شہریوں کو لاپتہ کرنے میں ریاست خود ملوث ہو تو تفتیش کون کرے گا؟

1ihcmisingnaru.jpg

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی و بلاگر مدثر نارو سمیت دیگر مسنگ پرسنز کیسز کی سماعت کی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست پر جبری گمشدگی کیسز کی مؤثر تفتیش کے لیے3 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے 14 فروری تک رپورٹ طلب کر لی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف کے مترادف ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے اس متعلق واضح پیغام آنا چاہیے، ایسے کیسز میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ ریاست خود ملوث ہو تو تفتیش کون کرے گا؟

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے کہا کہ ایک صحافی کو یونیفارم میں ملبوس لوگوں نے اٹھایا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے مگر تفتیش میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ اٹارنی جنرل نے کہا گزشتہ ایک دہائی کے دوران کافی تعداد میں لوگ غائب ہوئے، اکثر نے جہاد میں شرکت کے لیے ملک چھوڑا۔


اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ ایسا بھی ہوا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سپاہیوں کے سر چوراہوں پرلٹکائے گئے، کسی بھی حکومت کی یہ پالیسی نہیں تھی کہ لوگوں کو زبردستی اٹھایا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا وفاقی حکومت نے پھر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ ایک چیف ایگزیکٹو نے کتاب میں لکھا کہ یہ پالیسی تھی۔ اٹارنی جنرل نے کہا وہ غاصب تھے، انہیں منتخب چیف ایگزیکٹوز کے ساتھ نہ ملایا جائے، وہ تو مکا بھی دکھا رہے تھے، اب مفرور اور اشتہاری ہیں، نوازشریف، یوسف رضا گیلانی اور عمران خان سمیت کسی کی یہ پالیسی نہیں تھی کہ لوگوں کو غائب کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی کی نشاندہی ہو جائے اور چیف ایگزیکٹو ایکشن نہ لیں تو وہ جوابدہ ہیں، اگر ایک دفعہ کسی کو سزا ہوجائے تو یہ اچھا میسج جائے گا۔ ایس ای سی پی افسر کو اٹھایا گیا جس نے واپس آ کر کہا کہ وہ شمالی علاقہ جات گیا تھا، آپ بتائیں کہ اس معاملے میں کیسے آگے بڑھا جائے؟

اٹارنی جنرل نے کہا جس کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہے اس کیس سے شروع کر لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا آئین کے مطابق آرمڈ فورسز بھی وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کرسکتیں، کسی کو یہاں سمن کرنا مسئلے کا حل نہیں، آپ اس کورٹ کو حل بتائیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہاں سپریم کورٹ ہے، ہائیکورٹ ہے، وزیراعظم سیکرٹریٹ اورانٹیلی جنس ایجنسی کے دفاتر ہیں، اگروفاقی دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی جگہوں کی کیا صورتحال ہوگی؟ ایسے واقعات سے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ بھی ایکٹو ہو جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت رپورٹ نہیں ایکشن چاہتی ہے، یہ کورٹ کسی کو سمن کر کے کیا کہے گی؟ وہ کہے گا مجھے نہیں پتہ، آپ کی بات ٹھیک ہے کہ لوگ جینوئن بھی غائب ہوسکتے ہیں، لیکن ایسے واقعات کی وجہ سے لوگ ریاست پرشک کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں لیکن وہاں لوگوں کا ریاست پراعتماد ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں میں جو لوگ بھی ملوث ہیں، یہ وفاقی حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا لاپتہ افراد کے 8279 کیسز ہیں، انہوں نے ایک مسنگ پرسن کیس میں ملوث انٹیلی جنس افسر کی تصویر دکھائی تو لاپتہ شہری واپس آگیا اور بیان رکارڈ کرایا کہ وہ افغانستان چلا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا عدالت کس کو ذمہ دار ٹھہرائے؟ حکومت اور وفاقی کابینہ جوابدہ ہے، اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ آئی جی اسلام آباد سے اس متعلق رپورٹ منگوا لیں۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت رپورٹ نہیں ایکشن چاہتی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے کمیشن کا صرف یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرائے، سینکڑوں افراد جبری گمشدگیوں کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ ریاست نہیں کہہ سکتی کہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں، تفتیش میں کیا ہوا؟

ایمان مزاری نے کہا اگر کوئی شخص لاپتہ ہو جائے تو اس کو تلاش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اس حوالے سے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا وفاقی حکومت کا واضح پیغام آنا چاہیے کہ اس معاملے کوبرداشت نہیں کیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا پتہ بھی تو چلے کہ یہ پیغام دینا کس کو ہے؟ عدالت نے جبری گمشدگیوں کے ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیسز کی لسٹ اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیسز کی موثر تفتیش کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دی اورآئندہ سماعت پر 14 فروری کو حتمی دلائل طلب کر لیے۔
 
Advertisement
Sponsored Link