طالبان نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی وزارت بنا دی

6.jpg

افغانستان میں طالبان حکمرانوں نےامور خواتین کی وزارت ختم کرکے ’نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے‘ کی وزارت قائم کر دی۔

تفصیلات کے مطابق کابل پر طالبان کو کنٹرول حاصل ہوئے ایک ماہ کا مختصر وقت گزرا ہے جس میں ان کے اکثر اقدامات کو خواتین کے حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے، بروزجمعہ ’وزارت خواتین‘ کے نام کا بورڈ وزارت کی عمارت سے ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بورڈ لگا دیا گیا۔

طالبان رکن کے مطابق کہ یہ وزارت اہم ہے اور اس کا بنیادی مقصد اسلام کی خدمت کرنا ہے، اس لیے نیکی کے فروغ اور برائی کی روک تھام کے لیے ایک وزارت ہونا ضروری ہے۔


دوسری جانب خواتین امور کی وزارت میں کام کرنے والی ملازم خواتین کا کہنا ہے کہ’ہم کئی ہفتوں سے کام پر واپس آنے کی کوشش کر رہی تھیں ، لیکن ہمیں عمارت میں داخلے سے منع کیا جا رہا تھا‘۔

ورلڈ بینک کے 10 کروڑ ڈالر کے وومن اکنامک امپاورمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ پروگرام سے وابستہ شریف اختر نے بتایا کہ انہیں اور دیگر عملے کو عمارت سے باہر نکال دیا۔

افغان خواتین کے نیٹ ورک کی سربراہ مابوبا سورج نے کہا کہ وہ طالبان کی حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر پابندی لگانے کے احکامات سے حیران رہ گئی ہیں، انہوں نےمزید کہا کہ یہ واقعی بہت پریشان کن صورتحال ہے۔

90 کی دہائی میں طالبان نے ’نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے‘ کی وزارت قائم کی تھی جبکہ طالبان کی سابقہ حکومت میں بھی لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا اور انہیں عوامی زندگی سے روک دیا گیا تھا۔
 
Advertisement

atensari

President (40k+ posts)
جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے افغانستان کو خوراک اور ادویات فراہم کرنے کے لئے شرائط اور پابندیاں لگا موجود حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں​
 
Sponsored Link