نجی چینل پر ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق بیان دینے پر عامر ڈوگر سے وضاحت طلب


ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا معاملے پر حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور اور قومی اسمبلی میں چیف وہپ عامر ڈوگر سے وضاحت طلب کرلی۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عامر ڈوگر کے دیئے گئے انٹرویو سے سیاسی سطح پر غلط تاثر پیدا ہوا،پی ٹی آئی قیادت نے عامر ڈوگر سے ٹی وی پروگرام میں سیاق و سباق سے ہٹ کر گفتگو پر سوالات اٹھادیئے اور ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے، جبکہ انٹرویو پر اعلیٰ حکومتی شخصیات اور سینیئر پارٹی قیادت نے بھی ناراضگی ظاہر کردی۔

پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ عامر ڈوگر کو قومی سلامتی امور پر محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا،قومی سلامتی پر سول وعسکری قیادت میں ہم آہنگی ہے لیکن عامر ڈوگر کے انٹرویو سے سیاسی سطح پر غلط تاثر پیدا ہو۔


سوشل میڈیا پر بھی عامر ڈوگر کے انٹرویو کا غلط استعمال ہوا، جبکہ اجلاسوں کی تفصیلات فراہم کرنا وزارت اطلاعات اور ترجمانوں کی ذمہ داری ہے۔

عامر ڈوگر نے گزشتہ روز نی ٹی وی کے اینکر پرسن ندیم ملک کو انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اس وقت تک کیلئے ڈی جی آئی ایس آئی رکھنا چاہتے تھے جب تک افغانستان کے حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے۔

وزیراعظم افغان صورتحال کی وجہ سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکو رکھنا چاہتے تھے، وزیراعظم چاہتے تھے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کچھ ماہ عہدے پر رہیں، کیونکہ وزیراعظم کا کہناتھاکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اچھے پیشہ ور سپاہی ہیں۔
 
Advertisement

Munawarkhan

Chief Minister (5k+ posts)
So whenever journalists say that they got info from very high govt sources, its usually people like him. They lack information but still continue to give their opinion as facts.


ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا معاملے پر حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور اور قومی اسمبلی میں چیف وہپ عامر ڈوگر سے وضاحت طلب کرلی۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عامر ڈوگر کے دیئے گئے انٹرویو سے سیاسی سطح پر غلط تاثر پیدا ہوا،پی ٹی آئی قیادت نے عامر ڈوگر سے ٹی وی پروگرام میں سیاق و سباق سے ہٹ کر گفتگو پر سوالات اٹھادیئے اور ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے، جبکہ انٹرویو پر اعلیٰ حکومتی شخصیات اور سینیئر پارٹی قیادت نے بھی ناراضگی ظاہر کردی۔

پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ عامر ڈوگر کو قومی سلامتی امور پر محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا،قومی سلامتی پر سول وعسکری قیادت میں ہم آہنگی ہے لیکن عامر ڈوگر کے انٹرویو سے سیاسی سطح پر غلط تاثر پیدا ہو۔


سوشل میڈیا پر بھی عامر ڈوگر کے انٹرویو کا غلط استعمال ہوا، جبکہ اجلاسوں کی تفصیلات فراہم کرنا وزارت اطلاعات اور ترجمانوں کی ذمہ داری ہے۔

عامر ڈوگر نے گزشتہ روز نی ٹی وی کے اینکر پرسن ندیم ملک کو انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اس وقت تک کیلئے ڈی جی آئی ایس آئی رکھنا چاہتے تھے جب تک افغانستان کے حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے۔

وزیراعظم افغان صورتحال کی وجہ سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکو رکھنا چاہتے تھے، وزیراعظم چاہتے تھے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کچھ ماہ عہدے پر رہیں، کیونکہ وزیراعظم کا کہناتھاکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اچھے پیشہ ور سپاہی ہیں۔
 

zahid.sadiq

MPA (400+ posts)
افغانستان کے حالات تو تا قیامت ٹھیک نہیں ہونے، خان کو ان جیسے کنجروں سے زیادہ خطرہ ہے جو افلاطون بنے بیٹھے ہیں
 
Sponsored Link