پاکستان عالمی مطالبات مانے جانے تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے، امریکا

263845_085421_updates.jpg


امریکا نے ایک بار پھر پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کردیا، وزیرخارجہ انٹونی بلکن نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل پر پاکستان سے تعلقات کا آئندہ ہفتوں میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا کہ افغانستان کے مستقبل میں واشنگٹن کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور پاکستان سے کیا توقعات رکھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پہلی بار ارکان کانگریس کے سوالوں کے جواب دییے، جس میں انہوں نے واضح کہا کہ جب تک افغان طالبان عالمی مطالبات پورے نہ کرے، خواتین کو حقوق نہ دے، پاکستان طالبان کو تسلیم نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے نکلنے کے خواہشمندوں کو جانے کی اجازت دینے، افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بننے کے وعدے کی پاسداری تک پاکستان نئی افغان حکومت تسلیم نہ کرے،افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے متعدد مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے مفادات سے اختلاف رکھتے ہیں،ان مفادات میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مستقل طور پر کوششیں کرنا ہے۔

انٹونی بلنکن نے کہا کہ طالبان کے ممبران کی پشت پناہی، امریکا کے انسداد دہشتگردی کے لیے تعاون ان مفادات میں شامل ہے، گذشتہ بیس سالوں کے دوران پاکستان نے جو کردار ادا کیا ، اور وہ کردار جو ہم آئندہ سالوں میں دیکھنا چاہتے ہیں،پاکستان کا افغانستان میں کردار رہا ہے،پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعاون بھی کیا اور ہمارے مفادات کے خلاف بھی رہا۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ افغانستان میں سفارتی مشن شروع کردیا ہے، طالبان نے کابل کی طرف تیز مارچ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی،افغانستان میں امریکی اہداف حاصل کر لیے گئے تھے، وقت آگیا تھا کہ امریکاکی طویل جنگ کا خاتمہ کیا جاتا، طالبان سے معاہدہ ہمیں پچھلی انتظامیہ سے ملا۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایوان نمائندگان کی کمیٹی کو بتایا کہ اشرف غنی کی حکومت کو بتایا تھا کہ افغانستان کا بھرپور دفاع کریں،اگر صدر جوبائیڈن نے افغانستان میں مسلح افواج کو تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا ہوتا تو خاص تعداد میں امریکی فوج کو افغانستان میں تعینات کرنا پڑتا، تاکہ اپنا دفاع کرنے کے ساتھ طالبان کی چڑھائی کو روکنے کا کام کیا جائے، جس کا مطلب مزید جانوں کا نقصان ہوتا۔

 
Advertisement

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
امریکہ کے اس مطالبے پر بہت ہنسی آرہی ہے۔ اتنا مجبور بھی کوی نہ ہو کہ پہلے فوجی چڑھای اور پتھر دور میں بھیجنے کی دھمکیاں، پھر نیٹو اور انڈیا جیسی پھدو طاقتوں کی مدد بھی لے لی اور ہمساے میں بیٹھے پاکستان اور چین کی مدد نہ لی
اب یہ حال کہ پہلے معاہدے پر عمل کرنے کے ترلے اور اب تسلیم نہ کرنے کے ترلے
پاکستان کو چاہئے کہ ان کو تسلی دے، پچکارے اور کہے کہ روتے کیوں ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں کوی خدمت ہو تو بتاو
 

atensari

President (40k+ posts)
پاکستان اور افغانستان کو ان کے باہمی معاملات خود نپٹانے دو​
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs خبریں