ماضی میں امریکہ کی غلامی کا فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا،ایئرمارشل شاہدلطیف

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
ailE3rMX_400x400.jpg


پاکستانیو جاگو! تمہارے ملک کا سودا کرنے والا یہی بوٹ مافیا ہے جس کی تم پوجا کرتے تھے

ائیرمارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا تھا کہ آگاہ رہیں، 70 کی دہائی اور پھر 2000 میں، ہم نے اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ پالیسی فیصلے لیے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر ہے کہ نوجوانوں کے ذہنوں کو محض مفروضوں سے آلودہ نہ کیا جائے جو کہ ہمارے ماضی کی مخالفت اور ہماری قومی دانش پر سوالیہ نشان ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ مسلح پاک فوج یا انکے افراد کو ٹارگٹ کرکے جھکاسکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے بدنیت مشیروں کو ہٹائیں جو آپ کو اس نہج پر لیکر گئے

اس کے جواب میں ایک سوشل میڈیا صارف نے ائیرمارشل (ر) شاہد لطیف کا کچا چٹھا شئیر کیا

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)
ہاہاہا...اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے امریکہ کی غلامی
قومی مفاد میں کی جاتی تھی لیکن آجکل اپنے ذاتی مفاد میں
ڈالر لے کر…..
ڈالر سے بہتر بھی ہے کچھ اس زمانے میں
کمبخت سو گنااضافہ کر دیتا ہے خزانے میں
 

Lubnakhan

Minister (2k+ posts)
What did Pakistan achieved after all these surrenders???

Nothing!!
Pakistan is 1000 years behind rest of the world in almost ever field!!
The thing is that such decisions shouldn’t be in hands of few!
PTI is right now doing a political struggle that will only bring more power to civilians.

Do we all kit wish that??
 

amber123

Chief Minister (5k+ posts)
جرنیلوں کا دماغ کام نہیں کرتا۔ اسی لئے فوج میں جاتے ہیں
So right…… Plato’s “Ideal State” describing people responsibilities and assigned the illiterate dumb and people with low IQ in Army to defends territorial integrity as they are with low intellectual acumen. While the person with highest intellect as head of the state - “The Philosopher King”.
 

Citizen X

President (40k+ posts)
The thing is that such decisions shouldn’t be in hands of few!
Correction such decisions should not be in their hands at all. Who are they to decide anything. They were not elected by the people. They don't have the peoples mandate. So what gives them the right to have any power of political and civil matters. Their job description is defined very clearly they need to stay within those limits.
 

Shan ALi AK 27

Chief Minister (5k+ posts)
کچھ لوگ ایک اجنڈے کے تحت ہمارے اداروں
اور افسران کو ٹارگٹ کر رہے ہیں تاکہ امپورٹڈ گورنمنٹ
کے کرتوتوں سے توجہ ہٹائی جا سکے
کچھ جاہل یا معصوم کہ لو ان کی چکر میں آ کے ووہی باتیں کر رہے ہیں
 

Truthstands

Minister (2k+ posts)
باجوہ صاحب نے اگلی ڈاکٹرائن کے لیےجولائی2021 میں کام شروع کر دیا لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض تھے، جنرل فیض حمید پولیٹیکل انجیرنگ کو سخت ناپسند کرتے تھے اور ڈائریکٹ اپنی باس یعنی وزیرِ اعظم کو تمام حالات سے واقف کر دیتے تھے، باجوہ کے لیے یہ بات بُہت تکلیف دے تھی
افغانستان کی صورتحال کے دوران جب وزیرِ اعظم عمران خان نے جنرل فیض کو ایکسٹینشن دینی چاہی تو باجوہ رکاوٹ بن گئے اور فوراً آئی ایس آئی کے نئے چیف کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی جرنل فیض کو پشاور ٹرانسفر کر دیا، ساتھ ہی باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کی ضد شروع کر دی، لیکن عمران خان نہیں مانا، اسی دوران عمران خان باجوہ کی فرمائش کے مطابق علیم خان کو پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ بنانے کو بھی ریجیکٹ کر چکے تھے،
جرنل فیض کی ٹرانسفر کے بعد مریم اور نون لیگ کے زریعے ایک منظم انداز میں جرنل فیض کی کردار کُشی کی گئی اور گالیاں دی گئی۔ اور ڈیمانڈ کی کے جرنل فیض کو اگلا آرمی چیف نا بنایا جائے۔ یہ سب باجوہ کے پلان کے مُطابق ہو رہا تھا۔
باجوہ امریکا کو ندیم انجم کے ڈی جی آئی ایس آئی بنتے ہی گرین سگنل دے چکے تھے کے اب رجیم چینج کے لئے تیار ہیں۔ امریکن نے فوراً تمام پارٹیوں سے ملاقات کر کے ایک ایجنڈا پر سب کے راضی کر لیا اور 230 ملین ابتدائی رقم سبکو آفشور ادیگیوں کی صورت میں کر سے گئی۔
باجوہ / ندیم نیکسس نے فوراً بکاؤ اسمبلی ممبران کو یقین دھانی کروائی کے انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی، لیکن اتحادی سمجھ نہیں رھے تھے کیا ہی رہا ہے۔
باجوہ نے عمران خان کے لئے لینڈ مائنز بچھائی تھی جس میں عدلیہ اور دیگر اداروں کا کردار تھا کے کسی صورت میں حکومتِ کے ساتھ اسکو توہین عدالت میں ناہل کروا دیں گے۔ لیکن اللہ نے عمران خان کو فرقان عطا کیا اور وہ بغیر لڑائی کے اس میں سے نکل گیا۔
عمران خان جو بُہت خدار اور ہمت والا انسان ہے، اُسکے ارد گرد چند بُہت ہی وفادار ساتھی ایسے موقع پر ڈٹ گئے اور خان کا ساتھ دینے والے بن گے۔
باجوہ کو مائنڈ گیم سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن اس نے عدلیہ کو استمعال کرنے کے لئے تیار کر لیا تھا، کسی بھی صورت میں عدلیہ سے اسے کامیاب کیا جائے گا،
جب عمران خان روس کے دورے پر تھے اُسی وقت باجوا امریکن دورہ کر کے واپس آئے اور امریکن کو یقین دھانی کروائی گی کے تحریک عدم اعتماد ہر صورت کامیاب کروائی جائے گی۔
باجوہ کسی صورت میں ایک طاقت ور پاکستان، مضبوط اعصاب وزیرِ اعظم جو کرپشن سے پاک، اور طاقت ور معیشیت کے حامی نہیں تھے،
جرنل ندیم نے تمام کام انجام دینے کے بعد باجوہ کے حکم پر مراسلہ کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک وہ وزیر اعظم کے پاس پونچھ چکا تھا۔
وزیر اعظم نے فوراً عوام میں جانے کا ارادہ کیا اور جب عوام انکے اس بات کو سمجھ گئی تو 27 مارچ کو اسلام آباد کے سب سے بڑے جلسے میں اس خط کا راز فاش کر دیا لیکن تمام کراداروں کے نام ظاہر نہ کیئے۔ یہ قوم فوراً سمجھ گئی حکم کِس کا ہے اور مداخلت کس کی ہے۔
تحریک عدم اعتماد کے دن جب آرٹیکل 5 کے تحت کالعدم کر دیا گیا تو باجوہ سے برداشت نہ ہُوا کیوں کے اگلی باری اُسکی ہو گی،
شعباز شریف کو فوراً ٹویٹ کرنےاور پریس کانفرنس کے ذریعے عدلیہ کو سوموٹو ایکشن لینے کا کہا گیا اور
فوراً عدلیہ کے ذریعے جوڈیشل مارشل لاء لگوا دیا،
عدالت اور ججوں کو باقاعدہ تحریری فیصلے لکھ کر دیئے اور جو پیٹیشن میں نہیں بھی مانگا گیا وہ بھی دیا گیا کیوں کے باجوہ کو خوف تھا کے کہیں کوئی اور مائنڈ گیم نہ ہو جسکا توڑ نہ ہو سکے۔
تحریک عدم اعتماد کے دن بُہت سے لوگوں کے نرویس بریک ڈاؤن کر گئے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے زریعے باجوہ کی برطرفی کو روکنا،
توہین عدالت ھونے سے پہلے سپریم کورٹ کے ججوں کو عدالت میں حاضر ہو کر رات بارہ بجے انتظار کرنا شاملِ تھا۔
اسکے علاوہ باجوہ اور ادارے میں ایک تناؤ چل رہا ہے، باجوہ نے ایک تیر سے کئی شکار کروا دیے، سب سے بڑا عوام جو اپنی افواج کو ماتھے کا جھومر سمجھتی تھی اُسّے بُہت بڑا نقصان پونچھا،
بار بار کی پریس کانفرس نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ ہر فوجی کا سر جھک گیا ہے اور عوام مسلسل سوالات کر رہی ہے۔ اور جواب کوئی بن نہیں رہا۔
ایک کرمنل مافیا کی حکومتِ تشکیل دی گئی ہے جنکا مقصد پاکستان کو کمزور اور افواج پاکستان کو ایک پولیس کے طور پر کمزور کرنا ہے، کچھہ عرصے بعد اصل مقصد بھی سامنے آ جائیں گے۔

جس دن بذریعہ عدالتی فیصلے کے جوڈیشل مارشل لاء لگایا گیا اگر اس وقت عوام باہر نکل آتی اور ان مافیا اور عدلیہ کے ججوں کو سر عام مُلک کے قانون توڑنے اور بغاوت کرنے کے جرم میں سزائیں دے دیتی تو باجوہ ڈاکٹرائن دم توڑ دیتی اور یہ ملک اپنی حقیقی آزادی حاصل کر لیتا۔
ابھی بھی وقت نہیں گزرا، رمضان کے بعد عوام اپنے لیڈر کی کال کے بغیر باہر نکلے پورا ملک جام کر دیے، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے ججوں اور سیاسی مافیا اور بکھاؤ میر جعفر اور اُسکے تین غدار جرنیلوں کو سرے عام پھانسی پر لٹکا کر اس مُلک کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک آزاد ملک اور اِنصاف کا نظام دے سکتی ہے۔ پھر کوئی ہمت نہیں کرے گا،
اب یہ وقت ہر ایک کا امتحان ہے وہ تاریخ میں حق کے ساتھ ہوتے ہوئے حسین کے قافلے میں شامل ہونا چاہتا ہے،یا پھر كوفی بن کے حسین کی شہادت پر ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرتا ہے۔
یہ حق اور باطل کی جنگ ہے، اور حق ہمیشہ غالب آ کر رہتا ہے،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق کے ساتھ دینے کی، اور اس ظلم کے خلاف جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


‏‎#MarchAgainstImportedGovt
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
 
Sponsored Link