لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے راوی اربن پراجیکٹ کو کالعدم قرار دے دیا

rawi-project-lhc.jpg


لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے گیمر چینجز کہلانے والے راوی اربن پراجیکٹ کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ سناتے ہوئے پراجیکٹ کے خلاف درخواستیں منظور کر لیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے روڈا ایکٹ کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دے دیا عدالت نے تمام ترقیاتی کام روکنے اور روڈا کو پنجاب حکومت سے حاصل کیا گیا قرض بھی واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا ماسٹرپلان بنیادی دستاویز ہے اور قانون کے تحت تمام اسکیمیں ماسٹر پلان کے ماتحت ہوتی ہیں لہٰذا ماسٹر پلان کے بغیربنائی گئی کوئی بھی اسکیم غیرقانونی ہوتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ روڈا ترمیمی آرڈیننس کی دفعہ 4 آئین کےآرٹیکل 144 اے سے متصادم ہے، روڈا کا ترمیمی آرڈیننس بھی آئین کے لوازمات پورے کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا ترمیمی آرڈیننس آئین سے متصادم اور غیر قانونی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ زرعی اراضی اس وقت لی جا سکتی ہے جب باقاعدہ ایک لیگل فریم ورک موجود ہو۔ واضح رہے کہ راوی ریوراربن پراجیکٹ دریائے راوی کی دونوں اطراف شمال مشرق سے جنوب مغربی رقبے پرت عمیرکیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے 44 ہزارایکڑ رقبہ مختص کیا گیا تھا جسے بعد میں 44 ہزارسے بڑھا کرایک لاکھ ایکڑ کردیا گیا۔

ریور راوی اربن پراجیکٹ پرتقریبا پانچ کھرب پاکستانی روپے خرچہ ہوگا جس کو بنانے کیلئے سب سے پہلے دریائے راوی پر46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف اس شہر کو بسایا جائے گا۔ اس جھیل پر6 بیراج تعمیرکئے جائیں گے اورساتھ ھی پانی کو صاف رکھنے کیلئے ویسٹ واٹرمینیجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔

اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بلکہ اسی جھیل سے لاہورشہر کا زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے پانی کی سطح کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔

قبل ازیں ایک سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ کر دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ریور راوی اربن پراجیکٹ کے لیے زرعی اراضی ایکوائر کرنے سے متعلق حکم امتناعی کیخلاف درخواست پر سماعت کی تھی لاہورہائیکورٹ نے باربارحکم امتناعی کیخلاف متفرق درخواستیں دائرکرنے پر پنجاب حکومت کو 5 لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا اورسخت برہمی کا بھی اظہارکیا تھا۔

عدالت نے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی اثرات کے جائزہ کے لیے راوی اربن پروجیکٹ کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ تعینات کرنے کی ہدایت کی تھی۔
 
Advertisement

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
کر لو ترقی۔۔۔ گنجوں کے فضول پراجیکٹس میٹرو اور مالٹا ٹرین کو تو کبھی کالعدم نہیں دیا۔۔۔
 

Munawarkhan

Chief Minister (5k+ posts)
How can development happen with idiotic court decisions.
Instead of suspending the whole project, the planning of which would've already costed millions, they should have just asked to ensure all concerns.

With the logic that I see here, no big project can be created in Pakistan.
 

sangeen

Minister (2k+ posts)
O yar LHC ka battha die bagher koi kaam nahi ho sakta... En ke munh par thora pesa maro phir phurtian dekho....

Ye adalat nahi Dhanda karne ki jagha hae..
 

The Sane

Chief Minister (5k+ posts)
rawi-project-lhc.jpg


لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے گیمر چینجز کہلانے والے راوی اربن پراجیکٹ کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ سناتے ہوئے پراجیکٹ کے خلاف درخواستیں منظور کر لیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے روڈا ایکٹ کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دے دیا عدالت نے تمام ترقیاتی کام روکنے اور روڈا کو پنجاب حکومت سے حاصل کیا گیا قرض بھی واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا ماسٹرپلان بنیادی دستاویز ہے اور قانون کے تحت تمام اسکیمیں ماسٹر پلان کے ماتحت ہوتی ہیں لہٰذا ماسٹر پلان کے بغیربنائی گئی کوئی بھی اسکیم غیرقانونی ہوتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ روڈا ترمیمی آرڈیننس کی دفعہ 4 آئین کےآرٹیکل 144 اے سے متصادم ہے، روڈا کا ترمیمی آرڈیننس بھی آئین کے لوازمات پورے کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا ترمیمی آرڈیننس آئین سے متصادم اور غیر قانونی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ زرعی اراضی اس وقت لی جا سکتی ہے جب باقاعدہ ایک لیگل فریم ورک موجود ہو۔ واضح رہے کہ راوی ریوراربن پراجیکٹ دریائے راوی کی دونوں اطراف شمال مشرق سے جنوب مغربی رقبے پرت عمیرکیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے 44 ہزارایکڑ رقبہ مختص کیا گیا تھا جسے بعد میں 44 ہزارسے بڑھا کرایک لاکھ ایکڑ کردیا گیا۔

ریور راوی اربن پراجیکٹ پرتقریبا پانچ کھرب پاکستانی روپے خرچہ ہوگا جس کو بنانے کیلئے سب سے پہلے دریائے راوی پر46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف اس شہر کو بسایا جائے گا۔ اس جھیل پر6 بیراج تعمیرکئے جائیں گے اورساتھ ھی پانی کو صاف رکھنے کیلئے ویسٹ واٹرمینیجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔

اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بلکہ اسی جھیل سے لاہورشہر کا زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے پانی کی سطح کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔

قبل ازیں ایک سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ کر دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ریور راوی اربن پراجیکٹ کے لیے زرعی اراضی ایکوائر کرنے سے متعلق حکم امتناعی کیخلاف درخواست پر سماعت کی تھی لاہورہائیکورٹ نے باربارحکم امتناعی کیخلاف متفرق درخواستیں دائرکرنے پر پنجاب حکومت کو 5 لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا اورسخت برہمی کا بھی اظہارکیا تھا۔

عدالت نے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی اثرات کے جائزہ کے لیے راوی اربن پروجیکٹ کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ تعینات کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ان ججوں کو بیری کے موٹے تنے پر بٹھاؤ، ورنہ یہ حرام خور سالے ملک کا ککھ نہیں چھوڑیں گے
 

v r imran k

Chief Minister (5k+ posts)
پنجاب حکومت کو چاے اس پروجیکٹ کو پنجاب اسمبلی سے منظور کرواے گورنر دستخط کریں تا کے قانون بن سکے ۔۔جیسا سندھ حکومت نے کیا ہے بلدیاتی آرڈیننس منظور کروا لیا
 

Aslan

Chief Minister (5k+ posts)
Lohar High Court is has never made any decision in interest if Pakistan or Pakistani people.It took no action against the murderers of Model Town due to influence of Goon League.
 

thegodfatherpart3

Senator (1k+ posts)
Elections assemblies in sab ko ban khatam karo. Yeh haramkhor judges fir jo marzi kare. Awam fir in judges ko pakre. Fir elections ka kya matlab. Lekin badnam e zamana lohar court sharifoo ke under ha
 

Shahid Abassi

Minister (2k+ posts)
عدالت نے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی اثرات کے جائزہ کے لیے راوی اربن پروجیکٹ کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ تعینات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Can a court order the administration to hire an expert from ABROAD?
 

Keep the trust

Minister (2k+ posts)
عدالت نے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی اثرات کے جائزہ کے لیے راوی اربن پروجیکٹ کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ تعینات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Can a court order the administration to hire an expert from ABROAD?
Inn ka bas chalay to PM bhi nominate kardain.
 
Sponsored Link