ڈس سیٹسفیکشن۔

jani1

Chief Minister (5k+ posts)

ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ مسافر اکثر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہے ” تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاﺅ کیا تم اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“ ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے‘ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔

آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘ آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا‘ سارا محلہ ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا‘ لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے‘ ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے
اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا‘ بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے۔

لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے‘ دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا‘ سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی‘ مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا‘ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا‘ ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا‘ بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔

سائیکل خوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا‘ گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی‘ کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے‘ گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا‘ وہ آدھی رات تک ”اوئے نویدے“ کی آواز پر دوڑ کر ممٹی پر
چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔

پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا‘ سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی‘ نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور
نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے“ تو وہ اس سے استرا یا تیل مانگ لیا کرتے تھے اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے۔

بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور یہ ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا‘ امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات
نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔

آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی‘ ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی‘ اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!۔آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے‘ آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جب کہ ہم اگر صرف
تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔

لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی‘ یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہو تی ہے‘ ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں‘ یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی اور ہم میں سے کچھ لوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہوتے‘ کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا! کیوں کہ یہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ ہے۔ان کے پیٹ‘ ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک" ڈس سیٹسفیکشن" ( Dissatisfaction) کی بیماری کا شکار ہیں اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن شکر کی کمی ہے‘ شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد ” عمل انگیز“ (کیٹالسٹ) ہے جو ہماری خوش حالی میں خوشی‘ ہماری اچیو منٹ میں اور ہماری کام یابی کو کام بناتا ہے‘ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔

ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس پچاس
کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ ہم چالیس پچاس لاکھ روپے سے لے کر دو‘ تین‘ چار کروڑ روپے کی گاڑی سے اتریں گے اور ساتھ ہی کہیں گے ”بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے“ چناں چہ مسافر کی آپ سے درخواست ہے‘ آپ ایک لمحے کے لیے اپنا بچپن یاد کریں‘ اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں‘آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ یقین کریں آپ کا شکر آپ کے آم میں رس پیدا کر دے گا ورنہ آپ کتنے ہی اچھے یا بڑے کیوں نہ ہوجائیں آپ صرف اچار بنانے کے کام ہی آ سکیں گے‘آپ ایک ادھوری‘ غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔اللہ پاک کی ذات ھم کو شکرگزار بندہ بنائے۔۔۔
آمین

فیس بک سے لی گئی راجا قدیر کی تحریر۔
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
مجھے کیوں لگا کہ اس قصے میں ان کا ذکر بھی ہے۔

images


1942230-nawazkulsoomwedding-1554209524.png


images

images


DrQIGLDX4AITB52.jpg


bb2.jpg


images


images


images


images
 
Last edited:

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
10000 % agree
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)

ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ مسافر اکثر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہے ” تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاﺅ کیا تم اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“ ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے‘ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔

آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘ آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا‘ سارا محلہ ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا‘ لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے‘ ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے
اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا‘ بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے۔

لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے‘ دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا‘ سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی‘ مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا‘ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا‘ ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا‘ بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔

سائیکل خوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا‘ گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی‘ کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے‘ گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا‘ وہ آدھی رات تک ”اوئے نویدے“ کی آواز پر دوڑ کر ممٹی پر
چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔

پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا‘ سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی‘ نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور
نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے“ تو وہ اس سے استرا یا تیل مانگ لیا کرتے تھے اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے۔

بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور یہ ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا‘ امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات
نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔

آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی‘ ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی‘ اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!۔آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے‘ آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جب کہ ہم اگر صرف
تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔

لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی‘ یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہو تی ہے‘ ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں‘ یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی اور ہم میں سے کچھ لوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہوتے‘ کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا! کیوں کہ یہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ ہے۔ان کے پیٹ‘ ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک" ڈس سیٹسفیکشن" ( Dissatisfaction) کی بیماری کا شکار ہیں اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن شکر کی کمی ہے‘ شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد ” عمل انگیز“ (کیٹالسٹ) ہے جو ہماری خوش حالی میں خوشی‘ ہماری اچیو منٹ میں اور ہماری کام یابی کو کام بناتا ہے‘ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔

ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس پچاس
کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ ہم چالیس پچاس لاکھ روپے سے لے کر دو‘ تین‘ چار کروڑ روپے کی گاڑی سے اتریں گے اور ساتھ ہی کہیں گے ”بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے“ چناں چہ مسافر کی آپ سے درخواست ہے‘ آپ ایک لمحے کے لیے اپنا بچپن یاد کریں‘ اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں‘آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ یقین کریں آپ کا شکر آپ کے آم میں رس پیدا کر دے گا ورنہ آپ کتنے ہی اچھے یا بڑے کیوں نہ ہوجائیں آپ صرف اچار بنانے کے کام ہی آ سکیں گے‘آپ ایک ادھوری‘ غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔اللہ پاک کی ذات ھم کو شکرگزار بندہ بنائے۔۔۔
آمین

فیس بک سے لی گئی راجا قدیر کی تحریر۔
خیر یہ تصویر کا ایک رخ ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے والدین ہم سے بہتر زندگی گذار گئے ہیں انکے وقتوں میں بھلے پیسے کم تھے مگر آپس میں پیار ومحبت تھا دین سے اس قدر دوری نہیں تھی لوگ ایکدوسرے سے اس طرح دور نہیں تھے جب آپکے گھر کوئی مہمان آتا تھا تو وہ لوگوں کو زحمت نہیں رحمت لگتا تھا ہمارے گھر میں جو دستر خون ہوتا تھا اس پہ یہ شعر لکھا ہوتا تھا کہ
شکر کا موقع ہے کچھ تہمت نہ کر مہمان پر
رزق اپنا کھاتا ہے یہ تیرے دستر خوان پر
لوگوں میں پیسے کی اتنی لالچ نہیں تھی رشوت اتنی عام نہیں تھی جو رشوت خور تھا اسکا کہیں رشتہ نہیں ہوتا تھا چھوٹے بڑے کا لحاظ تھا محلے کے بڑے لڑکے جو سگریٹ پیتے تھے اگر کسی بزرگ کو دیکھ لیتے تھے تو فوراً سگریٹ پھینک دیتے تھے یا پھر چھپا لیتے تھے اور تو اور فلمیں بھی حیاء دار ہوتی تھیں اگر کسی فلم میں لڑکی لڑکے کے ملاپ کا ہوتا تو کبوتروں کا جوڑا دکھاتے تھے جو چونچیں ملا رہے ہوتے یا انکا فوٹو ہوتا تھا اگر ہیرو ہیروئیں کا ہاتھ پکڑ لیتا تو وہ کہتی کہ ہائے مار سُٹےآ ای ظالماں آج کے زمانے کی علتیں نہیں تھیں یہ بے شرمی جو آج ہے عنقاء تھی غرض کیا کیا لکھوں بہرحال آپکی اپنی سوچ ہے ہمیں تو پرانی یادیں نہیں چھوڑتیں

سانوں کلیاں ویکھ کے آیاں یاداں تیریاں
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
خیر یہ تصویر کا ایک رخ ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے والدین ہم سے بہتر زندگی گذار گئے ہیں انکے وقتوں میں بھلے پیسے کم تھے مگر آپس میں پیار ومحبت تھا دین سے اس قدر دوری نہیں تھی لوگ ایکدوسرے سے اس طرح دور نہیں تھے جب آپکے گھر کوئی مہمان آتا تھا تو وہ لوگوں کو زحمت نہیں رحمت لگتا تھا ہمارے گھر میں جو دستر خون ہوتا تھا اس پہ یہ شعر لکھا ہوتا تھا کہ
شکر کا موقع ہے کچھ تہمت نہ کر مہمان پر
رزق اپنا کھاتا ہے یہ تیرے دستر خوان پر
لوگوں میں پیسے کی اتنی لالچ نہیں تھی رشوت اتنی عام نہیں تھی جو رشوت خور تھا اسکا کہیں رشتہ نہیں ہوتا تھا چھوٹے بڑے کا لحاظ تھا محلے کے بڑے لڑکے جو سگریٹ پیتے تھے اگر کسی بزرگ کو دیکھ لیتے تھے تو فوراً سگریٹ پھینک دیتے تھے یا پھر چھپا لیتے تھے اور تو اور فلمیں بھی حیاء دار ہوتی تھیں اگر کسی فلم میں لڑکی لڑکے کے ملاپ کا ہوتا تو کبوتروں کا جوڑا دکھاتے تھے جو چونچیں ملا رہے ہوتے یا انکا فوٹو ہوتا تھا اگر ہیرو ہیروئیں کا ہاتھ پکڑ لیتا تو وہ کہتی کہ ہائے مار سُٹےآ ای ظالماں آج کے زمانے کی علتیں نہیں تھیں یہ بے شرمی جو آج ہے عنقاء تھی غرض کیا کیا لکھوں بہرحال آپکی اپنی سوچ ہے ہمیں تو پرانی یادیں نہیں چھوڑتیں


سانوں کلیاں ویکھ کے آیاں یاداں تیریاں
جناب اعلی، آپکا خوبصورت تبصرہ اپنی جگہ درست ہے۔۔
مگر، شاید آپ پوسٹ کے آخر میں لنک پرھ نہ سکے۔۔
یہ میری نہیں بلکہ فیس بک سے کسی کی تحریر یہاں نقل کی گئی ہے۔۔ بس۔۔

میری رائے میں ہر حال میں شکر سے آدمی کو سکون ملتا ہے، چاہے وہ امیری ہو یا غریبی۔

ہاں، آدمی کی عورت کا کچھ کہہ نہیں سکتے۔😊۔۔
 
Last edited:

taban

Chief Minister (5k+ posts)
جناب اعلی، آپکا خوبصورت تبصرہ اپنی جگہ درست ہے۔۔
مگر، شاید آپ پوسٹ کے آخر میں لنک پرھ نہ سکے۔۔
یہ میری نہیں بلکہ فیس بک سے کسی کی تحریر یہاں نقل کی گئی ہے۔۔ بس۔۔

میری رائے میں ہر حال میں شکر سے آدمی کو سکون ملتا ہے، چاہے وہ امیری ہو یا غریبی۔
ہاں، آدمی کی عورت کا کچھ نہیں کہہ سکتے۔😊۔۔
نہیں نہیں خدانخواستہ اختلاف نہیں کیا بس اپنے کرب کا اظہار کیا ہے
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
نہیں نہیں خدانخواستہ اختلاف نہیں کیا بس اپنے کرب کا اظہار کیا ہے
جی جناب۔۔۔ میں آپ سے متفق ہوں۔۔
اوپر والی پوسٹ میں بس آپکو اطلاع دی کہ یہ تحریر کسی اور کی ہے
 

newday

Councller (250+ posts)
Being grateful and thankful makes you happy just as a survey conducted by someone somewhere stated that they noticed that in any competition the one who gets the bronze or third is the most happiest person then the other 2 , the one who wins thinks he deserves to win , the one who is second the most unhappiest person as missed by a slight margin. But the one who is third is happy to have won something. so concluding that being grateful makes you happy.
 

Tit4Tat

Minister (2k+ posts)
Jani full agreed with this para of yours, I have noticed this the same, apart from few, nobody is happy in their jobs/businesses, and most will look to other person they 'know' with the wish that kash mera wuh business hota, ya main yeh chord kar kuch aur karna chahta hun, we all think that the other person is happier and richer than us

Basically, we are not content, like you said. Whoever is content, sleeps and lives much better emotionally.

But its also a fact that as world advanced a lot lately, money has become more important than ever to have, simply because there are so many things we want, designer clothes, braded stuff, new mobile, dinning out, kids expensive wishes, so on and so on

So no way out !










لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔



فیس بک سے لی گئی راجا قدیر کی تحریر۔
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
Being grateful and thankful makes you happy just as a survey conducted by someone somewhere stated that they noticed that in any competition the one who gets the bronze or third is the most happiest person then the other 2 , the one who wins thinks he deserves to win , the one who is second the most unhappiest person as missed by a slight margin. But the one who is third is happy to have won something. so concluding that being grateful makes you happy.
میری رائے میں ہر حال میں شکر سے آدمی کو سکون ملتا ہے، چاہے وہ امیری ہو یا غریبی۔
 

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)

ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ مسافر اکثر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہے ” تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاﺅ کیا تم اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“ ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے‘ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔

آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘ آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا‘ سارا محلہ ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا‘ لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے‘ ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے
اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا‘ بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے۔

لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے‘ دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا‘ سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی‘ مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا‘ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا‘ ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا‘ بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔

سائیکل خوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا‘ گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی‘ کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے‘ گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا‘ وہ آدھی رات تک ”اوئے نویدے“ کی آواز پر دوڑ کر ممٹی پر
چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔

پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا‘ سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی‘ نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور
نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے“ تو وہ اس سے استرا یا تیل مانگ لیا کرتے تھے اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے۔

بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور یہ ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا‘ امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات
نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔

آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی‘ ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی‘ اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!۔آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے‘ آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جب کہ ہم اگر صرف
تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔

لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی‘ یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہو تی ہے‘ ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں‘ یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی اور ہم میں سے کچھ لوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہوتے‘ کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا! کیوں کہ یہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ ہے۔ان کے پیٹ‘ ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک" ڈس سیٹسفیکشن" ( Dissatisfaction) کی بیماری کا شکار ہیں اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن شکر کی کمی ہے‘ شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد ” عمل انگیز“ (کیٹالسٹ) ہے جو ہماری خوش حالی میں خوشی‘ ہماری اچیو منٹ میں اور ہماری کام یابی کو کام بناتا ہے‘ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔

ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس پچاس
کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ ہم چالیس پچاس لاکھ روپے سے لے کر دو‘ تین‘ چار کروڑ روپے کی گاڑی سے اتریں گے اور ساتھ ہی کہیں گے ”بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے“ چناں چہ مسافر کی آپ سے درخواست ہے‘ آپ ایک لمحے کے لیے اپنا بچپن یاد کریں‘ اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں‘آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ یقین کریں آپ کا شکر آپ کے آم میں رس پیدا کر دے گا ورنہ آپ کتنے ہی اچھے یا بڑے کیوں نہ ہوجائیں آپ صرف اچار بنانے کے کام ہی آ سکیں گے‘آپ ایک ادھوری‘ غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔اللہ پاک کی ذات ھم کو شکرگزار بندہ بنائے۔۔۔
آمین

فیس بک سے لی گئی راجا قدیر کی تحریر۔
شکر اور اطمینان والی بات درست ہو مگر انسان جلد باز ،لکنود اور نعمت کا انکار کرنےوالا ہے، صبر اور توکل اسکا علاج ہے،،، یا خود یا آخرت کی پہچان ، اطمینان بھبی ا یک نعمت اور دین ہے ۔۔

ہان ترقی کا سفر تیس چالیس سال پہلے شروع ہونا درست نہیں موجودہ ترقی اور تبدیلی کا سفر آزادی کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا ۔ پہلے دو عشروں میں ترقی کی شرح قدرے زیادہ رھی۔ مگر ایک حد آسودگی میں پہنچنے میں وقت لگتا ہے ۔ یہ بات فی فرد کنزمپشن اور ایگری پروڈکشن سے دیکھی جاسکتی ہے ۔
 
Last edited:

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
جو رشوت خور تھا اسکا کہیں رشتہ نہیں ہوتا تھا چھوٹے بڑے کا لحاظ تھا محلے کے بڑے لڑکے جو سگریٹ پیتے تھے اگر کسی بزرگ کو دیکھ لیتے تھے تو فوراً سگریٹ پھینک دیتے تھے

تقریبا یہ حال تھا۔۔پورا علاقہ ایک دوسرے کو جانتا تھا۔۔۔ ۔۔

248485040_2094800377325384_6297565564860481359_n.jpg
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)

میری رائے میں ہر حال میں شکر سے آدمی کو سکون ملتا ہے، چاہے وہ امیری ہو یا غریبی۔

شکر ادا نہ کرنے والی بات درست ہے

لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ شکر کیسے ادا کرنا ہے

قرآن کے مطابق تم الله کی نعمتوں کو گن نہیں سکتے ، تو پھر ان گنت نعمتوں کا انسان شکر کیسے ادا کرے ؟
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)

شکر ادا نہ کرنے والی بات درست ہے

لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ شکر کیسے ادا کرنا ہے

قرآن کے مطابق تم الله کی نعمتوں کو گن نہیں سکتے ، تو پھر ان گنت نعمتوں کا انسان شکر کیسے ادا کرے ؟
آسان۔۔۔۔ الحمدُ للّٰہ پڑھ کر۔۔۔کتنا آسان دین ہے اللّٰہ کا ۔ سبحان اللّٰہ۔۔
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)

اچھا تو وہ جو نعمتوں کی پوچھ ہونی ہے اس کا کیا ؟
بندہ خود ہی شیطان کی چالوں میں آئے ، اور یہاں وہاں کی ہانک کر مشکل میں پڑے۔ یہ اور بات ہے۔

اللہ نے آسان فرمایا ہے اس دین کو،۔
آسان الفاظ میں شکر ادا کرنے پر پابندی نہیں۔۔
دعا یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ۔۔
اے اللہ میں تیری ساری نعمتوں کا شکر گزار ہوں، چاہے وہ میں گن سکوں یا نہیں،، چاہے میں ان سے واقف ہوں یا نہیں۔۔ وغیرہ۔۔
 
Last edited:
Sponsored Link