نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے اختلافات کی بنیاد کب پڑی؟

Ali Adnan Asim

MPA (400+ posts)
عموماً سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کو شکست دینے اور عوام کا بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔ تاہم کئی مرتبہ یہی مینڈیٹ سیاسی جماعتوں کے قائدین کیلئے وبال جان بن جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی واقعہ میاں نواز شریف کے ساتھ پیش آیا۔
17 فروری 1997 کو وہ اپنے سیاسی مخالفین کو چت کرکے دوسری بار وزارت عظمی کا حلف اٹھا رہے تھے۔ انہیں بظاہر ’ہیوی مینڈیٹ‘ کی محفوظ چھتری اور عددی طور پر کمزور اپوزیشن میسر آئی تھی۔ آنے والے دنوں میں دو تہائی اکثریت کی یہ طاقت ہی ان کی کمزوری ثابت ہوئی۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ صرف چار سال قبل 17 اپریل 1993 کو ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ کا باغیانہ نعرہ لگا کر اقتدار سے محروم ہونے والے نواز شریف کی ایک مرتبہ پھر اقتدار میں واپسی کے اسباب اور وجوہات کیا تھیں؟ فروری 1997 کے انتخابات میں ان کی جماعت نے 207 کے ایوان میں 137 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ انہیں پہلی بار اپنے آبائی صوبے پنجاب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں غالب اکثریت حاصل ہوئی۔ 1993 کے الیکشن میں پنجاب سے قومی اسمبلی کی 111 میں سے 52 سیٹوں کے مقابلے میں اس بار انھیں 114 میں سے 107 پر فتح حاصل ہوئی۔ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ماضی میں 240 میں سے 106 حلقوں میں کامیابی اب کے بار 211 حلقوں میں فتح تک پہنچ گئی۔ اس غیرمعمولی اکثریت میں پنجاب کا بہت بڑا حصہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مسلم لیگ میں ان کے حریف جونیجو گروپ کا شکست و ریخت سے دوچار ہو کر غیر موثر ہو جانا تھا۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے صدر محمد خان جونیجو کی 18 مارچ 1993 کو اچانک رحلت کے ایک ماہ بعد نواز شریف مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔ 1993 کے الیکشن میں پنجاب سے صوبائی اسمبلی کی 18 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی سے مل کر حکومت بنانے والی جونیجو لیگ کا 1997 میں پنجاب سے صفایا ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کے لیے مخلوط حکومت اس سے بھی تباہ کن ثابت ہوئی۔ صوبے میں اس کی نشستیں 94 سے کم ہو کر صرف دو رہ گئیں اور قومی اسمبلی میں سندھ سے 18 نشستوں کے سوا ملک بھر سے کوئی سیٹ نہ مل سکی۔
پنجاب میں نواز شریف کے مخالف گروپ کے نمایاں قائدین حامد ناصر چٹھہ اور میاں منظور وٹو شکست سے دوچار ہو گئے۔ لیکن نواز سریف کی جانب سے عام خیال کے برعکس پنجاب کی وزارت اعلیٰ گجرات کے چوہدریوں کے بجائے اپنے بھائی شہباز کو سونپنے کا فیصلہ حیران کن تھا جس نے آگے چل کر ایک اور مسلم لیگ کو جنم دیا۔ لیکن میاں صاحب کی اس سوچ کے پیچھے ماضی کے تجربات اور پنجاب سے وفاق کے لیے کسی سیاسی و انتظامی چیلنج کا راستہ روکنا تھا۔
یاد رہے کہ 1993 کی سیاسی اور قانونی جنگ کے دوران گورنر پنجاب چوہدری الطاف اور منظور وٹو سے انکی سیاسی کشیدگی ایک موقع پر وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ممکنہ تصادم تک جا پہنچی تھی۔
صوبہ سرحد خیبر پختونخوا میں نواز شریف کے ساتھی مہتاب عباسی باآسانی وزیر اعلیٰ بن گئے۔ بلوچستان میں چار سیٹوں کے ساتھ بی این پی، جے ڈبلیو پی اور جے یو آئی ایف کی سردار اختر مینگل کی قیادت میں مخلوط حکومت میں مسلم لیگ بھی شامل ہوگئی۔ سندھ میں حکومت سازی کے لیے نواز شریف کو ایم کیو ایم سے ہاتھ ملانا پڑا، لیاقت جتوئی 14 ممبران اسمبلی کے ساتھ مسلم لیگ کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔
نواز شریف نے ابتدا میں صرف سات رکنی مختصر کابینہ کا انتخاب کیا، کامرس اسحاق ڈار، داخلہ چوہدری شجاعت حسین، پٹرولیم چوہدری نثار، وزارت خارجہ گوہر ایوب، خزانہ سرتاج عزیز اور بہبود آبادی عابدہ حسین کے حصے میں آئی۔
پاکستان میں 2008 کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں کے لیے سینیٹ میں اکثریت ان کی آدھی مدت گزرنے کے بعد میسر آتی رہی ہے۔ لیکن نواز شریف اس حوالے سے خوش نصیب تھے۔ 12 مارچ 1997 کو سینیٹ کی نصف نشستوں پر انتخاب ہوا۔ ایوان بالا کے 87 کے ہاؤس میں ان کی سیٹوں کی تعداد 56 ہو گئی۔ اس اکثریت کے بل بوتے پر انہوں نے پہلے پانچ ماہ میں آئین میں دو ترامیم کر ڈالیں۔ خصوصی عدالتوں کے قیام، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور احتساب بیورو کے قیام کے بل دونوں ایوانوں سے باآسانی پاس کروا لیے۔ یہ اور بات کی آج نواز لیگ کی مرکزی قیادت بشمول شہباز شریف اور نواز شریف اسی احتساب بیورو کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تاہم جب نواز شریف نے اپنے بھاری مینڈیٹ کے تحت اسمبلی توڑنے کے صدارتی اختیار اور فلور کراسنگ کے قانون میں تبدیلی کے لیے آئینی ترامیم لانے کی کوشش کی تو ان کا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنگا پر گیا اور صدر اور وزیراعظم ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔
فوج کے سپریم کمانڈر صدر غلام اسحاق خان سے ٹکر لے کر نواز شریف نے کھلے عام اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست شروع کر دی۔ لیکن نواز شریف کی سیاست کی بنیاد مزاحمت تھی یا مصالحت، اس تائثر اور حقیقت میں فرق کے لیے بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور نگران سیٹ اپ کے عرصہ اقتدار کے دوران وقوع پذیر کچھ واقعات کا جائزہ حقیقت تک پہنچنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ الیکشن سے ایک ماہ پہلے جنوری 1997 میں نگران کابینہ کی سفارش پر صدر فاروق لغاری نے رول آف بزنس 1973 میں ترمیم کی جس کے تحت ’کونسل فار ڈیفنس اینڈ سکیورٹی‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارے کا کام دفاعی اور قومی سلامتی کے امور کا جائزہ لینا تھا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ مستقبل میں کوئی بھی وزیراعظم منتخب یونے والا شخص اس کونسل کے زیر نگرانی کام کرے گا۔ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے اس کونسل سے جان چھڑوانے کی کوشش کی تو ان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات دوبارہ زور پکڑ گے۔ میاں صاحب حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی 10 ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ صدر فاروق لغاری کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے خطرہ پیدا ہو گیا۔سینئی لیگی رہنما سرتاج عزیز کے مطابق ’وزیراعظم ہاؤس میں کابینہ کے ممبران اور بڑی تعداد میں ممبران اسمبلی کی نظریں ایوان صدر پر لگی ہوئی تھیں، جہاں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور صدر فاروق لغاری کی ملاقات جاری تھی۔
ان کے مطابق کچھ ہی عرصہ پہلے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے والےصدر فاروق لغاری نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلے میں آرمی چیف سے مدد مانگی تو جنرل کرامت نے انہیں بتایا کہ میں جمہوری اصولوں پر یقین رکھنے والا ہوں اور آئین اور قانون کے خلاف کوئی چیز نہیں کر سکتا۔ان کے واضح موقف نے صورت حال بدل ڈالی، وزیر اعظم اور ان کے رفقا جو تھوڑی دیر قبل برطرفی کی دستاویز کے منتظر تھے اب سرجوڑے صدر فاروق لغاری کے مواخذے کا متن ڈرافٹ کرنے لگے، اور اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگلے روز فاروق لغاری صدارت کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔
لیکن نواز حکومت کو بچانے والے جہانگیر کرامت کو نواز شریف کے اسی دور حکومت میں اکتوبر 1998 میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز دینے پر استعفی دینا پڑا تھا۔ یاد ریے کہ نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں ان کی حکومت کی صدر کے ہاتھوں برطرفی سپریم کورٹ نے ختم کر دی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ ہو گیا کہ دس ججوں کے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے واحد جج سجاد علی شاہ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں چیف جسٹس بن چکے تھے۔ ان کی طرف سے سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی تقرری کی سفارش نواز شریف کو منظور نہ تھی۔ بعد ازاں خصوصی عدالتوں کے قیام کے حکومتی فیصلے کو سجاد علی شاہ نے متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
یہیں سے دونوں کے درمیان اختلاف کا آغاز ہوا جو بعد میں کھلی جنگ میں بدل گیا اور نواز شریف کو توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ پیش ہونا پڑا۔ اس تناؤ اور تلخی سے بھرے واقعات کا نقطہ عروج سپریم کورٹ پر حکومت کے حامیوں کا حملہ تھا۔ لیکن ان پر دوسرا حملہ سپریم کورٹ کے اپنے ساتھی ججوں نے کیا جب سندھ سے تعلق رکھنے سجاد علی شاہ کی تقرری کو پنجابی اکثریت رکھنے والے ججوں کے ایک بینچ نے غیر قانونی قرار دے کر سپریم کورٹ سے رخصت کر دیا۔
اسی لیے ریاست کے تین طاقت ور اداروں کے ساتھ چپقلش اور محاذ آرائی نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کی تمام کامیابیوں کے تذکرے کو دھندلا دیتی ہے۔
بقول سرتاج عزیز ’ہیوی مینڈیٹ‘ نواز شریف کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوا۔ جس نے انہیں اپنے قریبی رفقا اور کابینہ ممبران سے دور کر دیا۔ وہ اہم نوعیت کے فیصلے بغیر مشاورت سے کرنے لگے۔ ایسے ہی ایک فیصلے نے نہ صرف ان کی حکومت کو چلتا کر دیا بلکہ جیل اور طویل جلاوطنی کا عذاب بھی جھیلنا پڑا۔
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

MrLad01

Minister (2k+ posts)
عموماً سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کو شکست دینے اور عوام کا بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔ تاہم کئی مرتبہ یہی مینڈیٹ سیاسی جماعتوں کے قائدین کیلئے وبال جان بن جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی واقعہ میاں نواز شریف کے ساتھ پیش آیا۔
17 فروری 1997 کو وہ اپنے سیاسی مخالفین کو چت کرکے دوسری بار وزارت عظمی کا حلف اٹھا رہے تھے۔ انہیں بظاہر ’ہیوی مینڈیٹ‘ کی محفوظ چھتری اور عددی طور پر کمزور اپوزیشن میسر آئی تھی۔ آنے والے دنوں میں دو تہائی اکثریت کی یہ طاقت ہی ان کی کمزوری ثابت ہوئی۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ صرف چار سال قبل 17 اپریل 1993 کو ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ کا باغیانہ نعرہ لگا کر اقتدار سے محروم ہونے والے نواز شریف کی ایک مرتبہ پھر اقتدار میں واپسی کے اسباب اور وجوہات کیا تھیں؟ فروری 1997 کے انتخابات میں ان کی جماعت نے 207 کے ایوان میں 137 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ انہیں پہلی بار اپنے آبائی صوبے پنجاب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں غالب اکثریت حاصل ہوئی۔ 1993 کے الیکشن میں پنجاب سے قومی اسمبلی کی 111 میں سے 52 سیٹوں کے مقابلے میں اس بار انھیں 114 میں سے 107 پر فتح حاصل ہوئی۔ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ماضی میں 240 میں سے 106 حلقوں میں کامیابی اب کے بار 211 حلقوں میں فتح تک پہنچ گئی۔ اس غیرمعمولی اکثریت میں پنجاب کا بہت بڑا حصہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مسلم لیگ میں ان کے حریف جونیجو گروپ کا شکست و ریخت سے دوچار ہو کر غیر موثر ہو جانا تھا۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے صدر محمد خان جونیجو کی 18 مارچ 1993 کو اچانک رحلت کے ایک ماہ بعد نواز شریف مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔ 1993 کے الیکشن میں پنجاب سے صوبائی اسمبلی کی 18 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی سے مل کر حکومت بنانے والی جونیجو لیگ کا 1997 میں پنجاب سے صفایا ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کے لیے مخلوط حکومت اس سے بھی تباہ کن ثابت ہوئی۔ صوبے میں اس کی نشستیں 94 سے کم ہو کر صرف دو رہ گئیں اور قومی اسمبلی میں سندھ سے 18 نشستوں کے سوا ملک بھر سے کوئی سیٹ نہ مل سکی۔
پنجاب میں نواز شریف کے مخالف گروپ کے نمایاں قائدین حامد ناصر چٹھہ اور میاں منظور وٹو شکست سے دوچار ہو گئے۔ لیکن نواز سریف کی جانب سے عام خیال کے برعکس پنجاب کی وزارت اعلیٰ گجرات کے چوہدریوں کے بجائے اپنے بھائی شہباز کو سونپنے کا فیصلہ حیران کن تھا جس نے آگے چل کر ایک اور مسلم لیگ کو جنم دیا۔ لیکن میاں صاحب کی اس سوچ کے پیچھے ماضی کے تجربات اور پنجاب سے وفاق کے لیے کسی سیاسی و انتظامی چیلنج کا راستہ روکنا تھا۔
یاد رہے کہ 1993 کی سیاسی اور قانونی جنگ کے دوران گورنر پنجاب چوہدری الطاف اور منظور وٹو سے انکی سیاسی کشیدگی ایک موقع پر وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ممکنہ تصادم تک جا پہنچی تھی۔
صوبہ سرحد خیبر پختونخوا میں نواز شریف کے ساتھی مہتاب عباسی باآسانی وزیر اعلیٰ بن گئے۔ بلوچستان میں چار سیٹوں کے ساتھ بی این پی، جے ڈبلیو پی اور جے یو آئی ایف کی سردار اختر مینگل کی قیادت میں مخلوط حکومت میں مسلم لیگ بھی شامل ہوگئی۔ سندھ میں حکومت سازی کے لیے نواز شریف کو ایم کیو ایم سے ہاتھ ملانا پڑا، لیاقت جتوئی 14 ممبران اسمبلی کے ساتھ مسلم لیگ کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔
نواز شریف نے ابتدا میں صرف سات رکنی مختصر کابینہ کا انتخاب کیا، کامرس اسحاق ڈار، داخلہ چوہدری شجاعت حسین، پٹرولیم چوہدری نثار، وزارت خارجہ گوہر ایوب، خزانہ سرتاج عزیز اور بہبود آبادی عابدہ حسین کے حصے میں آئی۔
پاکستان میں 2008 کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں کے لیے سینیٹ میں اکثریت ان کی آدھی مدت گزرنے کے بعد میسر آتی رہی ہے۔ لیکن نواز شریف اس حوالے سے خوش نصیب تھے۔ 12 مارچ 1997 کو سینیٹ کی نصف نشستوں پر انتخاب ہوا۔ ایوان بالا کے 87 کے ہاؤس میں ان کی سیٹوں کی تعداد 56 ہو گئی۔ اس اکثریت کے بل بوتے پر انہوں نے پہلے پانچ ماہ میں آئین میں دو ترامیم کر ڈالیں۔ خصوصی عدالتوں کے قیام، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور احتساب بیورو کے قیام کے بل دونوں ایوانوں سے باآسانی پاس کروا لیے۔ یہ اور بات کی آج نواز لیگ کی مرکزی قیادت بشمول شہباز شریف اور نواز شریف اسی احتساب بیورو کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تاہم جب نواز شریف نے اپنے بھاری مینڈیٹ کے تحت اسمبلی توڑنے کے صدارتی اختیار اور فلور کراسنگ کے قانون میں تبدیلی کے لیے آئینی ترامیم لانے کی کوشش کی تو ان کا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنگا پر گیا اور صدر اور وزیراعظم ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔
فوج کے سپریم کمانڈر صدر غلام اسحاق خان سے ٹکر لے کر نواز شریف نے کھلے عام اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست شروع کر دی۔ لیکن نواز شریف کی سیاست کی بنیاد مزاحمت تھی یا مصالحت، اس تائثر اور حقیقت میں فرق کے لیے بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور نگران سیٹ اپ کے عرصہ اقتدار کے دوران وقوع پذیر کچھ واقعات کا جائزہ حقیقت تک پہنچنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ الیکشن سے ایک ماہ پہلے جنوری 1997 میں نگران کابینہ کی سفارش پر صدر فاروق لغاری نے رول آف بزنس 1973 میں ترمیم کی جس کے تحت ’کونسل فار ڈیفنس اینڈ سکیورٹی‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارے کا کام دفاعی اور قومی سلامتی کے امور کا جائزہ لینا تھا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ مستقبل میں کوئی بھی وزیراعظم منتخب یونے والا شخص اس کونسل کے زیر نگرانی کام کرے گا۔ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے اس کونسل سے جان چھڑوانے کی کوشش کی تو ان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات دوبارہ زور پکڑ گے۔ میاں صاحب حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی 10 ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ صدر فاروق لغاری کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے خطرہ پیدا ہو گیا۔سینئی لیگی رہنما سرتاج عزیز کے مطابق ’وزیراعظم ہاؤس میں کابینہ کے ممبران اور بڑی تعداد میں ممبران اسمبلی کی نظریں ایوان صدر پر لگی ہوئی تھیں، جہاں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور صدر فاروق لغاری کی ملاقات جاری تھی۔
ان کے مطابق کچھ ہی عرصہ پہلے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے والےصدر فاروق لغاری نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلے میں آرمی چیف سے مدد مانگی تو جنرل کرامت نے انہیں بتایا کہ میں جمہوری اصولوں پر یقین رکھنے والا ہوں اور آئین اور قانون کے خلاف کوئی چیز نہیں کر سکتا۔ان کے واضح موقف نے صورت حال بدل ڈالی، وزیر اعظم اور ان کے رفقا جو تھوڑی دیر قبل برطرفی کی دستاویز کے منتظر تھے اب سرجوڑے صدر فاروق لغاری کے مواخذے کا متن ڈرافٹ کرنے لگے، اور اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگلے روز فاروق لغاری صدارت کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔
لیکن نواز حکومت کو بچانے والے جہانگیر کرامت کو نواز شریف کے اسی دور حکومت میں اکتوبر 1998 میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز دینے پر استعفی دینا پڑا تھا۔ یاد ریے کہ نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں ان کی حکومت کی صدر کے ہاتھوں برطرفی سپریم کورٹ نے ختم کر دی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ ہو گیا کہ دس ججوں کے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے واحد جج سجاد علی شاہ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں چیف جسٹس بن چکے تھے۔ ان کی طرف سے سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی تقرری کی سفارش نواز شریف کو منظور نہ تھی۔ بعد ازاں خصوصی عدالتوں کے قیام کے حکومتی فیصلے کو سجاد علی شاہ نے متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
یہیں سے دونوں کے درمیان اختلاف کا آغاز ہوا جو بعد میں کھلی جنگ میں بدل گیا اور نواز شریف کو توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ پیش ہونا پڑا۔ اس تناؤ اور تلخی سے بھرے واقعات کا نقطہ عروج سپریم کورٹ پر حکومت کے حامیوں کا حملہ تھا۔ لیکن ان پر دوسرا حملہ سپریم کورٹ کے اپنے ساتھی ججوں نے کیا جب سندھ سے تعلق رکھنے سجاد علی شاہ کی تقرری کو پنجابی اکثریت رکھنے والے ججوں کے ایک بینچ نے غیر قانونی قرار دے کر سپریم کورٹ سے رخصت کر دیا۔
اسی لیے ریاست کے تین طاقت ور اداروں کے ساتھ چپقلش اور محاذ آرائی نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کی تمام کامیابیوں کے تذکرے کو دھندلا دیتی ہے۔
بقول سرتاج عزیز ’ہیوی مینڈیٹ‘ نواز شریف کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوا۔ جس نے انہیں اپنے قریبی رفقا اور کابینہ ممبران سے دور کر دیا۔ وہ اہم نوعیت کے فیصلے بغیر مشاورت سے کرنے لگے۔ ایسے ہی ایک فیصلے نے نہ صرف ان کی حکومت کو چلتا کر دیا بلکہ جیل اور طویل جلاوطنی کا عذاب بھی جھیلنا پڑا۔
Saari Buqwaas. Kutti (ARMY) choron se mili hui hai.
TOTA MENA KI KAHANI
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں