کیا واقعی حکومت کا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا؟حقیقت سامنے آگئی

fact-check111.jpg

حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

گزشتہ روز مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ پاکستان اور آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے لیکن آئی ایم ایف ترجمان نے اسکی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی حکومت سے ابھی مذاکرات جاری ہیں۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات یا کسی معاہدہ سے متعلق سرکاری سطح پر فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا، مفتاح اسماعیل اور دیگر حکومتی شخصیات کے ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی خاموش ہیں۔ یہ خبریں گزشتہ روز ذرائع کے حوالےسے چلائی گئیں۔


ترجمان آئی ایم ایف ایستھرپیریز کے مطابق پاکستانی حکومت سے ابھی مذاکرات جاری ہیں اور اگلے بجٹ کے حوالے سےاہم پیش رفت ہوچکی ہے۔اگلے سال کے دوران میکرو اکنامک استحکام بہتر کرنے کی پالیسیوں پر مذاکرات جاری ہیں۔

دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی اور عمران خان حکومت کی سبسڈی کو قرار دیا ہے۔

اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے مفتاح اسماعیل کاکہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمیشہ کہا ہے آئی ایم ایف پروگرام اور ایندھن کی سبسڈی ایک ساتھ نہیں رکھ سکتے۔
 
Advertisement

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Inho ne conditions tu sab maan li hain..IMF ka officials bayan jald aa jaya ga...Need is baat ki ha ke IMF ki tamam conditions ko public m ana chahay...
IMF in ki cho..t chalakio se waqaf ha.is lia pori tasali kar rahi ha..
 

vicahmed99

Minister (2k+ posts)
Idher tau inka bhagna parta they...................Bhag Bhag Bh*** key bhaaag


Raja Rawal where are you???
A little while ago you were very high and disseminating this false news... keh IMF sey khairaat kaa muahidah ho gaya hai.




آ جا مورے بالما جتیاں نوں تیرا انتظار اے



Angry Shoes GIF by The Sultan


 

Resilient

Minister (2k+ posts)
fact-check111.jpg

حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

گزشتہ روز مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ پاکستان اور آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے لیکن آئی ایم ایف ترجمان نے اسکی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی حکومت سے ابھی مذاکرات جاری ہیں۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات یا کسی معاہدہ سے متعلق سرکاری سطح پر فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا، مفتاح اسماعیل اور دیگر حکومتی شخصیات کے ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی خاموش ہیں۔ یہ خبریں گزشتہ روز ذرائع کے حوالےسے چلائی گئیں۔


ترجمان آئی ایم ایف ایستھرپیریز کے مطابق پاکستانی حکومت سے ابھی مذاکرات جاری ہیں اور اگلے بجٹ کے حوالے سےاہم پیش رفت ہوچکی ہے۔اگلے سال کے دوران میکرو اکنامک استحکام بہتر کرنے کی پالیسیوں پر مذاکرات جاری ہیں۔

دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی اور عمران خان حکومت کی سبسڈی کو قرار دیا ہے۔

اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے مفتاح اسماعیل کاکہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمیشہ کہا ہے آئی ایم ایف پروگرام اور ایندھن کی سبسڈی ایک ساتھ نہیں رکھ سکتے۔

FV2E1eMWIAECZg9
 
Sponsored Link