نواز شریف نے شوکت خانم ہسپتال کیلئے 50 کروڑ روپے نہیں دئیے

shauk111.jpg


ادیب یوسفزے


شوکت خانم میموریل ہسپتال اینڈ کینسر ریسرچ سنٹر لاہور ایک عظیم ماں اور عظیم بیٹے کی محبت کی داستان ہے. ایک ماں نے جاتے جاتے اپنے بیٹے کو قوم کی خدمت پر لگا دیا اور وہ بیٹا آج بھی اپنی قوم کے لئے دنیا بھر سے عطیات وصول کر رہا ہے تاکہ اُس کی قوم کو باہر ملکوں میں مریضوں کے ساتھ در در کی ٹھوکریں نہ کھانا پڑے۔ یہ عظیم ماں شوکت خانم اور عظیم بیٹا عمران خان ہے۔

جب عمران خان کی والدہ کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئیں تو اُن کو احساس ہوا کہ اگر عمران خان جیسا امیر شخص اس ملک میں اپنی ماں کے کینسر کا علاج نہیں کرسکتا تو عام پاکستانی کا کیا حال ہوگا؟ اُنہوں نے کینسر کا مفت علاج کرنے کی غرض سے پاکستان میں ہی کینسر ہسپتال بنانے کا ارادہ کر لیا۔ عمران خان کی خواہش تھی کہ پاکستان میں ہی پاکستانیوں کو کینسر کا مفت علاج فراہم کیا جا سکے. عمران خان سے کہا گیا کہ ہسپتال کی تعمیر کے لئے ستر کروڑ روپے درکار ہونگے۔

عمران خان نے دنیا بھر سے عطیات جمع کرنے کا آغاز کیا. ہسپتال کی تعمیر کے لئے حکومتِ پنجاب نے بیس ایکڑ زمین فراہم کی. چونکہ اس وقت پنجاب میں نواز شریف کی حکومت تھی تو انہوں نے زمین فراہم کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا. یہ زمین نواز شریف کی ذاتی ملکیت نہیں تھی بلکہ یہ پنجاب حکومت کی زمین تھی۔ زمین کے حوالے سے عمران خان خود بھی کئی بار وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ زمین حکومت نے فراہم کی ہے۔

پہلا کینسر ہسپتال لاہور میں بنا. عمران خان نے اِسی سلسلے میں پشاور اور کراچی میں بھی ہسپتال بنانے کا سوچا. عمران خان کے مطابق شوکت خانم ہسپتال کے لئے اب تک پاکستانیوں نے کُل 63 ارب روپے عطیہ کیے ہیں. جن کی مدد سے یہ جال پورے پاکستان میں بچھانے کی ٹھان لی گئی.

پاکستان میں اِس طرح عطیات پر اتنا بڑا ہسپتال بنانا بظاہر ناممکن تھا لیکن عمران خان نے اپنی مسلسل کوشش کی بدولت یہ کر دکھایا.

ہمارے ملک میں سیاسی کشمکش ہمیشہ عروج پر رہتی ہے. یہاں کسی بھی منصوبے کا کریڈیٹ اپنے نام کرنا ایک دستور بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین اِس ہسپتال کو سیاست کی نذر کرنا چاہتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ اس کا کریدیٹ بھی نواز شریف کو دے دیا جائے۔

نون لیگی ورکرز کا دعویٰ ہے کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کی تعمیر کے لئے نواز شریف نے پچاس کروڑ روپے عطیہ کیے اور اِس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے عمران خان کا ایک نا مکمل بیان بھی ساتھ میں شیئر کیا جاتا ہے. یہ دعویٰ ماضی میں اختیار ولی، ریحام خان اور گُل بخاری سمیت کئی دیگر اہم شخصیات بھی کر چکے ہیں جبکہ ثبوت کے طور پر یہی نامکمل ویڈیو پیش کی جاتی رہی. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان نے اتنا بڑا انکشاف کیا تو آج تک میڈیا نے اِس انکشاف کو کوریج کیوں نہیں دی؟ یہ بیان صرف سوشل میڈیا تک ہی کیوں محدود رہا؟

دراصل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے. نواز شریف نے ہسپتال کی تعمیر میں اتنی بڑی مالی معاونت نہیں کی. عمران خان کا جو بیان بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے وہ دراصل نامکمل ہے. یہ بیان دسمبر 2015 میں عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال پشاور کے افتتاح کے موقع پر دیا تھا۔

اُن کی مکمل تقریر سننے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عمران خان نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا بلکہ عمران خان نے ہسپتال کی تعمیر میں پیش آنے والے چیلنجز کا ذکر کیا اور کہا کہ اُس وقت نواز شریف نے بھی کوشش کی تھی کہ ایک سرکاری کینسر ہسپتال تعمیر کیا جائے. اِس منصوبے کی تکمیل کے لئے نواز شریف نے پچاس کروڑ روپے کی حطیر رقم بھی رکھی لیکن منصوبہ ناکام ہوا. اِس کے نتیجے میں عمران خان کو بھی کہا گیا کہ کینسر ہسپتال حکومت بھی نہیں بنا سکتی نتیجتاً عمران خان کے لئے بھی ایسا ہسپتال بنانا ممکن نہیں. اُن کا مکمل بیان آپ خود سن سکتے ہیں:



اِسی تقریر میں عمران خان نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہسپتال کے لئے پہلے ڈیڑھ سال میں صرف ایک کروڑ روپے جمع ہوئے. اگر پہلے ڈیڑھ سال میں ایک کروڑ روپے جمع ہوئے تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ نواز شریف نے پچاس کروڑ روپے نہیں دیے. ماضی میں مریم اورنگزیب نے خود میڈیا کو بتایا کہ نواز شریف نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے پچیس لاکھ روپے دیے اور زمین دلوانے میں مدد کی۔

بلاشبہ کینسر ہسپتال کی تعمیر میں نواز شریف نے عمران خان کی کافی مدد کی اور اِسی کے نتیجے میں عمران خان نے ہسپتال کا سنگ بنیاد اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے ہاتھوں رکھوایا لیکن یہ کہنا نامناسب ہے کہ نواز شریف نے ہسپتال کی تعمیر میں پچاس کروڑ روپے دیے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا بیان نامکمل ہے اور مکمل بیان میں عمران خان بطور مثال لوگوں کو سمجھانا چاہتے تھے کہ نواز شریف نے کینسر ہسپتال کی تعمیر کی غرض سے پچاس کروڑ روپوں کا فنڈ بھی مقرر کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے. اُس وقت کے بڑے ڈاکٹروں اور دیگر لوگوں نے بھی عمران خان سے کہا کہ ایسا ہسپتال بنانا ناممکن ہے لیکن عمران خان نے پاکستانیوں کی مدد سے یہ ہسپتال آخر کار تعمیر کر لیا۔

آپ سب سے درخواست ہے کہ کسی بھی قسم کا دعویٰ کرنے سے قبل تھوڑی تحقیق کر لیا کریں اور یہ سوال اپنے سامنے رکھا کریں کہ کیوں اِس دعوے یا خبر کو مین سٹریم میڈیا پر کوریج نہیں دی جارہی؟
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
ہمیں ان چوروں کے جھوٹ کا پتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ اپنی جیب سے کسی کو چائے کا کپ نہیں پلاتے تو 50 کروڑ روپے کہاں سے دینگے۔۔۔۔۔؟ یہ اتنے اچھے ہوتے تو خود ایسا ہسپتال بنا لیتے۔
 

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)
پٹواری ہو اور جھوٹ پر ایمان نہ رکھے کیسے ممکن ہے
حرام پرستوں کی یہی تو خاص ادا ہے کہ، جھوٹ بولو، جھوٹ جیو اور جھوٹ پھیلاؤ
 

Humble

MPA (400+ posts)
Can you please provide the time from the clip that you shared where the following is mentioned?
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا بیان نامکمل ہے اور مکمل بیان میں عمران خان بطور مثال لوگوں کو سمجھانا چاہتے تھے کہ نواز شریف نے کینسر ہسپتال کی تعمیر کی غرض سے پچاس کروڑ روپوں کا فنڈ بھی مقرر کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے
 
Sponsored Link