عربی بدوؤں نے جہالت سے نکلنے کا اعلان کردیا

Baadshaah

MPA (400+ posts)
محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔

 
Advertisement

karachiwala

Chief Minister (5k+ posts)

یار ماتم کے دن تو نے کیا ڈرامہ شروع کر دیا۔ اکاؤنٹ دیکھ پیسے آئے بھی یا نہیں؟ سنا ہے غم کا دورہ ہے جاتی عمرہ میں۔ صحیح پٹواری ہونے کیلیئے تمہیں بھی ماتم کرنا چاہیئے
 

3rd_Umpire

Chief Minister (5k+ posts)
محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔

فکر ناٹ،،ٹیک اِٹ ایزی

نیازی کی ریاستِ مدینہ میں بھی
ڈیوڈ کی آسانی کے لئے تم بغیر کسی روک ،ٹوک

بلورانی کی "گ" پر تیل لگانے کی ڈیوٹی جاری رکھ سکتے ہو
 
Last edited:

taban

Chief Minister (5k+ posts)
اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔
تو خود ایک بات کرتا ہے اور پھر اپنی ہی بات کی تردید کر دیتا ہے تو خود کہہ رہا ہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہونا چاہئیے ہم نے تو کبھی تیرے مذہب میں مداخلت نہیں کی تو پھر توکیوں دوسروں کے مذہب میں اپنے فضول مشوروں اور لایعنی غوں غاں سے مداخلت کی ناکام کوشش کر کے جوتیاں کھاتا ہے لگتا ہے اللہ نے تیری مت مار دی ہے
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
Bad shaah, if building high rises or nude beaches or opening up casinos and night clubs mean you are progressing then in reality the Arabs are going further down the toilet.
I'm afraid that one day you will be flushed down the toilet as well by posting these useless posts.
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔

عربی بدوؤں نے جہالت سے نکلنے کا اعلان کردیا​

Yeh bata tu kab jahalat say bahar niklay ga?
 

Typhoon

Senator (1k+ posts)
محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔

Sab se barha jahil wo hota he jiske paas aadhi knowledge ho.
Riasat e Madina aik falahi riasat thi, jismein har kisi ko islam ke mutabiq mazhabi azadi thi.
Islam mein koi jabar nahi. Sirf aik history se farigh banda tum jaisi baat kahe ga.
Andalus, muslim Spain is remembered as the best example of any multicultural and multiethnic society, and is seen as the birth place of renaissance.
Tum jaise lateefe maghrib ke pujari ghulam darabari type ki mentality rakhne vale agar tareekh ka mutaaleya kar lein to information mein izafa ho ga.
Jab IK ya koi raisate madina ki baat karta he to us se murad Qurani usoolo pe based welfare nizaam ka hota he.
Tumhein na middle east ki history ka pata he or na Quran ka sahi se ilm.
Ja ke kis filmi page pe ja ke khel, tera level nahi barhi batein karne ka, ya to pehle ilm hasil kar, warna lateefe ka lateefa hi rahe ga.
 

Black_Falcon

MPA (400+ posts)

یار ماتم کے دن تو نے کیا ڈرامہ شروع کر دیا۔ اکاؤنٹ دیکھ پیسے آئے بھی یا نہیں؟ سنا ہے غم کا دورہ ہے جاتی عمرہ میں۔ صحیح پٹواری ہونے کیلیئے تمہیں بھی ماتم کرنا چاہیئے
well said, ain ko ignore kia ja skta hy q ky logic sy to samagh nahi aai ain ko
 

Munawarkhan

Chief Minister (5k+ posts)
This is extremely idiotic to downplay "Madina ki riasat" and making a comparison showing that this is a "JAHILANA" concept.

I have said this before multiple times that non-PTI supporters, in hate of Imran Khan will even side with India. But this is a new low.

Most of the successful countries in the world are based on a social welfare system. The best of these systems was established in Madina under the leadership of our Prophet Muhammad (PBUH) and followed by the Caliphs.

If you don't know about it, then go read history. But don't say that Islamic welfare system is jahilana.


محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔

 

Fawad Javed

Minister (2k+ posts)
محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔

Teri jitni zindagi guzar gaye aur jitni baki hai dono pay................................
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
well said, ain ko ignore kia ja skta hy q ky logic sy to samagh nahi aai ain ko
Can you causally establish a relationship of Night Clubs and Bars to the progress of a Nation in Science, Technology and law abiding nature of citizens?

Unless that is established with facts and figures, your argument is simply lame and carries no weight.

Logic demands back up of facts and figures and their interrelationship to establish the cause and effect relationship.
 

FahadBhatti

Minister (2k+ posts)
jis din teri maa haamila hui thee wo daure jahalat mein pohunch gai thi , aur jese hee uss ne tujhe baher nikala sath hee daure jahalat se baher aagai
 

Truthstands

Minister (2k+ posts)
محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔


جلدی جہالت سے نکلو اپنے گھر والوں کو بھی نکالو،
اور سبکو بتاؤ کے کہاں ننگے گھومو گے۔۔۔۔
 

SharpAsKnife

Minister (2k+ posts)
کبھی سعودیوں کے غلام بن جاتے ہو، کبھی ہندوں کے، کبھی قطریوں کے اور کبھی گوروں کے۔ تم پٹواری کنجروں کا اپنا کوئی ظمیر ہے یہ اپنی بہنوں کی طرح بیچ کھایا؟ چوتیوں، تمہاری پیلی ٹیکسی ماں کسی سڑک پر پڑے کچرے کی طرح کل بےعزت ہوئی ہے۔ تھوڑا ماتم ہی منا لیتے
 

Shareef

Minister (2k+ posts)
کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔
Very correct. Muslims have never agreed to a single narration of Islam. there are so many divergences going out at tangents. Many even call each other 'Kafir'. Therefore it is only wise to let religion be a personal matter between man and God, and let the state be run on universal principles of humanity.
 

ish sasha

Councller (250+ posts)
who are you harzaday go take ur mum and daughter and wife in chakla
club
pakistan is keen tp fallow islam and prophet Mojhammed pbuh
 
Sponsored Link