ہائبرڈوارفیئراورماحولیات بھی قومی سلامتی پالیسی میں شامل،اہم نکات سامنےآگئے

7%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DB%81%D9%86%D8%B3%D8%B9%DA%86%D9%86%D8%A6%DA%A9%D8%A7%D8%AA.jpg

سو سے زائد صفحات پر قومی سلامتی پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان 50 صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا 14 جنوری کو اجراء کرینگے۔

پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پہلی بار جامع پالیسی تیار کی گئی، سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی۔ نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔ اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی۔

ذرائع کے مطابق کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا، مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے، ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا، ملکی وسائل کو بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے، بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ پالیسی پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن آمادہ ہو گیا۔


ذرائع کے مطابق ہر مہینے حکومت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ فوڈ اور صنفی امتیاز ہیومن سیکیورٹی کے اہم عنصر ہے ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد حکومت کو معاملات آگے بڑھانے کا اختیار کی بھی تجویز ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام ،فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق پالیسی میں دو سے زائد ایکشن وضع کئے گئے، پالیسی ایکشن کا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی کا بنیادی نقطہ ہو گا۔
 
Advertisement
Sponsored Link