کراچی میں طلباء نے نقل کرنا چھوڑ دی؟ہزاروں طلباء میں سے صرف نقل کا ایک کیس

exams-karachi.jpg


ایکسپریس نیوز کے مطابق اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے جاری کیے جانے والے انٹرمیڈیٹ سال 2021 کے نتائج والے گزٹ میں نقل یا means unfair کے کیسز کے جو اعداد و شمار پیش کیے جارہے ہیں اس کے مطابق انٹر سال دوئم پری میڈیکل کے امتحانات میں شریک ہونے والے 22 ہزار طلبا میں سے صرف ایک امیدوار نقل کی ہے۔

بورڈ کے گزٹ میں موجود اس تفصیل کو دیکھنے کے بعد تعلیمی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ کیا کورونا کے بعد پہلی بار منعقدہ امتحانات میں انٹر کی سطح پر امیدواروں نے نقل ترک کردی ہے اور گھر بیٹھے امیدواروں نے مکمل طور پر اپنی ذہانت سے امتحان دیا ہے یا بورڈ کی ویجیلنس ٹیمیں نقل کرنے یا ناجائز ذرائع سے پرچے حل کرنے والے امیدواروں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہیں۔

ایک کالج پرنسپل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب واٹس ایپ پر پرچے آؤٹ ہونے کی خبریں گردش کررہی ہوں ایسے میں اس کام میں ملوث امیدوار کیا کمرہ امتحان میں اپنی ذہانت سے پرچے حل کریں گے؟

یاد رہے کہ سائنس پری میڈیکل کے امتحانات میں 22 ہزار 219 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی جبکہ 21 ہزار 950 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے اور ان میں سے 20ہزار 637 امیدوار کامیاب قرار پائے اور امسال کامیابی کا تناسب 94.02 فیصد رہا ہے۔

اس پہلے طلباء کے پورے نمبرز لینے کی خبر سامنے آئی تھی۔

 
Advertisement

Behrouz27

Minister (2k+ posts)
exams-karachi.jpg


ایکسپریس نیوز کے مطابق اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے جاری کیے جانے والے انٹرمیڈیٹ سال 2021 کے نتائج والے گزٹ میں نقل یا means unfair کے کیسز کے جو اعداد و شمار پیش کیے جارہے ہیں اس کے مطابق انٹر سال دوئم پری میڈیکل کے امتحانات میں شریک ہونے والے 22 ہزار طلبا میں سے صرف ایک امیدوار نقل کی ہے۔

بورڈ کے گزٹ میں موجود اس تفصیل کو دیکھنے کے بعد تعلیمی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ کیا کورونا کے بعد پہلی بار منعقدہ امتحانات میں انٹر کی سطح پر امیدواروں نے نقل ترک کردی ہے اور گھر بیٹھے امیدواروں نے مکمل طور پر اپنی ذہانت سے امتحان دیا ہے یا بورڈ کی ویجیلنس ٹیمیں نقل کرنے یا ناجائز ذرائع سے پرچے حل کرنے والے امیدواروں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہیں۔

ایک کالج پرنسپل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب واٹس ایپ پر پرچے آؤٹ ہونے کی خبریں گردش کررہی ہوں ایسے میں اس کام میں ملوث امیدوار کیا کمرہ امتحان میں اپنی ذہانت سے پرچے حل کریں گے؟

یاد رہے کہ سائنس پری میڈیکل کے امتحانات میں 22 ہزار 219 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی جبکہ 21 ہزار 950 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے اور ان میں سے 20ہزار 637 امیدوار کامیاب قرار پائے اور امسال کامیابی کا تناسب 94.02 فیصد رہا ہے۔

اس پہلے طلباء کے پورے نمبرز لینے کی خبر سامنے آئی تھی۔

اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کو 22 ہزار نے نقل کی اور صرف ایک نے نہیں کی
 
Sponsored Link