وزیراعظم کی والدہ اور نانی کی تصویر وائرل

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)

Mother & Sister in 1979...
Wonder if "Fanboy Syndrome" was ever listed in the list of incurable mental ailments?
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
کوئی بے نظیر کی جوانی کی تصویر بھی نکال لو، تا کہ ان لوگوں کو موازنہ کرنے میں آسانی ہو۔ اگر ہو سکے تو اس کی ماں نصرت بھٹوّ کی بھی وائٹ ہاوٗس کی تصاویر گوگل سے نکالو اور یہاں لگاوٗ تا کہ لوگوں کو اصل اسلامی اقدار کی سمجھ تو آ سکے۔
میں یہاں خود سے یہ حرکت نہیں کر رہا ہوں کیونکہ،

جب سے کھلی ہے حقیقت پارساوٗں کی
ہمیں خود سے عقیدت ہو گئی ہے


ہاہاہا۔۔۔میں تو بلو تک ہی رہنا چاہ رہا تھا کہ اس کی مست اداوں والی تصاویر سے انٹر نیٹ بھرا پڑا ہے۔۔
آپ تو پیپلیوں کی قبروں تک جا پہنچے۔۔ 🤣 ۔۔
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
ہاہاہا۔۔۔میں تو بلو تک ہی رہنا چاہ رہا تھا کہ اس کی مست اداوں والی تصاویر سے انٹر نیٹ بھرا پڑا ہے۔۔
آپ تو پیپلیوں کی قبروں تک جا پہنچے۔۔ 🤣 ۔۔
نہیں بھائی، مقصد کسی کے دوپٹے سے اس کی پاکبازی یا انکساری کا تعیّن نہیں۔ میں نے جنرل رانی کی تصاویر دیکھی ہیں، آپ بھی دیکھ لو، اس سے زیادہ بہتر طریقے سے دوپٹّہ کسی نے سر پر نہیں رکھا ہوا۔

انسان کا کردار، اس کی سوچ اور اس کے اعمال، اس کی ظاہری شخصیت سے یکسر مختلف ہو سکتے ہیں۔

علاّمہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ، جن کے نام کے آگے ہم خوشی سے رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں، دونوں کی داڑھی نہیں تھی۔
لیکن ان دونوں نے اسلام کی جو خدمت کی، میرے خیال سے ایک سو مولوی مل کر نہیں کر سکتے تھے۔

مگر اسکا مطلب داڑھی یا دوپٹّے کی دل آزاری نہیں۔ بس لوگوں کو پرکھنے کے معیار کو ذرا فراست دینے کی ضرورت پر غور و خوض ہے۔

نہ تو دوپٹّہ لینے سے کوئی پاکباز یا نیک سیرت بن جاتا ہے اور نہ ہی ایلیٹ ہونا کوئی قابلِ گرفت گناہ یا کوئی تمسخر کی بات ہے۔ نہ ہی یہ کوئی معیار ہے کسی کو پرکھنے کا۔ اللہ نے کسی کو امیر بنایا، کسی کو غریب، یہ اس کی حکمت ہے۔ اس میں کسی کی ذاتیات یا شخصیت نہیں جھلکتی
 

Amatuka

Politcal Worker (100+ posts)
یہ کم و بیش انیس سو تیس پینتیس کی تصویر ہے اس دور میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے سر پر دوپٹا نہیں رکھا ہوا . اس دور کے لحاظ سے ایلیٹ کلاس بنتی ہے
Always look for some thing to criticize.

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

(النور، 24 : 31)

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔
مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔

https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2261/اسلام-میں-عورت-کے-پردے-کے-بارے-میں-کیا-احکام-ہیں/
Please apply Quran ayats exactly in the same way on NS and Zardari and all those you think are your leaders not only on their appearance but in their dealings too.
 

back to the future

Chief Minister (5k+ posts)
Insaan ju kuch krta hay
Jawani main jaisa bhi akra phirta hay aakhir main miti ka dher hay
Aur uskay amaal ka hisab insaanon nay nahin Allah tallah nay krna hay
 

نادان

Chief Minister (5k+ posts)

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

(النور، 24 : 31)

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔
مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔

https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2261/اسلام-میں-عورت-کے-پردے-کے-بارے-میں-کیا-احکام-ہیں/
قرآن کا ترجمہ لکھتے آپ کو بریکٹ میں اضافہ کی کیوں ضرورت پڑی ..آپ کو کیا ایسا لگا کہ الله اپنی بات ہمیں ٹھیک طرح سمجھا نہیں پا رہے ..اس لئے مولوی کے بریکٹ لگانے ضروری ہو گئے ..قرآن کو اگر سمجھنا ہے تو تمام پچھلے تعصبات باہر چھوڑ کر قرآن کا خالص ترجمہ پہلے پڑھیں ..جس میں کسی مولوی نے اپنی طرف سے بریکٹ میں اضافہ نہ کئے ہوں تو بات آپ کو بہتر سمجھ آئے گی .
اصل چیز حیا ہی ہے ..ورنہ سر پر دوپٹہ رکھے مریم صفدر صبح شام بے حساب جھوٹ بولتی ہے ..اور جھوٹ بولنے والے کے لئے دوزخ کی وعید ہے .
 

peaceandjustice

Minister (2k+ posts)
کوئی بے نظیر کی جوانی کی تصویر بھی نکال لو، تا کہ ان لوگوں کو موازنہ کرنے میں آسانی ہو۔ اگر ہو سکے تو اس کی ماں نصرت بھٹوّ کی بھی وائٹ ہاوٗس کی تصاویر گوگل سے نکالو اور یہاں لگاوٗ تا کہ لوگوں کو اصل اسلامی اقدار کی سمجھ تو آ سکے۔
میں یہاں خود سے یہ حرکت نہیں کر رہا ہوں کیونکہ،

جب سے کھلی ہے حقیقت پارساوٗں کی
ہمیں خود سے عقیدت ہو گئی ہے
جاہلوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں یہ وہ طبقہ ھے جو ھر بات کو منافقت،حسد، اور بغض کی عینک سے دیکھتے ہیں
 

Gul Khan2020

Councller (250+ posts)
فتنہ پردازوں کا اسلام دوپٹے، داڑھی اور اونچی شلوار تک محدود ہے، جو صرف مستحبات ہیں
اخلاقی پستی، کرپشن، لوٹ مار، جھوٹ، فریب، قومی مفادات پہ ڈاکہ تو ان کے ان فتنہ پردازوں کے نزدیک عین حلال ہے۔
در فٹے منہ تواڈے جمن تے
Meri taraf se b, dur phitty moun....😁
 

Gul Khan2020

Councller (250+ posts)
نہیں بھائی، مقصد کسی کے دوپٹے سے اس کی پاکبازی یا انکساری کا تعیّن نہیں۔ میں نے جنرل رانی کی تصاویر دیکھی ہیں، آپ بھی دیکھ لو، اس سے زیادہ بہتر طریقے سے دوپٹّہ کسی نے سر پر نہیں رکھا ہوا۔

انسان کا کردار، اس کی سوچ اور اس کے اعمال، اس کی ظاہری شخصیت سے یکسر مختلف ہو سکتے ہیں۔

علاّمہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ، جن کے نام کے آگے ہم خوشی سے رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں، دونوں کی داڑھی نہیں تھی۔
لیکن ان دونوں نے اسلام کی جو خدمت کی، میرے خیال سے ایک سو مولوی مل کر نہیں کر سکتے تھے۔


Very well said.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں