کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد، پولیس کی فوری کارروائی ،ملزم میاں بیوی گرفتار

lahore-case-tsd-abuse.jpg


کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد، پولیس رسپانس یونٹ کی فوری کارروائی، ملزم میاں بیوی گرفتار

پولیس رسپانس یونٹ نے گھریلو ملازمہ پر بیہمانہ تشدد کرنے والے میاں بیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اقبال ٹائون کے گھر میں ایک گھریلو ملازمہ کمسن بچی فاطمہ پر بیہمانہ تشدد کے حوالے سے ون فائیو پر موصول ہونے والی شکایت پر اقبال ٹائون پولیس اور پولیس رسپانس یونٹ نے کارروائی کی۔ پولیس رسپانس یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے گھریلو ملازمہ کمسن بچی فاطمہ پر بیہمانہ تشدد کرنے والے میاں بیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مالکان کے بیہمانہ تشدد سے گھریلو ملازمہ کمسن بچی فاطمہ کا ہاتھ فریکچر ہو گیا جبکہ بچی کی گردن پر بھی زخم کے نشانات پائے گئے ہیں۔ پولیس رسپانس یونٹ نے اقبال ٹائون راوی بلاک میں ون فائیو پر موصول کال پر کارروائی کرتے ہوئے تشدد کا شکار ہونے والی کمسن بچی فاطمہ کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔

پولیس رسپانس یونٹ ٹیم نے کارروائی میں بچی پر تشدد کے ملزمان علی فرحان اور اس کی بیوی صبا کو پکڑ کر تھانہ اقبال ٹائون پولیس کے حوالے کر دیا ہے جبکہ علی فرحان اور اس کی بیوی کے بیہمانہ تشدد کا شکار ہونے والی کمسن ملازمہ فاطمہ کو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اقبال ٹائون ڈاکٹر عمارہ شیرازی کی حفاظتی تحویل میں دے دیا ہے۔

بیہمانہ تشدد کا شکار بننے والی کمسن گھریلو ملازمہ فاطمہ کو طبی معائنہ کرنے اور علاج معالجے کی غرض سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈولفن عثمان طارق نے پولیس ٹیم کو فوری کارروائی کرنے پر شاباش دی اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اقبال ٹائون ڈاکٹر عمارہ شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں پر تشدد اور ہراساں کرنے والے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں، سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
 

Tyrion Lannister

Chief Minister (5k+ posts)
Our society is a one big mental ward. Lack of law, inferiority complexity and blocking every healthy entertainment on name of religion has turned pakistan into a mental asylum
 

sok

MPA (400+ posts)
Well done but what sad affairs when you are getting medals formerly performing your duty
 
Sponsored Link