غلط فہمی کی بنیاد پر 17 سال سے قید کراچی کاٹیکسی ڈرائیورگوانتاناموبےسےرہا

1arabbani.jpg

سترہ سال غلط فہمی میں قید رکھا اور اب کراچی کے ڈرائیور کو گوانتاناموبے جیل سے رہائی کا پروانہ مل گیا، برطانوی این جی او کے مطابق غلط فہمی کی بنا پر 17 سال بدنام زمانہ امریکی جیل میں گزارنے والے احمد ربانی کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے،امریکا کی چھ سیکیورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ فیصلے میں احمد ربانی کو رہا کا فیصلہ دیا، برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ’ری پریو نے احمد ربانی کیلئے قانونی جنگ لڑی۔

برطانوی انسانی حقوق کے ادارے ’ری پریو، نے بتایا کہ احمد ربانی کو غلط فہمی کی بنا پر پاکستان سے افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں مختلف مراکز میں انہیں 545 دنوں تک شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،یہ تمام تر حقائق اور تفصیلات امریکی حکام کی جانب سے سینیٹ میں پیش کی گئی،ری پریو، کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ احمد ربانی کو جب کراچی سے گرفتار کیا گیا تو اس کے ٹھیک 2 دن بعد ہی انہیں اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی کہ انہوں نے غلط شخص کو گرفتار کیا،احمد کیخلاف نہ کوئی چارج شیٹ فائل کی گئی اور نہ ہی کبھی ٹرائل کیلئے عدالت میں پیش کیا گیا۔


احمد ربانی نے ہر اپیل ناکام ہونے کے بعد جیل میں تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی تھی،ری پریو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ احمد ربانی کا القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان سے یہ اعترافات تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے،احمد ربانی کے بیٹے جواد کے مطابق ان کے پیدائش والد کی گرفتاری کے بعد ہوئی،انہیں اپنے والد کے بارے میں گوگل سے علم ہوا اور وہ آج تک اپنے والد سے نہیں ملے ہیں۔


ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے ربانی کو ایک دہشت گرد حسن گل کے دھوکے میں پانچ ہزار ڈالر کے عوض امریکا کے حوالے کر دیا تھا جو انہیں کابل کی بگرام جیل میں لے گئے، 2004 میں خود حسن گل بھی گرفتار ہو کر اسی بگرام جیل میں ربانی کے ساتھ قید رہے اور صرف 3 سال قید کے بعد امریکیوں نے انہیں چھوڑ دیا،سربراہ اسٹیفرڈ کے مطابق حسن گل دوبارہ جا کر دہشت گردوں سے مل گئے اور 2012 میں وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔


دوسری جانب نیو یارک ٹائمز‘ کی شائع کردہ سرکاری امریکی محکمہ دفاع کے دستاویزات کے مطابق احمد ربانی کو القاعدہ کا رکن بنایا گیا تھا،دستاویزات کے مطابق سعودی عرب میں پیدا ہونے والے پاکستانی شہری محمد احمد ربانی نے اعتراف کیا تھا کہ وہ القاعدہ کے سہولت کار ہیں اور انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ وہ القاعدہ کے سینئر منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کے لیے براہِ راست کام کرتے تھے۔ نیویارک ٹائمز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دورہ حکومت میں انہیں 5000 امریکی ڈالر کے بدلے فروخت کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر کو لکھی گئی اپیل میں احمد ربانی کا کہنا تھا کہ انہیں 10ستمبر2002 کو حسن گل نامی ایک بدنام دہشت گرد سمجھ کر امریکیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا تھا، امریکی انہیں کابل لے گئے جہاں ربانی کے بقول ان پر بدترین تشدد کیا گیا۔
 
Advertisement

MS pakistani

Politcal Worker (100+ posts)
all credit goes to buzdil commando musharraf. Justice waqar seth decision of hanging this buzdil general on D chowk was 100% right. he is responsible for all terrorism happened in Pakistan last 2 decades. watan frosh (worst than zardari and nawaz)
 

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)
فری میں جو پانچ گرینڈ ملیں تو برا کیا ہے 😁
 

atensari

President (40k+ posts)
جمہوری سامراج انسانی حقوق کے خلاف جرائم کرنے میں اول نمبر ہے​
 
Sponsored Link