مجھ پر حملہ انہی لوگوں نے کیا جو کبھی پکڑے بھی نہیں جاتے: ایاز امیر

hamla-ayaz-amir-aa.jpg


نامور صحافی و تجزیہ کار ایاز امیر کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کے بڑے بڑے افسران میرے پاس آئے مگر میرے مقدمے کی تفتیش کیلئے کوئی جائے وقوعہ پر نہیں گیا۔

ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو دیئے گئے انٹرویو میں صحافی نے کہا کہ ان پر حملے کے بعد پنجاب پولیس کے بڑے بڑے افسران ان کے پاس آئے اور تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی مگر ہوا کچھ نہیں کیونکہ کوئی تفتیش کیلئے آج تک جائے وقوعہ پر ہی نہیں گیا۔


ایازامیر نے کہا کہ یہ حملہ انہی لوگوں نے کیا ہے جن کے خلاف کبھی کارروائی نہیں ہوتی اور وہ پکڑے بھی نہیں جاتے۔ کیونکہ پولیس سمیت باقی ادارے بھی بے بس ہوتے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت پولیس آئی سب نے کہا کہ پکڑ لیں گے مگر ہمارا سسٹم ہی ایسا ہے کہ ایسے کیسز میں کچھ نہیں ہوتا، پولیس دل کو تسلی دینے کیلئے آتی تو ہے مگر وہ بھی جانتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو سکتا اس لیے جیسے باقی لوگ بیٹھ جاتے ہیں ہم بھی بیٹھ گئے ہیں کیونکہ کچھ نہیں ہوگا۔
 
Advertisement

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
حیرت ہے دشمن کے سامنے ٹراؤزر اتار کر تشریف ننگی کر کے پیش کرکے سرنڈر کر دیتے ہیں یعنی جس کام کے لئے پالا گیا وہاں تو ہتھیار پھینک دیتے ہیں ہیجڑے نامرد کھسرے ُاور زنخے۔ اور نہتی عوام عورتوں بچوں بوڑھوں پر انکئ مردانگی جاگتی ہے نہتی عوام عورتوں بچوں فیمیلیز پر یہ ہیجڑے ایسے پچاس پچاس ہزار زہریلی گیس کے شیل چلاتے ہیں جیسے نہتی عورتیں بچے فیملیز فوجیوں کی فیمیلیز ریٹائرڈ جرنیل انکی فیمیلیز فلسطینی مظلوم ہیں اور یہ اسرائیلی فوج یا یہ انڈین فوج ہے اور نہتی عورتیں اور بچے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیری

یہ ہیجڑے نامرد زنخے کھسر ے صرف نہتی عوام عورتوں بچوں تشدد کراتے ہیں شیلنگ کراتے ہیں۔ کیا اسکو نطفہ حرامی کہیں گے گشتی پن ٗکہیں گے یا کھسرا پن اور غداری کہیں گے در لعنت۔ کھسرو ہیجڑا نہتی عورتوں بچوں پر حملہ کرنے والو اور اسلحہ بردار دشمن کے سامنے تشریف ننگی کرکے لیٹ جانے والے بے غیرتو
 
Sponsored Link