عمران خان کو وزیراعلیٰ پنجاب کی کرسی پر دیکھ کر لیگی رہنما بھڑک اٹھے

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
۔.2021میں تجارتی خسارہ جو 2 ارب ڈالر تک آگیا تھا
وہ اس وقت 2022 میں 18 ارب ڈالر تک پہنچ چُکا ہے۔۔۔
کریڈٹ کس کو دینا ہے؟

باجوے حرامزادے ،اور اُسکی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین کو
ماں بہن کی گالیاں تو ضرور بنتی ہیں ۔ ۔ ۔

دو ہزار اکیس جون تک حالات بہتر تھے مگر اپریل دو ہزار تیئس میں خسارہ بہت زیادہ تھا جو جون تک بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھا کہ ایکسپورٹ تیس ارب اور امپورٹ اسی ارب - پچاس ارب کا خسارہ - کوئی حکومت ایک دو مہینے میں پیچھے سے آنے والے خسارے کو روک نہیں سکتی - انہوں نے مہنگی اشیا کی امپورٹ پر پابندی لگائی پھر بھی اتنا فرق نہیں پڑا کیونکے خان کے دور میں پیٹرول سستا تھا اب ایک سو بیس ڈالر سے سو کے درمیان فی بیرل ہے - حفیظ شیخ خسارے کو کنٹرول کر کے گیا لیکن شوکت ترین نے امپورٹ اتنی بڑھائی کہ مارکیٹ سے ڈالر ختم ہو گئے جس سے ڈالر کی ڈیمانڈ زیادہ ہونے سے روپیہ گرا کچھ سیاسی عدم استحکام مگر زیادہ آئی ایم ایف سے کنٹریکٹ نہ ہونے سے روپیہ گرا - مالی سال کے آخری ڈیڑھ مہینے والا کیسے ذمے دار ہو سکتا ہے پہلے ساڑھے دس مہینے والا ہی ہو گا کیونکے آخر میں کئے اقدامات کا اثر بھی دیر سے آتا ہے - اب سب کچھ آخری ڈیڑھ مہینے والے پی ڈال دو - ویسے یہ چارٹ دیکھ لو کس نے کیا کیا ہے
دس سال پر سیٹ کر کے دیکھو پچھلے دس سال میں امپورٹ تین سے چار گنا بڑھا دی

 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
دس سیٹوں والا ایک سو پچاس سیٹوں والے کو کرسی ہی پیش کرے گا یہ دوسرے کے ظرف پر ہے کرسی پر بٹھتا ہے کہ نہیں
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
ڈس لائک سے کام نہیں چلے گا - جواب دو لیکن اخلاق کے دائرے میں - نہ میں کسی کو گالی دیتا ہوں نہ سننا پسند کرتا ہوں گالی وہی دیتا ہے جسے دلیل اور ثبوت سے بات نہیں کرنی نہیں آتی
Terminator;
 
Sponsored Link