قبول اسلام کے بعد پاکستانی نوجوان سے شادی کرنیوالی بھارتی خاتون مشکل میں

pramaj113.jpg


کچھ روز قبل میڈیا پر یہ خبر زیرگردش تھی کہ بھارتی شہری اشتوش سنگھ نے اپنی بیوی پرم جیت کوطلاق دیکر اس کی شادی پاکستانی نوجوان عمران سے کروادی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی شہر لکھنو سے تعلق رکھنے والا اشتوش سنگھ اپنی 39 سالہ بیوی پرم جیت کور کو اس کے پاکستانی دوست سے ملوانے کے لئے لاہور لے کر آیا، اور اس کی شادی پاکستانی نوجوان عمران سے کروادی۔

پرم جیت کور کی محمد عمران چند برس پہلے فیس بک پر دوستی ہوئی جومحبت میں بدل گئی، پرم جیت کی ایک اور بیوی بھی تھیاور اسے اپنی بیوی کی پاکستانی نوجوان سے محبت کاعلم تھا۔ دونوں واہگہ کے راستے پاکستان آئے اور گرین ٹاؤن لاہورمیں کاعمران سے بھی رابطہ کیا۔

اس موقع پر اشتوش سنگھ نے اپنی بیوی پرم جیت کوطلاق دے دی اور اس نے اسلام قبول کرکے اپنا نام پروین سلطانہ رکھ لیااور کورٹ میرج کرلی

محمد عمران نے بھی سکھ یاتریوں کیساتھ واہگہ بارڈر کے راستے بھارت جانیکی کوشش کی لیکن امیگریشن حکام نے اسے روک لیا جبکہ پرمجیت کور اور اسکے سابقہ شوہر کو جانے کی اجازت دیدی۔

پرمجیت کور جس کا اسلامی نام پروین سلطانہ رکھا گیا تھا بھارت واپسی پر اس کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

اس واقعے پر سکھ کمیونٹی میں غم وغصے کی لہر دوڑگئی اورحکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی نوجوان سے شادی کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنے والی خاتون کو آئندہ کسی بھی صورت میں دوبارہ پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

بھارت کی شرومنی اکالی دل کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور آفتاب حسن خان کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ بھارتی خاتون پرمجیت کور جس کا اسلامی نام اب پروین سلطانہ ہے اسے پاکستان آنے کے لیے بلیک لسٹ کیا جائے۔

انکا کہنا تھا کہ اس خاتون نے پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کیا، مذہب تبدیل کیا اور دوبارہ شادی کی ہے، اس کے اس عمل نے سرحد پار سکھ یاتریوں پر گہرا اثر منفی اثر ڈالا ہے، ہم پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل کو سراہتے ہیں۔

خیال رہے کہ پرمجیت کور 18 ستمبر 1982 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئی تھی ، اسکے پاس کولکتہ میں جاری کردہ ہندوستانی پاسپورٹ نمبر P7867386 ہے۔ اس کا پاسپورٹ 26 فروری 2027 تک کارآمد ہے۔
 
Advertisement
Sponsored Link