طلاق کوئی بری چیز نہیں

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
بل گیٹس اور میلنڈا گیٹس نے 27 سال ایک ساتھ بطور میاں بیوی گزارنے کے بعد اب علیحدگی یعنی طلاق کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دونوں نے یہ فیصلہ باہمی رضامندی اور خوشی سے کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ پہلے کی طرح مل کر اپنے فاؤنڈیشن کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ یہ وہ عنصر ہے جو ہمارے معاشروں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کا مطلب ہوتا ہے، لڑائی، جھگڑا، ناراضگی، ناپسندیدگی وغیرہ وغیرہ۔ جب تک میاں بیوی ایک ساتھ رہتے رہیں، بھلے ان کے تعلقات کتنے ہی خراب ہوں، بھلے وہ ایک دوسرے سے کتنے ہی ناخوش کیوں نہ ہوں، اس کو کامیاب شادی تصور کیا جاتا ہے اور طلاق کو نہایت ہی ناپسندیدہ اور معیوب فعل سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر عورت کے معاملے میں۔ ہماری قوم چونکہ عقل و فہم کے استعمال سے دور بھاگتی ہے اور صدیوں پرانی روایات سے چمٹنے رہنا پسند کرتی ہے، اس لئے ہم آج تک یہ سمجھ نہیں پائے کہ شادی ہو یا طلاق ان کا مقصد زندگی کو آسان بنانا اور انسانوں کیلئے راحت کا سامان کرنا ہے، ناکہ مشکلات پیدا کرنا۔

ہمارے ہاں شادی کا تصور بھی نہایت گھسا پٹا اور فرسودہ ہے، جن دو افراد نے ایک ساتھ زندگی گزارنی ہوتی ہے، ان کی بجائے فیصلہ کون کرتے ہیں، ان کے والدین ، ان کے گھر کے بڑے۔ اور یہاں جنریشن گیپ کو بھی کلی طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے، وہ والدین جن کا اپنی اولاد سے عمر کا فرق کم از کم بیس پچیس سال کا تو ضرور ہوتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اولاد کی سوچ، مزاج ، پسند ناپسند بھی ان کے جیسے ہی ہوگی یا ہونی چاہئے۔ وہ اپنی پسند ناپسند اور مزاج کے حساب سے اپنے بیٹے یا بیٹی کا جیون ساتھی چنتے ہیں، اور بھیڑ بکری کی طرح دو لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔ چونکہ پورے معاشرے میں ہی یہی فرسودہ رِیت چل رہی ہے، لہذا بہت کم ہوتا ہے کہ اولاد ماں باپ سے بغاوت کرنے کی ہمت کرپائے۔ یہاں میں ان لڑکوں اور لڑکیوں کو داد دیتا ہیں جو سماج اور گھر کے جبر کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی مرضی سے اپنا جیون ساتھی چنتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور فرسودہ سوچ پائی جاتی ہے جو کہ ازدواجی زندگی کو بے سکون بنادینے کی سب سے بڑی وجہ ہے، وہ یہ کہ شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا، وقت گزارنا بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مزاج ، طبیعت اور سوچ سے ناواقف رہ جاتے ہیں اور شادی کے بعد جب ان کے مزاج اور عادات میں تفاوت سامنے آتا ہے تو ان کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ شادی سے پہلے ہونا چاہئے تاکہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ آیاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں؟ ایک دوسرے کو برداشت کرسکتے ہیں؟

شادی میں طلاق سب سے اہم عنصر ہے اور ہمیں معاشرے سے اس بیہودہ سوچ کو ختم کرنا ہوگا کہ طلاق کوئی بری چیز ہے۔ طلاق کوئی بری یا معیوب چیز نہیں ہے۔ دو انسانوں کا ساری عمر ایک ساتھ رہنا بیشتر کیسز میں بہت ہی مشکل ہوتاہے چاہے وہ شروعات میں آپس میں کتنی ہی محبت کیوں نہ رکھتے ہوں۔ میاں بیوی کو صرف تب تک شادی کے بندھن میں بندھے رہنا چاہئے جب تک انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے خوش ہیں اور ان کی زندگی اچھی گزر رہی ہے۔ جب انہیں محسوس ہونے لگے کہ اب وہ مجبوراً ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ان کی زندگی میں کوئی مزہ نہیں رہ گیا تو دونوں کو بڑی آسانی سے آپسی رضامندی سے طلاق لے لینی چاہئے۔ ہمارے ہاں چونکہ زندگی میں لطف، راحت، سکون وغیرہ جیسی چیزوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، اور اگر کوئی لڑکی اپنے والدین سے کہے کہ میں اپنے شوہر سے خوش نہیں ہوں یا میری زندگی میں سکون نہیں ہے تو اسکو تو ایک نہایت ہی غیر اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تمام آسائشوں، راحتوں وغیرہ کو مرنے کے بعد کی خیالی زندگی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اوراس دنیا کی زندگی کو تو بس جیسے تیسے کاٹنے پر زور دیا جاتا ہے۔۔ معاشرے سے فرسٹریشن ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس سوچ کو ختم کیا جائے، طلاق کو معاشرے میں نارملائز کیا جائے، طلاق کے بارے میں غلط تاثر ختم کیا جائے اور اس سوچ کو پروان چڑھایا جائے کہ طلاق کا مقصد افراد کی زندگی کو سکون فراہم کرنا ہے۔

 
Advertisement
Last edited:

Green Inside

Senator (1k+ posts)
یورپ میں شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ملتے ہیں ۔ ملتے کیا مل ہی جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی طلاق کی شراح ایسے ممالک سے زیادہ ہے جہاں لڑکا لڑکی شادی سے پہلے نہیں ملتے۔
 

1234567

Minister (2k+ posts)
بل گیٹس اور میلنڈا گیٹس نے 27 سال ایک ساتھ بطور میاں بیوی گزارنے کے بعد اب علیحدگی یعنی طلاق کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دونوں نے یہ فیصلہ باہمی رضامندی اور خوشی سے کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ پہلے کی طرح مل کر اپنے فاؤنڈیشن کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ یہ وہ عنصر ہے جو ہمارے معاشروں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کا مطلب ہوتا ہے، لڑائی، جھگڑا، ناراضگی، ناپسندیدگی وغیرہ وغیرہ۔ جب تک میاں بیوی ایک ساتھ رہتے رہیں، بھلے ان کے تعلقات کتنے ہی خراب ہوں، بھلے وہ ایک دوسرے سے کتنے ہی ناخوش کیوں نہ ہوں، اس کو کامیاب شادی تصور کیا جاتا ہے اور طلاق کو نہایت ہی ناپسندیدہ اور معیوب فعل سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر عورت کے معاملے میں۔ ہماری قوم چونکہ عقل و فہم کے استعمال سے دور بھاگتی ہے اور صدیوں پرانی روایات سے چمٹنے رہنا پسند کرتی ہے، اس لئے ہم آج تک یہ سمجھ نہیں پائے کہ شادی ہو یا طلاق ان کا مقصد زندگی کو آسان بنانا اور انسانوں کیلئے راحت کا سامان کرنا ہے، ناکہ مشکلات پیدا کرنا۔

ہمارے ہاں شادی کا تصور بھی نہایت گھسا پٹا اور فرسودہ ہے، جن دو افراد نے ایک ساتھ زندگی گزارنی ہوتی ہے، ان کی بجائے فیصلہ کون کرتے ہیں، ان کے والدین ، ان کے گھر کے بڑے۔ اور یہاں جنریشن گیپ کو بھی کلی طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے، وہ والدین جن کا اپنی اولاد سے عمر کا فرق کم از کم بیس پچیس سال کا تو ضرور ہوتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اولاد کی سوچ، مزاج ، پسند ناپسند بھی ان کے جیسے ہی ہوگی یا ہونی چاہئے۔ وہ اپنی پسند ناپسند اور مزاج کے حساب سے اپنے بیٹے یا بیٹی کا جیون ساتھی چنتے ہیں، اور بھیڑ بکری کی طرح دو لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔ چونکہ پورے معاشرے میں ہی یہی فرسودہ رِیت چل رہی ہے، لہذا بہت کم ہوتا ہے کہ اولاد ماں باپ سے بغاوت کرنے کی ہمت کرپائے۔ یہاں میں ان لڑکوں اور لڑکیوں کو داد دیتا ہیں جو سماج اور گھر کے جبر کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی مرضی سے اپنا جیون ساتھی چنتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور فرسودہ سوچ پائی جاتی ہے جو کہ ازدواجی زندگی کو بے سکون بنادینے کی سب سے بڑی وجہ ہے، وہ یہ کہ شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا، وقت گزارنا بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مزاج ، طبیعت اور سوچ سے ناواقف رہ جاتے ہیں اور شادی کے بعد جب ان کے مزاج اور عادات میں تفاوت سامنے آتا ہے تو ان کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ شادی سے پہلے ہونا چاہئے تاکہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ آیاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں؟ ایک دوسرے کو برداشت کرسکتے ہیں؟

شادی میں طلاق سب سے اہم عنصر ہے اور ہمیں معاشرے سے اس بیہودہ سوچ کو ختم کرنا ہوگا کہ طلاق کوئی بری چیز ہے۔ طلاق کوئی بری یا معیوب چیز نہیں ہے۔ دو انسانوں کا ساری عمر ایک ساتھ رہنا بیشتر کیسز میں بہت ہی مشکل ہوتاہے چاہے وہ شروعات میں آپس میں کتنی ہی محبت کیوں نہ رکھتے ہوں۔ میاں بیوی کو صرف تب تک شادی کے بندھن میں بندھے رہنا چاہئے جب تک انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے خوش ہیں اور ان کی زندگی اچھی گزر رہی ہے۔ جب انہیں محسوس ہونے لگے کہ اب وہ مجبوراً ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ان کی زندگی میں کوئی مزہ نہیں رہ گیا تو دونوں کو بڑی آسانی سے آپسی رضامندی سے طلاق لے لینی چاہئے۔ ہمارے ہاں چونکہ زندگی میں لطف، راحت، سکون وغیرہ جیسی چیزوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، اور اگر کوئی لڑکی اپنے والدین سے کہے کہ میں اپنے شوہر سے خوش نہیں ہوں یا میری زندگی میں سکون نہیں ہے تو اسکو تو ایک نہایت ہی غیر اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تمام آسائشوں، راحتوں وغیرہ کو مرنے کے بعد کی خیالی زندگی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اوراس دنیا کی زندگی کو تو بس جیسے تیسے کاٹنے پر زور دیا جاتا ہے۔۔ معاشرے سے فرسٹریشن ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس سوچ کو ختم کیا جائے، طلاق کو معاشرے میں نارملائز کیا جائے، طلاق کے بارے میں غلط تاثر ختم کیا جائے اور اس سوچ کو پروان چڑھایا جائے کہ طلاق کا مقصد افراد کی زندگی کو سکون فراہم کرنا ہے۔

Thanks for sharing your thoughts, hope you will follow it and your family members also but unfortunately 95% population of Pakistan dont like it so please print this article and make a BATTI of it and _____.
 

INDUS1

MPA (400+ posts)

Quranic principles[edit]​

According to the Quran, marriage is intended to be unbounded in time, as indicated by its characterization as a "firm bond" and by the rules governing divorce.[4] The relationship between the spouses should ideally be based on love (mawadda wa rahma, 30:21) and important decisions concerning both spouses should be made by mutual consent.[4] When marital harmony cannot be attained, the Quran allows and even advises the spouses to bring the marriage to an end (2:231), although this decision is not to be taken lightly, and the community is called upon to intervene by appointing arbiters from the two families to attempt a reconciliation (4:35).[5][4] The Quran establishes two further means to avoid hasty divorces.[4] For a menstruating woman, Al-Baqarah 2:228[6] prescribes the waiting (Iddah) period before the divorce is finalized, as three monthly periods. Similarly for non-menstruating women, including post-menopause women and pre-menarche girls, At-Talaq 65:4 prescribes the waiting periods. This is to give the husband time to reconsider his decision.[4] Moreover, a man who takes an oath not to have sexual intercourse with his wife, which would lead to automatic divorce, is allowed a four-month period to break his oath (2:226).[4]

The Quran substantially reformed the gender inequity of divorce practices that existed in pre-Islamic Arabia, although some patriarchical elements survived and others flourished during later centuries.[7] Before Islam, divorce among the Arabs was governed by unwritten customary law, which varied according to region and tribe, and its observance depended on the authority of the individuals and groups involved. In this system, women were particularly vulnerable.[8] The Quranic rules of marriage and divorce provided a fixed set of norms for all Muslims, backed by divine authority and enforced by the community.[8] The early Islamic reforms included giving the wife a possibility to initiate divorce, abrogation of the husband's claim to his wife's property, condemnation of divorce without compelling reason, criminalizing unfounded claims of infidelity made by the husband, and institution of financial responsibilities of the husband toward his divorced wife.[7] In pre-Islamic times, men kept their wives in a state of "limbo" by continually repudiating them and taking them back at will. The Quran limited the number of repudiations to three, after which the man cannot take his wife back unless she first marries another man.[2] Additionally, the pre-Islamic bridewealth (mahr), which was paid by the groom to the bride's family, was transformed into a dower, which became property of the wife, though some scholars believe that the practice of giving at least a part of the mahr to the bride began shortly before the advent of Islam.[8][9]

The subject of divorce is addressed in four different surahs of the Quran, including the general principle articulated in 2:231:[7]

If you divorce women, and they reach their appointed term, hold them back in amity or let them go in amity. Do not hold them back out of malice, to be vindictive. Whoever does this does himself injustice".
 

باس از باس

Councller (250+ posts)

تھریڈ سٹارٹر ایک دہریانہ سوچ کا حامل فرد ہے مزید براں جسمانی و جنسی آزادی کا حمایتی اور الم بردار۔۔۔ اپنی سوچ کی حمایت کے لئیے یہ سب گھر میں ننگے پھرتے ہیں، شادی کا ان کے ہاں رواج نہی اور اگر کوئی کر لے تو طلاق کروانا عین فرض سمجھتے ہیں۔۔۔ اس اصول کو قائم رکھتے ہوئے تھریڈ سٹارٹر نے اپنی ساری بہنوں کی طلاق کروا دی ہے، ماں کو بھی طلاق دلوا کے بیوی کو بھی طلاق دے دی ہے اور اب اپنی ماں اور بیوی کے لئیے اچھے رشتوں میں تلاش میں ہے
 

atensari

President (40k+ posts)
جو معاشرہ آپ کا ہے ہی نہیں اسے ہمارا ہمارا کہے جا رہے ہو. آپ کے معاشرے میں برائی برائی نہیں گناہ گناہ نہیں. میرا اور آپ کا معاشرہ ایک کیسے ہو سکتا ہے!!!؛
 
Last edited:

taban

Chief Minister (5k+ posts)
اس بیوقوف تھریڈ سٹارٹر کو جنسی آزادی کے ایک فائدہ میں آج بتاتا ہوں میں امریکہ میں ایک خاتون سے ملا اس سے بہت سی باتیں ہوئیں اور وہ جنسی آزادی کے خلاف بول رہی تھی جب میں نے اس سے استفسار کیا وہ خود امریکی ہے تو اسے اس آزادی سے مسئلہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ مزوری کی رہنے والی ہے اور پڑھنے کے لئے الباما گئی ہر امریکی کی طرح اسکا بھی ایک بوائے فرینڈ تھا جس کے ساتھ اس نے بہت موجیں کیں قصہ مختصر پڑھائی کے بعد اس نے اس بوائے فرینڈ سے شادی کر لی جس سے اسکے چار بچے پیدا ہوئے جب ڈی این اے کا ٹیسٹ عام ہوا تو اسنے اپنی اور اپنے ہزبینڈ کا اوریجن جاننے کے لئے ٹیسٹ کرایا تو پتہ چلا کہ اسکا شوہر اسکا بھائی تھا اس بات پہ وہ رونے لگی میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے تو اسنے بتایا کہ جب اسکا باپ جوان تو تو وہ جاب کے سلسلے میں مختلف شہروں میں جاتا تھا اور اسی سلسلے میں اسکا شوہر پیدا ہوا تھا جو بد قسمتی سے اپنی ہی بہن کا ہزبینڈ بنا وہ روتی جاتی تھی اور کہتی تھی کہ اسکا اسکے شوہر کا یا بچوں کا کیا قصور ہے اسی طرح ایک اور شخص نے بھی اس سے ملتی جلتی بات مجھ سے کی تھی مین نے کئی گوروں اور کالوں کو اسکے مضمرات سے آگاہ کیا ہے انہیں سمجھایا ہے کہ جب تم بار یا کلب میں کسی خاتون سے ملتے ہو تو کیا پتہ کہ وہ تمہاری بہن ہو کیا پتہ تمہارے باپ نے کہاں کہاں بچے پیدا کئے ہیں یہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں انکا حرف حرف سچ ہے صرف الفاظ میرے ہیں اب یہ پاگل کا بچہ تھریڈ سٹارٹر چاہتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسا گند شروع ہو یا تو یہ خود جنسی آزادی کے سلسلے میں پیدا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ پورا ملک اس جیسا ہو جائے یا پھر یہ بہت ہی سخت قسم کا نشہ کر کے اپنے ہی گھر میں کسی ایسی حرکت کا مرتکب ہو چکا ہے یا پھر ذہنی مریض ہے جسے اسکے علاوہ کچھ اور نہیں سوجھتا
 

Conservative liberal

MPA (400+ posts)
اس بیوقوف تھریڈ سٹارٹر کو جنسی آزادی کے ایک فائدہ میں آج بتاتا ہوں میں امریکہ میں ایک خاتون سے ملا اس سے بہت سی باتیں ہوئیں اور وہ جنسی آزادی کے خلاف بول رہی تھی جب میں نے اس سے استفسار کیا وہ خود امریکی ہے تو اسے اس آزادی سے مسئلہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ مزوری کی رہنے والی ہے اور پڑھنے کے لئے الباما گئی ہر امریکی کی طرح اسکا بھی ایک بوائے فرینڈ تھا جس کے ساتھ اس نے بہت موجیں کیں قصہ مختصر پڑھائی کے بعد اس نے اس بوائے فرینڈ سے شادی کر لی جس سے اسکے چار بچے پیدا ہوئے جب ڈی این اے کا ٹیسٹ عام ہوا تو اسنے اپنی اور اپنے ہزبینڈ کا اوریجن جاننے کے لئے ٹیسٹ کرایا تو پتہ چلا کہ اسکا شوہر اسکا بھائی تھا اس بات پہ وہ رونے لگی میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے تو اسنے بتایا کہ جب اسکا باپ جوان تو تو وہ جاب کے سلسلے میں مختلف شہروں میں جاتا تھا اور اسی سلسلے میں اسکا شوہر پیدا ہوا تھا جو بد قسمتی سے اپنی ہی بہن کا ہزبینڈ بنا وہ روتی جاتی تھی اور کہتی تھی کہ اسکا اسکے شوہر کا یا بچوں کا کیا قصور ہے اسی طرح ایک اور شخص نے بھی اس سے ملتی جلتی بات مجھ سے کی تھی مین نے کئی گوروں اور کالوں کو اسکے مضمرات سے آگاہ کیا ہے انہیں سمجھایا ہے کہ جب تم بار یا کلب میں کسی خاتون سے ملتے ہو تو کیا پتہ کہ وہ تمہاری بہن ہو کیا پتہ تمہارے باپ نے کہاں کہاں بچے پیدا کئے ہیں یہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں انکا حرف حرف سچ ہے صرف الفاظ میرے ہیں اب یہ پاگل کا بچہ تھریڈ سٹارٹر چاہتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسا گند شروع ہو یا تو یہ خود جنسی آزادی کے سلسلے میں پیدا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ پورا ملک اس جیسا ہو جائے یا پھر یہ بہت ہی سخت قسم کا نشہ کر کے اپنے ہی گھر میں کسی ایسی حرکت کا مرتکب ہو چکا ہے یا پھر ذہنی مریض ہے جسے اسکے علاوہ کچھ اور نہیں سوجھتا
bhai ye bat goron ko tu samajh aa hi jae ghe magar in kaley goron ko kon samjhaye.
 

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)

Quranic principles[edit]​

According to the Quran, marriage is intended to be unbounded in time, as indicated by its characterization as a "firm bond" and by the rules governing divorce.[4] The relationship between the spouses should ideally be based on love (mawadda wa rahma, 30:21) and important decisions concerning both spouses should be made by mutual consent.[4] When marital harmony cannot be attained, the Quran allows and even advises the spouses to bring the marriage to an end (2:231), although this decision is not to be taken lightly, and the community is called upon to intervene by appointing arbiters from the two families to attempt a reconciliation (4:35).[5][4] The Quran establishes two further means to avoid hasty divorces.[4] For a menstruating woman, Al-Baqarah 2:228[6] prescribes the waiting (Iddah) period before the divorce is finalized, as three monthly periods. Similarly for non-menstruating women, including post-menopause women and pre-menarche girls, At-Talaq 65:4 prescribes the waiting periods. This is to give the husband time to reconsider his decision.[4] Moreover, a man who takes an oath not to have sexual intercourse with his wife, which would lead to automatic divorce, is allowed a four-month period to break his oath (2:226).[4]

The Quran substantially reformed the gender inequity of divorce practices that existed in pre-Islamic Arabia, although some patriarchical elements survived and others flourished during later centuries.[7] Before Islam, divorce among the Arabs was governed by unwritten customary law, which varied according to region and tribe, and its observance depended on the authority of the individuals and groups involved. In this system, women were particularly vulnerable.[8] The Quranic rules of marriage and divorce provided a fixed set of norms for all Muslims, backed by divine authority and enforced by the community.[8] The early Islamic reforms included giving the wife a possibility to initiate divorce, abrogation of the husband's claim to his wife's property, condemnation of divorce without compelling reason, criminalizing unfounded claims of infidelity made by the husband, and institution of financial responsibilities of the husband toward his divorced wife.[7] In pre-Islamic times, men kept their wives in a state of "limbo" by continually repudiating them and taking them back at will. The Quran limited the number of repudiations to three, after which the man cannot take his wife back unless she first marries another man.[2] Additionally, the pre-Islamic bridewealth (mahr), which was paid by the groom to the bride's family, was transformed into a dower, which became property of the wife, though some scholars believe that the practice of giving at least a part of the mahr to the bride began shortly before the advent of Islam.[8][9]

The subject of divorce is addressed in four different surahs of the Quran, including the general principle articulated in 2:231:[7]

او بھائی پیدائشی مسلمان۔۔ اگر اپنی کچھ ذاتی سوچ ہے تو پیش کرو، برائے مہربانی یہ کاپی پیسٹ کرکے جہالت مت پھیلاؤ۔۔ جہالت کی تو پہلے ہی بہت فراوانی ہے یہاں۔۔۔
 

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
جو معاشرہ آپ کا ہے ہی نہیں اسے ہمارا ہمارا کہے جا رہے ہو. آپ کے معاشرے میں برائی برائی نہیں گناہ گناہ نہیں. میرا اور آپ کا معاشرہ ایک کیسے ہو سکتا ہے!!!؛

حضرت صاحب۔۔ اب کیا یہ سرٹیفیکیٹ بھی مدرسے کے کسی جاہل ملا سے لینا پڑے گا کہ معاشرہ میرا ہے یا نہیں۔۔؟؟
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں