قانون کی بالادستی میں پاکستان بدترین ممالک میں شامل؟ رپورٹ جاری

law.jpg


ورلڈ جسٹس پروجیکٹ روُل آف لاء انڈیکس 2021 نے قانون کی بالا دستی کے معاملے پر دنیا کے بدترین ممالک کی فہرست پر رپورٹ جاری کردی، ایک سو انتالیس ممالک کی فہرست میں پاکستان کا ایک سو تیسواں نمبر ہے،جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق بدترین ممالک کی فہرست کے اسکور کی حد صفر سے ایک تک ہے،جس میں اگر کسی ملک کا اسکور ایک ہے تو اس کا مطلب یہاں قانون کی بالادستی بہت ہی سخت ہے،اس لحاظ سے پاکستان کا اسکور 0.39 جبکہ فہرست میں نمبر 130 ہے۔

جنوبی ایشیا کی رینکنگ کے لحاظ سے پاکستان آخری دوسرے نمبر پر ہے،رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کارکردگی کرپشن، بنیادی حقوق، امن عامہ اور سلامتی، نگران ضابطوں کا عدم نفاذ کی وجوہات کی بنا پر خراب رہی، فوجداری نظام انصاف،شہری انصاف، شفاف حکومت اور حکومتی اختیارات پر ضابطوں کے معاملات میں پاکستان خطے کے 6؍ ممالک میں سے چوتھے نمبر پر ہے،مجموعی طور پر پاکستان کی کارکردگی بدتر رہی ہے۔

عالمی سطح پر 139ممالک میں سے دیکھیں تو امن عامہ اور سیکورٹی کے معاملات میں پاکستان تین بدتر ممالک میں شامل ہے اور صرف اس معاملے میں 139؍ ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 137واں ہے۔ سول جسٹس، ریگولیٹری انفورسمنٹ، بنیادی حقوق اور کرپشن کے معاملے میں تیار کردہ فہرست میں پاکستان بالترتیب 124، 123، 126 اور 123ویں نمبر پر ہے۔

خود مختار میڈیا میں پاکستان کا اسکور 0.89 ہے اور 139میں سے پاکستان کا نمبر 89 ہے، کرپشن کی غیر موجودگی اس کیٹگری میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ حکومت میں کرپشن نہیں ہے۔ کرپشن کی اشکال معلوم کرنے کیلئے تین عوامل پر غور کیا جاتا ہے، کرپشن، سرکاری اور نجی مفادات کا غیر مناسب اثر اور سرکاری فنڈز،عدلیہ، فوج، پولیس اور قانون ساز اداروں میں میں پاکستان کا اسکور 0.31؍ اور 139؍ میں سے 123ویں پوزیشن پر ہے۔

کرپشن کے معاملے میں پاکستان کو فہرست میں ریڈ زون میں رکھا گیا،جہاں کرپشن انتہائی حد تک زیادہ ہے، حکومتی شفافیت اس معاملے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کو کس قدر معلومات فراہم کرتی ہے، اپنے عوام کو ایسے اختیارات دیتی ہے جس سے وہ اپنی منتخب کردہ حکومت کو جوابدہ بنا سکیں، پالیسی سازی کے معاملے میں عوام کو کتنا اختیار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کا اسکور 0.42 ہے جبکہ رینکنگ 101 ہے، اگرچہ یہ اوسط رینکنگ سے بھی کم ہے،لیکن اس معاملے میں پاکستان کو ریڈ زون میں شامل نہیں رکھا گیا۔

امن و سلامتی کی کیٹیگری میں پاکستان کا نمبر 137؍ ہے جبکہ اسکور 0.37؍ ہے،قانونی اور انتظامی ضابطے میں پاکستان کا نمبر 123 جبکہ اسکور 0.39؍ ہے،نظام کی غیر جانبداریت، موثریت اور مسائل کے حل کے متبادل نظام کے موثر ہونے یا نہ ہونے میں پاکستان کا اسکور 0.40؍ اور رینکنگ 124؍ یعنی اوسط سے بھی نیچے ہے، پولیس، وکلا، سرکاری وکلاء، جج اور جیل کے افسران سمیت پورا نظام انصاف کی فراہمی کے معاملے میں پاکستان کی رینکنگ 108؍ اور اسکور 0.35 ہے،رپورٹ کے مطابق نیپال، سری لنکا، بھارت، بنگلادیش نے قانون کی بالادستی کے معاملے میں پاکستان سے بہتر کارکردگی دکھائی۔
 
Advertisement

concern_paki

Chief Minister (5k+ posts)
Insaaf hi to nahi hai Pakistan mein, ALLAH TALA NAY SAARI NAMAITAIN NAWAZ DEEN HAIN MAGAR JO CHEEZAON INSAAN KAY HAATH MEIN HAIN WOH SAB ZAWAL PAZEER HAIN, AJEEB MULK HAI, BANA ISLAM KAY NAAM PAR, SHARAI NIZAAM KABHI NAFIZ NA HO SAKA, PURI QOUM HAZRAT MOHAMMED SAW PAR JAN DENE KAY LIYE HAZIR, HADITH JAB FARMAYA GAYA AGAR FATIMA BHI CHORI KARTI TO MEIN HAATH KAAT DETA, KOI AMAL NAHI MUASHRAY MEIN, YA ALI KEHNE WALAY CRORON, JAB FARMAYA KUFR KA NIZA CHAL SAKTA HAI. BEYINSAAFI KA NAHI, KOI AMAL NAHI, WE ARE SIMPLY AWESOME, I MEAN AWESOME MUNAFIQ
 
Sponsored Link