!!پاکستان اسٹیل ملز۔۔ یہ آگے بڑھنے کا وقت ہے

Musafir99

Voter (50+ posts)


حال ہی میں پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ کے ملز کو چلانے کے لیئے اقدامات کو جہاں بہت سے حلقوں سے پذیرائی حاصل ہوئی، وہاں چند حلقوں سے تنقید بھی کی گئی۔

یہ ادارہ سنہ ۲۰۰۸ سے خسارے کا شکار ہوا اور اسے سنہ ۲۰۱۵ میں ناقابل برداشت خسارے کی وجہ سے اپنی پیداوار کو مکمل طور بند کرنا پڑگیا۔ تب سے اب تک یہاں کی انتظامیہ حکومت سے قرضے لے کر یہاں کے ورکروں کی تنخواہیں ادا کر رہی ہے اور ایسے یہ ادارہ ملک کی صنعت کے لیئے ریڑھ کی ہڈّی کے جیسے سہارے کی بجائے عوام کے ٹیکس کے پیسے پر بوجھ بن کر رہ گیا۔

مگر یہاں کے غیّور ورکروں کو اس بات کا اندازہ بخوبی ہے کہ ملک اور قوم کے اس ٹیکس کے پیسے سے جو انکو مفت کی تنخواہ کے طور دیا جا رہا ہے، ملک میں بہت سے فلاحی اور ترقیّاتی کاموں میں صرف کیا جاسکتا تھا۔ جس سے ہمارے صحت، تعلیم، نفاذ قانون، دفاع، بنیادی ضروریات عامّہ کے منصوبے مثلاً ڈیم اور اسی طرح روزگار کے مواقع فراہم کرنے جیسی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جاسکتا تھا۔ کرونا کی وبا کے باعث کیئے گئے لاک ڈاوٗن میں جو غریب طبقہ متاثر ہوا، اسکی بہتر طریقے سے مدد کی جاسکتی تھی۔

اسٹیل ملز کی نجکاری اور یہاں پر فالتو ورکروں کی چھانٹی کے اقدام کے حامی ملازمین اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ یہ ایک کاروباری صنعت ہے اور اسے کاروباری اصولوں پر ہی چلایا جانا چاہیئے۔ اسکو ان سرکاری افسروں کے حوالے رکھنا جنکا ملز کے منافع سے زیادہ سیاسی دباوٗ اور عتاب سے بچنے پر دھیان ہوتا ہے، سرا سر غیر معقول بات ہے۔ اس کے نتائج اکثر بہت تباہ کن ہوتے ہیں، اور اسٹیل ملز کے یہ ورکر اس امر کے چشم دیدہ گواہ ہیں۔ لہٰذا اسٹیل ملز کی نجکاری کے نا صرٖف حامی ہیں بلکہ تہہ دل سے خواہاں بھی ہیں۔

حکومتی اقدامات کے مخالفین گروپ میں سے اس عمل کو روکنے کے لیئے آوازیں بلند کی جارہی ہیں کہ اس قومی ادارے کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کیا جائے۔ ان کے اس مطالبے کے جواب میں اسٹیل ملز کے ہی ایک ورکر نے کہا:
’’انکو ایسا کر لینے دیں اور سب سے پہلے اس بات کی تحقیقات کریں کہ کس قانون کے تحت یہاں ساڑھے چار ہزار سے زائد عارضی ملازمین کو مستقل کیا گیا؟ ان مخالفوں میں سے ننّانوے فیصد گھر بھیجے جائیں گے، اور جو باقی بچیں، انکی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کروا لیں‘‘

یہ بعیدالقیاس نہیں کہ اگر معاملہ احتساب اور تحقیقات کی طرف گیا تو صرف گزشتہ انتظامیہ ہی نہیں، بلکہ دور گزشتہ اور حاضر میں ان کے غلط اور غیر قانونی فیصلوں سے فائدہ اٹھانے والے تمام لوگوں کو اس عمل سے گزرنا پڑے گا اور اسکے اثرات بھی جھیلنا پڑیں گے۔

یہ بھی ناممکنات میں سے نہیں کہ دیکھا جائے کہ جب اسٹیل مل نقصان میں جا رہی تھی تو یہاں کی لیبر یونین کے ساتھ یہ پر تعیّش معاہدے کس نے کیئے جن کی رُو سے لیبر یونین کے ورکروں کو مفت بجلی اور مفت گیس کی مراعات دی گئیں؟ اور اس سب میں یہاں کے ورکروں کا فائدہ کہاں تھا؟

بہرحال، اسٹیل ملز کے ورکروں کی چھانٹی کے عمل کے بعد ہونے والی بیروزگاری کے سوال کے جواب میں انتظامیہ کے نمائندے نے کہا کہ:
’’یہ بظاہر ایک مشکل اور تکلیف دہ عمل لگتا ہے، لیکن جن لوگوں کی تعلیمی قبلیت اور ہُنر اصلی ہیں انکو فکر کی ضرورت نہیں۔ نجکاری کے بعد یہاں روزگار کے پہلے سے زیادہ مواقع پیدا ہونگے اور ان لوگوں کو پہلے سے بہتر تنخواہ اور مراعات حاصل ہونگی۔ اس عمل سے خوف صرف ان لوگوں کو ہے جنکی بھرتیاں سیاسی بنیاد پر کی گئیں، کیونکہ اس کے بعد انکو مفت کی تنخواہ لینے کا موقع شائد یہاں دوبارہ میّسر نہ ہوسکے‘‘۔

اسی پیرائے میں یہ بات بھی قابل غور رہی کہ یہاں کام کرنے والوں میں سے قریباً پچاس فیصد ملازم پچاس سے ساٹھ سال کی عمر کی حد میں ہیں۔ نجکاری کے عمل میں یہ پہلو اکثر سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، اور اسٹیل ملز کی حالت زار سے یہ ورکر بھی اپنی ریٹائرمنٹ پر ملنے والی رقومات کے بارے میں پریشان نظر آتے ہیں۔ یاد رہے، کہ مالی خسارے کی وجہ سے اسٹیل ملز سنہ ۲۰۱۳ کے بعد سے اب تک اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے واجبات دینے سے قاصر رہی ہے۔ یہ صرف اس حکومت کے اقدام کے تحت حال ہی میں ممکن ہوا اور انکو انکے واجبات سات برس کے بعد دی جارہی ہیں، وہ بھی قسطوں میں۔

ایسی صورتحال میں اگر پچاس سے ساٹھ سال کی عمر والے ملازمین کو ان کے واجبات ادا کر کے گھر بھیج بھی دیا جاتا ہے تو یہ اقدام ان کے لیئے کسی طور غیر موزوں نہیں گردانا جاسکتا۔ جبکہ دوسری طرف اس سے نجکاری کے عمل کو فروغ حاصل ہوگا اور باقی ماندہ ملازمین اور عوام کے لیئے اس کے اثرات مثبت طور مرتّب ہونگے۔

اس موقع پر اس بات کو خصوصی طور سراہا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی موجودہ انتظامیہ نے اپنی انتھک محنت کے باعث ورکروں کے سنہ ۲۰۱۳ سے نہ ملنے والے واجبات انھیں دلوائے اور وہ بھی اس وقت میں جب ملک پہلے ہی معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ جبکہ گزشتہ ادوار میں، جب حالات بھی ایسے نہ تھے، کسی نے بھی ان ملازمین کی آواز پر کان نہ دھرے۔

اس موقع پر اس بات کا بھی احاطہ کیا گیا کہ حکومت کے لیئے آئندہ اسٹیل ملز کے ملازمین کو قرضے کے پیسے سے تنخواہیں دیتے رہنا ممکن نہ ہوگا۔ لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ یہاں کے محنت کشوں کو بھی یہ بات نہ صرف نامناسب لگتی ہے بلکہ بہت حد تک ناگوار بھی گزرتی ہے۔ اسی بات پر ایک ملازم نے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اسطرح سے کیا:
’’ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بے کاری میں ملنے والی یہ تنخواہ ہمارے لیئے مبہم لعنت سے کم نہیں۔ ہم بے کار بیٹھ کر نہ صرف اپنے ہنر کو زنگ آلود کر رہے ہیں، بلکہ جو پیسہ حکومت ہماری تنخواہوں کے لیئے نکالتی ہے، اس کے بدلے اسے عوام پر ٹیکس بڑھانے پڑتے ہیں۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو ہماری تنخواہیں بڑھتی ہیں اور نہ ہی اوور ٹائم ملتا ہے۔ ہمارے اخراجات، مہنگائی کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں، اور ہماری تنخواہیں وہیں کھڑی رہتی ہیں جہاں ہم کھڑے ہیں۔ ایک مرتبہ ہمیں یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑے گا، کیونکہ یہ آگے جانے کا وقت ہے۔ کوئی بھی راحت کسی تکلیف کو جھیلے بنا حلال طور سے حاصل نہیں کی جاسکتی‘‘۔

معلوم ہوتا ہے کہ اسٹیل ملز کے اکثر ملازمین میں اس بات کا شعور اجاگر ہوچکا ہے کہ اس ادارے کو دائمی طور پر فعال بنانے کی اشہد ضرورت ہے اور یہ نجکاری کے عمل کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ بدلتی حکومتوں کے ساتھ بدلتی پالیسیاں اور بدلتے سیاسی مفاد کبھی بھی اس ادارے کے لیئے دور رس تتائج حاصل کرنے میں مددگار نہیں ہو سکتے۔ دیگر ازیں، اس ادارے کے فعال ہوئے بغیر ملک کی معیشت اور صنعت پر مثبت اثرات مرّتب کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہی ہے۔

ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا، ماضی کی غلطیوں میں ہی الجھے رہنے سے بہتر ہے۔
 
Advertisement

Nadir Bashir

Minister (2k+ posts)
Steel Mill have only one best solution.
Government must lease various units of steel mill to private sector.
In this way, Government will be able to generate some revenue otherwise same old situation will continue.
Supreme court will have to come forward to support Government in this issue.

Solution shall be made in way to satisfy the labor unions and after lease, all labor units must be demolished.

1. All employees of Steel Mill shall be offered Golden hand shake, if they do not want to continue work with new management taking control under lease.

2. All employees shall who want to continue work with steel mill shall be retired as of their age and shall be offered new contracts.

3. Government shall write off existing loans from the money earned by the lease.

4. If Sindh Government politicize steel mill lease process, it shall be handed over to Sindh Government.
 

Fawad Javed

Senator (1k+ posts)
Golden hand shake kay leay paisa kider say aye ga ?

and why give to Sindh government?

Steel Mill have only one best solution.
Government must lease various units of steel mill to private sector.
In this way, Government will be able to generate some revenue otherwise same old situation will continue.
Supreme court will have to come forward to support Government in this issue.

Solution shall be made in way to satisfy the labor unions and after lease, all labor units must be demolished.

1. All employees of Steel Mill shall be offered Golden hand shake, if they do not want to continue work with new management taking control under lease.

2. All employees shall who want to continue work with steel mill shall be retired as of their age and shall be offered new contracts.

3. Government shall write off existing loans from the money earned by the lease.

4. If Sindh Government politicize steel mill lease process, it shall be handed over to Sindh Government.
 

Musafir99

Voter (50+ posts)
Golden hand shake kay leay paisa kider say aye ga ?

and why give to Sindh government?
5.5 years tak baghair kaam k salaries li hain, saath hi saari perks and privileges, subsidized housing and utilities etc. Abhi bhi golden handshake chahiye?

But I think he means that if Sindh Govt is resisting too much, then the entity should be handed over to them, so that they should disperse the salaries from their own budget.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں