..jinho ne S Gill par torture kia aur karwaya..un se kaha jaa raha ha ke Inquiry kar ke report do..
Ye tu aisay hi ha ke kisi ghar mein Chori karnay walay Choor se kaha jaya ke ap investigate kar ke batao ke is ghar mein chori kis ne ki?
Main sadqay jawaan Justice Farooq sahib..
 

Zulu67

MPA (400+ posts)
shhebaz-gill-arrest-HC-IG.jpg


شہباز گل پر مبینہ تشدد کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی کو انکوائری کا حکم دے دیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کیس کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو شہباز گل پر تشدد سے متعلق انکوائری کا حکم دے دیا اور پولیس کو کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شہباز گل سے ملاقات کی اجازت کا غلط استعمال نہ ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے وکلاء اور دوستوں کو ملنے کی اجازت دے دی اور کہا کہ تشدد پر پولیس کی ابتدائی رپورٹ دیکھ لیں پھر فیصلہ کریں گے کہ جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے یا نہیں۔

پی ٹی آئی رہنماء ڈاکٹر شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل نے ابتدائی طور پر میڈیکل چیک اپ کروانے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت عالیہ نے ریمارکس مبینہ تشدد کے حوالے سے دیتے ہوئے کہا کہ آہ و بکا مچی ہوئی ہے تشدد ہوگیا، کیا یہ میڈیا ہائپ ہے یا واقعی ایسا ہوا ہے؟ ،ریمانڈ کا کیس اس لئے سن رہے ہیں کہ شہباز گل سیاسی شخصیت ہیں، عام افراد کے تو روزانہ ریمانڈ ہوتے ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران شہباز گل کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ کسی کو شہباز گل سے ملنے نہیں دیا جا رہا جبکہ وکلاء ملاقات کے حوالے سے قانون کی تعریف کرنے سے قاصر رہے، سپیکر پبلک پراسیکیوٹر نے ملزم سے ملاقات کا قانون کا بتایا۔ عدالت نے کہا کہ ابھی شہباز گل تکنیکی طور پر ریمانڈ پر نہیں ہیں اس لیے معطلی کی ضرورت ہی نہیں، اس حوالے سے تحریری حکم نامہ جاری کریں گے اور کیس کی سماعت کو سوموار تک ملتوی کر دیا ہے۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ معذرت کیساتھ میڈیا میں میری غلط رپورٹ شائع ہوتی ہے، خبر کچھ ہوتی ہے اور سرخی کچھ لگتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آئی جی اسلام آباد بتائیں آپ کیا اقدامات کریں گے؟ شہباز گل کے وکلاء نے جواب میں عدالت میں بیان دیا کہ ہمیں ان پر اعتماد نہیں ہے۔ شہباز گل کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسے نہیں کریں کورٹ روم کو سرکس نہ بنائیں۔

شہباز گل کی پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ پولیس نے ڈیوٹی جج جوڈیشل راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں جمع کرائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چار سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے طبی معائنہ کیا اور بتایا کہ انہیں بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے اور ضرورت پڑنے پر برونکڈیلٹر کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ وہ جسم میں درد محسوس کر رہے ہیں، کندھے، گردن اور چھاتی کی بائیں جانب درد بھی ہے جس پر ان کا ای سی جی کیا گیا۔ میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کا ایکس رے، یورک ایسڈ، خون اور دل کا ٹیسٹ کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ کارڈیالوجسٹ اور پلمانولوجسٹ طبی معائنہ کریں۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے میڈیکل افسر اڈیالہ جیل سے پوچھا کہ پھر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ کو میں نے علاج کے لیے تو نہیں بلایا۔عدالت نے سوال کیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کدھر ہیں؟ جس کے جواب میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل تبدیل ہو گئے، میرے پاس چارج ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ لوگوں کو شوکاز نوٹس جاری کر رہا ہوں، شام چار بجے روبکار ملی تو رات نو بجے حوالگی کیوں کی؟میڈیکل افسر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل نے سوا چار بجے دل کی تکلیف کی شکایت کی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیسے ہی ایڈیشنل سیشن جج کے ریمانڈ کا آرڈر ملا تو تکلیف ہو گئی۔
Nasir Butt, Gandowah, your title heading is misleading. Mother effer.
Alleged?? He was kidnapped by brown bristish army retarded Illegitimate traitor Generals pimps.
 

Hate_Nooras

Chief Minister (5k+ posts)
So the guy behind the torture is going to do the enquiry. I am reading this right because surely I must be mistaken
 

feeqa

Senator (1k+ posts)
This is all BS from brothel courts. These MF judges have no spine & can opened their legs for bastard rogue establishment
 
Sponsored Link