طارق ملک پھر چیئرمین نادرا تعینات

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
938979_4944988_tariq-malik-nadra_updates.jpg


اسلام آباد: (دنیا نیوز) فواد چودھری نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کی تجاویز کا انتظار ہے، پانچ سو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا آرڈر دینے جا رہے ہیں، طارق ملک کو چیئرمین نادرا تعینات کر دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلم ممالک کو انتہا پسندی کا طعنہ دینے والے اپنے اندر جھانکیں، مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا سرایت کر گیا، مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا تدارک کیا جائے، وزیراعظم واحد لیڈر ہیں جو اسلامو فوبیا پر بات کر رہے ہیں، پاکستانی نژاد کینیڈین خاندان کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کی تجاویز کا انتظار ہے، تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں، انتخابی اصلاحات سے متعلق بل قومی اسمبلی میں ہے، ن لیگ نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کر دی، ن لیگ نے پٹیشن دائر کر دی ہے، ن لیگ کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں، تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے پر پیپلزپارٹی کے مؤقف کا انتظار ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ طارق ملک کو چیئرمین نادرا تعینات کرنے کی منظوری دی، طارق ملک کو نادرا کے نظام کی پہلے سے سمجھ ہے، طارق ملک نادرا کی تنظیم نو کر پائیں گے، موجودہ حکومت نے 60 سے زائد اداروں کے سربراہ تعینات کیے، حکومتی کوششوں سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن خسارے سے باہر آگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے قومی ترانے کی دوبارہ سے ریکارڈنگ کی منظوری دی، پہلے قومی ترانے کی اینا لوگ ریکارڈنگ ہے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیر قانون نے فوجداری قوانین میں اصلاحات سے متعلق وزیراعظم کو بریف کیا، وزیر خارجہ ہوائی اڈوں سے متعلق سینیٹ میں پالیسی بیان دے چکے ہیں۔


Source
 
Advertisement

kakamuna420

Chief Minister (5k+ posts)
Da traa zwai de dai sa? Anyway agree good choice. Hope other riff raffs are also replaced by competent and educated people.
I think it should be more transparent. Publish the position, let everybody apply to it, hold interviews and then make a decision. Why are we installing IMF and foreign people who run away when they are not in position. Where is hafeez sheikh?
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
طارق ملک پہلے بھی نادرا کا چیئرمین رہ چکا ہے
جب 2013 میں نون لیگ کی حکومت بنی تو پی ٹی آئی نے دھاندلی کا ایشو اُٹھایا۔ اس وقت طارق نے بتایا کہ نادرا کے پاس یہ استعداد موجود ہے کہ وہ ایک ایک ووٹ کی تصدیق کر سکتا ہے۔ یہ کہنا تھا کہ نون لیگ کو آگ لگ گئی۔ بعد میں حکومت کے ایما پر وزیر داخلہ چودھری نثار نہ صرف انہیں ہٹایا بلک اب کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی۔ یہ ایف آئی آر عدالت کے حکم پر ختم ہوئی۔ جو لوگ آج ووٹ کو عزت دینا چاہتے ہیں انہیں لوگوں نے طارق ملک کو ووٹ کے تقدس کا بیان دینے پر انتقام کا نشانہ بنایا۔
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
اسلام آباد کی عدالت نے سابق چیئرمین نادرا طارق ملک کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

جج شائستہ خان کنڈی نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ طارق ملک کے خلاف 12 مئی 2014 کو درج کردہ ایف آئی آر نمبر 53 کو خارج کیا جائے۔

یہ مقدمہ مبینہ طور پر اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے حکم پر درج کیا گیا تھا۔

سابق چیئرمین نادرا پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتے وقت دوہری شہریت کو پوشیدہ رکھا تھا۔

طارق ملک نے ایف آئی آر سے اپنا نام خارج کرانے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد انہوں نے کہا کہ اگرچہ فیصلہ میرے حق میں آیا ہے تاہم پاکستان میں حصول انصاف کے لیے مروجہ طریق کار بذات خود ایک سزا کے مترادف ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ جن لوگوں نے ان پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات عائد کیے جو عدالت میں بھی جھوٹے ثابت ہوئے، انہیں سزا کیوں نہیں دی جاتی؟

انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ اسی وقت ختم ہو جانا چاہیئے تھا جب رواں برس فروری میں سیینئر سول جج نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

طارق ملک، جو اس وقت اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے اپنی غیر موجودگی میں درج کی گئی ایف آئی آر کو چیلنج کیا تھا اور ذاتی طور پر سینئر سیشن جج سہیل ناصر کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔



سینئر سیشن جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ طارق ملک کے خلاف اس موقع پر کس قسم کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے میں تحریر کیا تھا کہ وہ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ ابھی تک اس کیس کی تحقیقات کیوں جاری ہیں جبکہ حکومت پاکستان نے ڈائرکٹر جنرل پاسپورٹ کے 19 نومبر 2018 کو لکھے گئے خط میں یہ بات واضح کر دی تھی کہ بظاہر مدعی کی جانب سے پاسپورٹ سے متعلقہ کوئی جرم سرزد نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی شناختی کارڈز کا اجرا، نادرا کے 120 ملازمین برطرف

سابق چیئرمین نادرا کے وکیل ایڈووکیٹ قوسین مفتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت جب 2013 میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کے موکل کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر 4451 میں کیس ہاری تو اس نے نے جلد بازی میں غلط اور من گھڑت الزامات عائد کر دیے۔

انہوں نے عدالت کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 13 دسمبر 2013 کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بظاہر یہ مدعی کو نشانہ بنانے کا مقدمہ نظر آتا ہے جس کے لیے مواد اکٹھا کر کے ریکارڈ پر لایا گیا۔

ہائیکورٹ نے فیصلے میں مزید لکھا کہ جب انتخابی عملے نے تصدیق کے لیے کچھ کیسز بھیجے تو حکومت ایک طویل خواب غفلت سے بیدار ہو گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں مزید لکھا کہ بظاہر جب مدعی نے حکومتی احکامات ماننے سے انکار کیا تو غیر معمولی رفتار سے ایک ہی دن میں تمام ایکشن لیا گیا جو بعد ازاں خودساختہ نظر آ رہا ہے.

یاد رہے کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں ملنے کے بعد طارق ملک نے جنوری 2014 میں چیئرمین نادرا کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ وہ اس وقت 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے اعلی عدلیہ اور انتخابی ٹربیونلز کی مدد کر رہے تھے۔

 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں