وزیراعظم کی اہلیہ پرزاتی حملے، سوشل میڈیاپر عاصمہ شیرازی کے بائیکاٹ کاٹرینڈ

7sherazi.jpg


نجی ٹی وی چینل کی اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی کے بی بی سی میں لکھے گئے کالم کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، ٹویٹر پر صارفین نے عاصمہ شیرازی کے حق اور مخالفت میں ٹرینڈز چلادیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عاصمہ شیرازی نے بی بی سی اردو کیلئے ایک کالم لکھا جس میں وزیراعظم عمران خان اور انکی اہلیہ کا نام لئے بغیر ان پر ذاتی حملے کئے۔ عاصمہ شیرازی نے یہ کالم اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی شئیر کیا اور لکھا کہ اب کالے بکرے سرِ دار چڑھیں یا کبوتروں کا خون بہایا جائے، پُتلیاں لٹکائی جائیں یا سوئیاں چبھوئی جائیں، معیشت یوں سنبھلنے والی نہیں جبکہ معیشت کے تقاضے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

FCJ8oTdXEAYy9dN


عاصمہ شیرازی کی ٹویٹ کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے انہیں ٹویٹر پر آڑے ہاتھوں لیا، وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور عاصمہ شیرازی کے درمیان ٹویٹرآمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے سخت الفاظ میں تنقید کرتے رہے۔

اسی دوران ٹویٹرپر 2 ہیش ٹیگز " بائیکاٹ سرکار ہاجن" اور "عاصمہ شیرازی" ٹرینڈنگ لسٹ میں آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔ صارفین نے عاصمہ شیرازی کی جانب سے کالم میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ذاتی زندگی پر کیے گئے طنز کو شدید ناپسند کیا اور اس حرکت کی مذمت کی۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید نے کہا کہ پارٹی چئیرمین اور وزیراعظم عمران خان اور خاندان پر ذاتی حملے اور الزامات کی جانبدار صحافت کرنے پر آئندہ سے عاصمہ شیرازی کے شو کا حصہ نہیں بنوں گا۔


سوشل میڈیا صارفین عاصمہ شیرازی کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔کامران نے لکھا زاتی حملوں کے بعد جو پی ٹی آئی رہنما عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں جائے گا اس کے خلاف بھی مہم چلائی جائے گی۔


یاسر اقبال خان نے عاصمہ شیرازی کی 2 تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ہمارے پیسوں سے لوٹی رقم کو مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے صحافت میں خرچ کیے جانے کا چہرہ ہوتا تو ایسا ہوتا۔



ایک اور صارف نے کہا کہ اگر پیسے کیلئے کسی کی کردار کشی کرنے کا عمل ایک انسان ہوتا تو ایسا ہوتا۔



ایک صارف نے عاصمہ شیرازی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی زبان پاکستان کی حقیقی صحافت کی عکاسی نہیں کرتی آپ پاکستانی صحافت پر ایک کالا دھبہ ہیں۔



رانا غزہ علی خان نے ایک تصویر شیئر کی جس میں پاکستان کے نامور صحافیوں کی تصاویر شامل تھیں، انہوں نے کہا یہ سب پاکستان کے دشمن ہیں۔


وقاص اختر نے کہا کہ عاصمہ شیرازی نے ہمیشہ پارٹی کی صحافت کی ہے، وہ ہمیشہ مسلم لیگ کیلئے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر انہیں مسلم لیگ ن اتنی پسند ہے تو انہیں صحافت چھوڑ کر ان کا ترجمان بن جانا چاہیے۔


دوسری جانب عاصمہ شیرازی کے حمایتی ٹویٹر صارفین نے بھی ان کے حق میں ٹرینڈ چلایا اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والوں میں سینئر صحافی بھی شامل ہیں۔

صحافی و تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا میں عاصمہ شیرازی کے ساتھ ہوں۔


نجی ٹی وی چینل کے صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ عاصمہ شیرازی کے خلاف کابینہ ارکان کی جانب سے مہم شروع کرنا اور فیک اکاؤنٹس سے ٹرینڈ چلانا مسترد کرتے ہیں۔


شاہد قریشی نے عاصمہ شیرازی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں پاکستانی صحافت کا اصل چہرہ قرار دیا۔


منیزہ جہانگیر نے بھی عاصمہ شیرازی سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے۔

 
Advertisement
Last edited:

hello

Minister (2k+ posts)
پاکستان وہ ملک جہاں جب مرضی مذہب کارڈ کھیلا جاتا ہےجی ہاں کبھی کہاں جاتا میری جسم میری مرضی ۔۔۔۔۔۔ جب جوتیاں پڑنے لگے تو کہا جاتا ہے اسلام میں عورتوں بڑی عزت دی ہے لہذا ان پر تنقید نہ کی جائے اسی طرح یہ منحوس عورتیں ہیں جو جب چاہتی ہیں جنڈر کارڈ استعمال کرتی ہیں ٹی وی شوز میں دیکھا ہو گا چیختی چلاتی اپنے کرپٹ لیڈران کا تحفظ کرتی یہ عورتیں جب ذرا سا ان سا اونچا بولا جائے تو فور ا کہتی ہیں آپ کو عورتوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے یہ مذہب کی بھی آر لیتی ہے جبکہ ان کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں یہ نام کی مسلمان حقیقت میں اسلام مخالف یا جن چیزوں سے اسلام روکتا ہے یہ ہر جگہ مذہب کے خلاف ہر محاذ کو ڈیفنڈ کرتی نظر آتی ہے
 

Sar phra Dewanah

Councller (250+ posts)
پاکستان جیسا مادر پدر آزاد میڈیا پوری دنیا میں نہیں ملتا . میڈیا ایک بدمعاش اور بلیک میلر کا روپ دھار چکا ہے . سزا اور جزا کے بغیر اس بد معاش کو قابو کرنا نہایت مشکل ہو گا
 

Curious_Mind

MPA (400+ posts)
7sherazi.jpg


نجی ٹی وی چینل کی اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی کے بی بی سی میں لکھے گئے کالم کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، ٹویٹر پر صارفین نے عاصمہ شیرازی کے حق اور مخالفت میں ٹرینڈز چلادیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عاصمہ شیرازی نے بی بی سی اردو کیلئے ایک کالم لکھا جس میں وزیراعظم عمران خان اور انکی اہلیہ کا نام لئے بغیر ان پر ذاتی حملے کئے۔ عاصمہ شیرازی نے یہ کالم اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی شئیر کیا اور لکھا کہ اب کالے بکرے سرِ دار چڑھیں یا کبوتروں کا خون بہایا جائے، پُتلیاں لٹکائی جائیں یا سوئیاں چبھوئی جائیں، معیشت یوں سنبھلنے والی نہیں جبکہ معیشت کے تقاضے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

FCJ8oTdXEAYy9dN


عاصمہ شیرازی کی ٹویٹ کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے انہیں ٹویٹر پر آڑے ہاتھوں لیا، وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور عاصمہ شیرازی کے درمیان ٹویٹرآمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے سخت الفاظ میں تنقید کرتے رہے۔

اسی دوران ٹویٹرپر 2 ہیش ٹیگز " بائیکاٹ سرکار ہاجن" اور "عاصمہ شیرازی" ٹرینڈنگ لسٹ میں آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔ صارفین نے عاصمہ شیرازی کی جانب سے کالم میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ذاتی زندگی پر کیے گئے طنز کو شدید ناپسند کیا اور اس حرکت کی مذمت کی۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما میاں محمود الرشید نے کہا کہ پارٹی چئیرمین اور وزیراعظم عمران خان اور خاندان پر ذاتی حملے اور الزامات کی جانبدار صحافت کرنے پر آئندہ سے عاصمہ شیرازی کے شو کا حصہ نہیں بنوں گا۔


سوشل میڈیا صارفین عاصمہ شیرازی کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔کامران نے لکھا زاتی حملوں کے بعد جو پی ٹی آئی رہنما عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں جائے گا اس کے خلاف بھی مہم چلائی جائے گی۔


یاسر اقبال خان نے عاصمہ شیرازی کی 2 تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ہمارے پیسوں سے لوٹی رقم کو مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے صحافت میں خرچ کیے جانے کا چہرہ ہوتا تو ایسا ہوتا۔



ایک اور صارف نے کہا کہ اگر پیسے کیلئے کسی کی کردار کشی کرنے کا عمل ایک انسان ہوتا تو ایسا ہوتا۔



ایک صارف نے عاصمہ شیرازی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی زبان پاکستان کی حقیقی صحافت کی عکاسی نہیں کرتی آپ پاکستانی صحافت پر ایک کالا دھبہ ہیں۔



رانا غزہ علی خان نے ایک تصویر شیئر کی جس میں پاکستان کے نامور صحافیوں کی تصاویر شامل تھیں، انہوں نے کہا یہ سب پاکستان کے دشمن ہیں۔


وقاص اختر نے کہا کہ عاصمہ شیرازی نے ہمیشہ پارٹی کی صحافت کی ہے، وہ ہمیشہ مسلم لیگ کیلئے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر انہیں مسلم لیگ ن اتنی پسند ہے تو انہیں صحافت چھوڑ کر ان کا ترجمان بن جانا چاہیے۔


دوسری جانب عاصمہ شیرازی کے حمایتی ٹویٹر صارفین نے بھی ان کے حق میں ٹرینڈ چلایا اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والوں میں سینئر صحافی بھی شامل ہیں۔

صحافی و تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا میں عاصمہ شیرازی کے ساتھ ہوں۔


نجی ٹی وی چینل کے صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ عاصمہ شیرازی کے خلاف کابینہ ارکان کی جانب سے مہم شروع کرنا اور فیک اکاؤنٹس سے ٹرینڈ چلانا مسترد کرتے ہیں۔


شاہد قریشی نے عاصمہ شیرازی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں پاکستانی صحافت کا اصل چہرہ قرار دیا۔


منیزہ جہانگیر نے بھی عاصمہ شیرازی سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے۔

She Wanted attention and every PTI Member and Support have her the “Attention”

why PTI as a party and supporters specifically are so childish in the game of politics ?
They are always playing chasing game.
کسی نے شُرلی چھوڑ دی اور ہم ٹرک کی بَتّی کے پیچھے لگ گئے۔

the best policy for these Journalists is to totally ignore them. Their Lifafa Fepends on the amount of impact they create by their shows/ columns.

when nobody give a damn, they would be worthless for their masters/ sponsors
 

Sean

Politcal Worker (100+ posts)
حاجن کو سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیج دو۔۔۔۔پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔یا پھر سرکاری پلاٹ الاٹ کروا دو۔۔۔۔۔
 

Young_Blood

Minister (2k+ posts)
Imran Khan sahab simply iss aurat per hatak e izzat ka dawa ker dein, amount itna rakhein k iss ke 7 naslein poora na ker sakein, no maafi, raqam lein aur qoumi khazane mein jama kerwaein simple. again kisi qeemat per isse maafi na dijiay ga. aap k paas golden oppertunity hai in 2 number chatu kaar sahafio k liay example set karne ke.
 
Sponsored Link