!میرا لاہور بدمعاشوں کے حوالے

Sayeen

Councller (250+ posts)
 
Advertisement

ranaji

Prime Minister (20k+ posts)
کھوکھر برادر حرامُزادوں کو گولی مار کر ایک حرام زدگی اور کنجر نسل میں کمی کی جو سکتی ہے انٗحرام زادوں گھٹیا کنجر بد معاش برادران گشتی کی نسل کے کھوکھر برادران کو
 

samy99

Minister (2k+ posts)
THANKS ASHRAF SHARIF FOR UR FEEDBACK ON PMLN ACTIVITIES IN LAHORE AND PUNJAB. I HAD ALREADY WRITTEN ABOUT THE RASCALS AND LANDMAFIAS OF PMLN, NOW ITS UPTO THE PTI GOVT TO ELIMINATE THEM ONCE FOR ALL. NOW IS THE TIME TO FINISH THEM SO PEOPLE IN PUNJAB AND ELSEWHERE CAN TAKE A SIGH OF RELIEF. TAKING A FIRST STEP TOWARDS THE KHOKHAR BROTHERS IS A BIG ACHIEVEMENT AND SHOULD NOT STOP IT HERE, KEEP ON DOING IT UNTIL THEY ARE FINISHED.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
اس آرٹیکل میں کم از کم ایک بات نمایاں ہے، کہ کیسے بد انتظامی اور محرومی شریفوں کو بھی بدمعاشی کا رستہ دکھاتی ہے اور کیسے بدمعاشوں کو بے تاج بادشاہ بناتی ہے۔ کسی کھوکھر کو کھڑکا دینا ایسے ہی ہے جیسے کسی تناور درخت کی کوئی ٹہنی توڑ لی جائے۔

کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ کھوکھران کے خلاف ایکشن غلط ہے، بلکہ کہنے کا مقصد ہے کہ یہ کوئی اس مسئلے کا دائمی حل نہیں۔ جب تک شہر میں انتظامی بد اموری اور خاصکر قانون کا نفاظ صحیح طریقے سے نہیں ہوگا تو تب تک لوگ بدمعاش بنتے رہیں گے اور یہ کام چلتے رہیں گے۔

بزدار صاحب کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ موصوف آج لاہور سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے چھانگا مانگا گئے اور بعد از وہاں ایک پودہ لگا کر واپس بھی آگئے۔
 

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)
صحافی بھائی بھی اپنے پیٹی بھائی کو بچا لیتے ہیں ۔۔ سہیل ضیا بٹ کا ذکر ہو تو سہیل وڑائچ کا ذکر بھی ہونا چاہیے ۔۔ سہیل وڑائچ بھی بٹ کا پالتو صحافتی غنڈہ تھا، اور جتنا فتنہ اور جھوٹ سہیل وڑائچ نے پھیلایا ہے اتنا شاید کھوکھر برادران نے بھی نہیں

شریفی غنڈوں کا ذکر ہو تو ایم اے او کالج کے ایگل گروپ کا بھی ہو نا چاہیے۔جو پہلے تو نظریاتی طور کچھ اور تھا مگر پھر یکدم ایم ایس ایف بن گئے ۔ اسی ایگل گروپ سے لاہور اور اطراف میں غنڈوں اور ہر بد اخلاقی میں ملوث گروہ بنے ۔چند ممبر اسمبلی اب بھی ہیں اسکے ممبر تھے
لاہور میں گینگ یا مجرم وغیرہ تو ہمیشہ تھے ہی مگر ایم ایس ایف۔ ْایگل گروپ پہلا گینگ تھا جو کھلا نواز کا وفادار تھا، امرا کی اولاد تھا اور جسکے روابط عدلیہ، پولیس اور اعلی سطح پر حکومت سے تھے اور با اثر قبضہ گروپ بنا۔
 
Last edited:

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)
صحیح طریقے سے نہیں ہوگا تو تب تک لوگ بدمعاش بنتے رہیں گے اور یہ کام چلتے رہیں گے۔
۔
جرایم کا مکمل خاتمہ نہ ہو گا اور پولیس اور سیاست کا کسی نہ کسی درجے تعلق بھی رہے گا ۔تاجر اور انڈسٹریلسٹ بھی بوجوہ تھوڑا بہت روابط رکھیں گے ۔ ہر جگہ کسی حد تک ایسا ہے ، وجہ انسانی فطرت یا آسان پیسا یا جو بھی ۔سیاست بھی ایک مہنگا کام ہے، سیاست میں ایک میجورٹی آتی ہی اقتدار کیلئے ہے، بھٹو کی پیپلز پارٹی ہو یا بھارتی کانگرس اس ظمن مین تاریخ بہت رنگین ہے ۔ مگرسیاسی عمل خود کریمنلائز نہ ہوا تھا۔
۔
مگر نوّے کی دہائی میں بظاہر پولیٹیکل پولائرائزیشن کی وجہ سے (یا چند معاشی اور کیمیونیکیشن وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں) جو ہوا وہ عمومی نہیں تھا ۔صرف لاہور نہیں ، کراچی اندرون سندھ یا مرتضے بھٹو کی پارٹی وغیرہ، دونوں صوبوں میں ۔ اسی کی دہائی کے آخر میں ضیا مخالف گروپ اور طلبا کریمنللائز ہوئے۔ پھر سیاسی پارٹیاں اور جرائم انٹیگریٹ ہو ئے ، پھر حکومتیں اور مجرم ۔پھر مڈل سطح کی سیاسی قیادت ان سے ابھر کر آئی۔ٹی ٹی پی اس عمل کا نکتہ عروج تھا۔زرداری اور بینظر نے بھی ایک علیحدہ نظیر قائم کی۔ سیاسی قیادت بھی جانتی تھی کہ پارٹیاں انکے کنٹرول میں نہیں رہیں اور ظاہری سیاسی ڈھانچہ ایجنٹ بن چکا ہے ۔(یہ صرف ایک تجزیہ نہیں بلکہ درجنوں ایسے معلوم معاملات ہیں ) ۔ شہباز کی مثال لیں تو اسنے پولیس کی مدد سے حل کرنا چاہا مگر اول تو پولیس اور پارٹیاں اندرون بگڑ چکی تھیں ، دوئم پولیس حل نہ تھا کہ یہ ایک سیاسی مسلہ تھا اور حل بھی سیاسی (اگرچہ پولیس ایکشن تو لازم ہے) پاکستان اب اس سیاسی فیز سے نکل چکا ہے اور اس ان ہولی انٹیگریشن کا بھی بتدریج خاتمہ ہو گا ۔
پاکستان میں جو ہوا یکسر نوول نہیں ، کئی ممالک سیاسی عمل کے اس فیز سے گزرے ہیں ۔ ان مثالوں پے جائیں تو بات لمبی ہو جاائے گی مگر انہی کا تجزیہ اور عوامل موجودہ حالات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں
۔​
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
جرایم کا مکمل خاتمہ نہ ہو گا اور پولیس اور سیاست کا کسی نہ کسی درجے تعلق بھی رہے گا ۔تاجر اور انڈسٹریلسٹ بھی بوجوہ تھوڑا بہت روابط رکھیں گے ۔ ہر جگہ کسی حد تک ایسا ہے ، وجہ انسانی فطرت یا آسان پیسا یا جو بھی ۔سیاست بھی ایک مہنگا کام ہے، سیاست میں ایک میجورٹی آتی ہی اقتدار کیلئے ہے، بھٹو کی پیپلز پارٹی ہو یا بھارتی کانگرس اس ظمن مین تاریخ بہت رنگین ہے ۔ مگرسیاسی عمل خود کریمنلائز نہ ہوا تھا۔
۔
مگر نوّے کی دہائی میں بظاہر پولیٹیکل پولائرائزیشن کی وجہ سے (یا چند معاشی اور کیمیونیکیشن وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں) جو ہوا وہ عمومی نہیں تھا ۔صرف لاہور نہیں ، کراچی اندرون سندھ یا مرتضے بھٹو کی پارٹی وغیرہ، دونوں صوبوں میں ۔ اسی کی دہائی کے آخر میں ضیا مخالف گروپ اور طلبا کریمنللائز ہوئے۔ پھر سیاسی پارٹیاں اور جرائم انٹیگریٹ ہو ئے ، پھر حکومتیں اور مجرم ۔پھر مڈل سطح کی سیاسی قیادت ان سے ابھر کر آئی۔ٹی ٹی پی اس عمل کا نکتہ عروج تھا۔زرداری اور بینظر نے بھی ایک علیحدہ نظیر قائم کی۔ سیاسی قیادت بھی جانتی تھی کہ پارٹیاں انکے کنٹرول میں نہیں رہیں اور ظاہری سیاسی ڈھانچہ ایجنٹ بن چکا ہے ۔(یہ صرف ایک تجزیہ نہیں بلکہ درجنوں ایسے معلوم معاملات ہیں ) ۔ شہباز کی مثال لیں تو اسنے پولیس کی مدد سے حل کرنا چاہا مگر اول تو پولیس اور پارٹیاں اندرون بگڑ چکی تھیں ، دوئم پولیس حل نہ تھا کہ یہ ایک سیاسی مسلہ تھا اور حل بھی سیاسی (اگرچہ پولیس ایکشن تو لازم ہے) پاکستان اب اس سیاسی فیز سے نکل چکا ہے اور اس ان ہولی انٹیگریشن کا بھی بتدریج خاتمہ ہو گا ۔
پاکستان میں جو ہوا یکسر نوول نہیں ، کئی ممالک سیاسی عمل کے اس فیز سے گزرے ہیں ۔ ان مثالوں پے جائیں تو بات لمبی ہو جاائے گی مگر انہی کا تجزیہ اور عوامل موجودہ حالات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں
۔​
جی بلکل صفحہ ہستی سے مٹنا تو ممکن نہیں، کہ ابلیس بھی آسمانوں کی مخلوق تھا۔ لیکن ہاں، ان لوگوں کو ضرور اس راستے پر جانے سے بچایا جا سکتا ہے جو اپنی جان بچانے کے لیئے اس دلدل میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔

آپ کا تجزیہ یا معلومات، جو بھی ہے اس سے صد فیصد اتفاق۔ پاکستان میں یہ حالات نوّے کی دہائی کی سیاست کا ہی نتیجہ ہیں۔
لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ ابھی یہ ان ہولی انٹیگریشن ختم نہیں ہوا۔ ہاں کسی ٹوپی کے نیچے گھومنے والا دماغ ضرور اس احساس کو پا گیا ہے کہ اس کو ختم ہونا چاہیئے، وگرنہ سب ختم ہوجائے گا۔ بات عام سی غنڈہ بدمعاشی سے بڑھ کر دہشت گردی اور پراکسیوں تک پہنچ چکی ہے۔ عراق، شام، لیبیا کے مناظر سامنے ہیں۔

اب اس پودے کی، جو نوّے کی دہائی میں لگایا تھا، کی بیخ کنی کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے اڑنے والے بیجوں کی بھی روک تھام کرنی ہے، جو آس پاس کی صاف ستھری اور زرخیز زمین پر ببول کی فصل بڑھاتے جا رہے ہیں۔ یہ کام صرف لوگوں میں اس احساس کو ختم کرنے سے ہی ممکن ہوگا کہ اگر میں کوئی شکایت لے کر اپنے پولیس تھانے میں جاوٗں، تو مجھے اعتماد ہو کہ میری شنوائی بھی ہوگی اور مجھے تحفّظ بھی حاصل ہوگا۔ آپ نے درست کہا کہ پولیس اس میں سیاسی تو نہیں، لیکن ایک بہت اہم کلیدی کردار ضرور ادا کرسکتی ہے۔ مگر صرف پولیس نہیں، اس کے اوپر عدالتیں بھی ہیں اور عدالتوں کے لیئے قوانین بھی اسی حد تک منصفانہ ہونے چاہیں۔
 

disgusted

Minister (2k+ posts)
اس آرٹیکل میں کم از کم ایک بات نمایاں ہے، کہ کیسے بد انتظامی اور محرومی شریفوں کو بھی بدمعاشی کا رستہ دکھاتی ہے اور کیسے بدمعاشوں کو بے تاج بادشاہ بناتی ہے۔ کسی کھوکھر کو کھڑکا دینا ایسے ہی ہے جیسے کسی تناور درخت کی کوئی ٹہنی توڑ لی جائے۔

کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ کھوکھران کے خلاف ایکشن غلط ہے، بلکہ کہنے کا مقصد ہے کہ یہ کوئی اس مسئلے کا دائمی حل نہیں۔ جب تک شہر میں انتظامی بد اموری اور خاصکر قانون کا نفاظ صحیح طریقے سے نہیں ہوگا تو تب تک لوگ بدمعاش بنتے رہیں گے اور یہ کام چلتے رہیں گے۔

بزدار صاحب کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ موصوف آج لاہور سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے چھانگا مانگا گئے اور بعد از وہاں ایک پودہ لگا کر واپس بھی آگئے۔
How can the govt. rid Punjab, the land of five or rather now three rivers and billions of intrigue get rid of mafia when people of Punjab take their first 'ghutti' bought with haram money. Do you not see all the patwaris fed on 'khota biryani' come out in support of convicted criminals and haramkhors? Why is a convicted thief bhagori sharif out of prison? Who is going to get the Lohaar High Court [LHC] and Ittefaq High Court [IHC} rid of the scum and illegitimite offspring of sows?
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں