Nawaz Shareef Speech in APC

nawaz.sharif

MPA (400+ posts)
Disable Ads
No



نواز شریف کا اے پی سی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں وطن سے دور ہوتے ہوئے جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن مشکلات سے دوچار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس اے پی سی کو فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں، ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصلحت چھوڑ کر فیصلے کریں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہمیشہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کا نظام وہ لوگ چلائیں جنہیں لوگ ووٹ کے ذریعے حق دیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے، جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے، انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے، کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ پاکستان کو ایسے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے، اگر کوئی حکومت بن بھی گئی تو اسے پہلے بے اثر پھر فارغ کر دیا جاتا ہے، بچے بچے کی زبان پر ہے کہ ایک بار بھی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں اور جیلوں میں ہیں لیکن کیا کبھی کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟

انہوں نے مزید کہا کہ ڈکٹیٹر کو بڑے سے بڑے جرم پر کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا، کیا کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟ ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا خصوصی عدالت بنی،کارروائی ہوئی، سزا سنائی گئی لیکن کیا ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ ووٹ سے بنا وزیراعظم کوئی قتل، کوئی پھانسی اور کوئی غدار قرار دیا گیا، منتخب وزیراعظم کی سزا ختم ہونے کو آہی نہیں رہی، یہ سزا عوام کو مل رہی ہے۔

قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ یہاں مارشل لاء ہوتا ہے یا متوازی حکومت قائم ہو جاتی ہے، یوسف رضا گیلانی نے ایک بار کہا تھا کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے، لیکن معاملہ ریاست کے اندر سے نکل کر ریاست کے اوپر چلا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں ہماری ساکھ ختم ہو کر رہ گئی ہے، نتائج تبدیل نا کیے جاتے تو بے ساکھی پر کھڑی یہ حکومت وجود میں نہ آتی، انتخابات ہائی جیک کرنا آئین شکنی ہے، عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا سنگین جرم ہے۔

نواز شریف نے سوال کیا کہ 2018 کے عام انتخابات میں گھنٹوں آر ٹی ایس کیوں بند رہا؟ انتخابات میں دھاندلی کس کے کہنے پر کی گئی؟ اس کا سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری کو جواب دینا ہو گا، جو دھاندلی کے ذمہ دار ہیں انہیں حساب دینا ہو گا۔

کُل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور مریم نواز سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔


 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Moula Jutt

Minister (2k+ posts)
جھوٹے مکاروں۔لٹیروں۔لوگوں گمراہ کرنے والے ۔ملک دشمنوں پر اللہ کی لعنت۔۔
اور دعا ہے اللہ تعالی ان کے جاہل۔اگنورنٹ۔ فالورز کو ہدایت دے ان کی حالت پر رحم کرے۔اور ان کس گمراہی کے راستے سے نجات دے۔
 

yaar 20

Politcal Worker (100+ posts)
حرامزادے بانگڑو تو آج آپنے فلیٹس اور جائیداد کی رسیدیں دکھا دیے تو میں تیرے ایک ایک حرف پریقین لے آؤں گا۔ کتے کے بچے اگر یہ نہیں کر سکتا تو اپنی بیٹی سمیت یہاں سے وھیں دفع ہو جاؤ جہاں تمہاری جائیدادیں ہیں
 
Last edited:

Kam

Councller (250+ posts)
State can have a lesson for its consistant compromise with the corrupt people from this speech........................Pakistani state has been put to trial.....................

All indian narrative is being spread, same will be used by indian diplomats................A planned conference before UN General Assembly session.....................
 

Kam

Councller (250+ posts)
Another Mujeeb u Rehman (urf bhola Pahlwan Nazu Lohar)............

Is gashti k bachy ko phansi do......................
 

Moula Jutt

Minister (2k+ posts)
اس ہٹے کٹے لوہار کو دیکھ کر آج پٹواریوں کو گٹروں میں ڈوب کر مر جانا چاہئے۔ جو ان کو چوتیا بنا رہا تھا کہ بیمار ہے ۔
ویسے کیا زندگی ہے اس مخلوق کی جن کو صرف صدقے۔اور بلی کیلئے رکھا ہوا ہے۔
اب اس بھڑوے جج میں ذرا بھی حیا ہو تو اس کو خودکشی کر لینی چاہئے جو اس کی منگل تک نہ مرنے کی حکومت سے گارنٹی مانگ رھا تھا ۔
آج اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے پاکستان کو ان جیسے ڈرامہ باز بذدل ملک دشمن غداروں سے نجات ملی ھے۔ اور پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
 

The Sane

Senator (1k+ posts)



نواز شریف کا اے پی سی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں وطن سے دور ہوتے ہوئے جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن مشکلات سے دوچار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس اے پی سی کو فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں، ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصلحت چھوڑ کر فیصلے کریں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہمیشہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کا نظام وہ لوگ چلائیں جنہیں لوگ ووٹ کے ذریعے حق دیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے، جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے، انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے، کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ پاکستان کو ایسے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے، اگر کوئی حکومت بن بھی گئی تو اسے پہلے بے اثر پھر فارغ کر دیا جاتا ہے، بچے بچے کی زبان پر ہے کہ ایک بار بھی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں اور جیلوں میں ہیں لیکن کیا کبھی کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟

انہوں نے مزید کہا کہ ڈکٹیٹر کو بڑے سے بڑے جرم پر کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا، کیا کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟ ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا خصوصی عدالت بنی،کارروائی ہوئی، سزا سنائی گئی لیکن کیا ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ ووٹ سے بنا وزیراعظم کوئی قتل، کوئی پھانسی اور کوئی غدار قرار دیا گیا، منتخب وزیراعظم کی سزا ختم ہونے کو آہی نہیں رہی، یہ سزا عوام کو مل رہی ہے۔

قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ یہاں مارشل لاء ہوتا ہے یا متوازی حکومت قائم ہو جاتی ہے، یوسف رضا گیلانی نے ایک بار کہا تھا کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے، لیکن معاملہ ریاست کے اندر سے نکل کر ریاست کے اوپر چلا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں ہماری ساکھ ختم ہو کر رہ گئی ہے، نتائج تبدیل نا کیے جاتے تو بے ساکھی پر کھڑی یہ حکومت وجود میں نہ آتی، انتخابات ہائی جیک کرنا آئین شکنی ہے، عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا سنگین جرم ہے۔

نواز شریف نے سوال کیا کہ 2018 کے عام انتخابات میں گھنٹوں آر ٹی ایس کیوں بند رہا؟ انتخابات میں دھاندلی کس کے کہنے پر کی گئی؟ اس کا سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری کو جواب دینا ہو گا، جو دھاندلی کے ذمہ دار ہیں انہیں حساب دینا ہو گا۔

کُل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور مریم نواز سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔


اسلام آباد کے دلالی چیف جسٹس کو آج اس حرام خور کی صحت کی گارنٹی یقیناً مل گئی ہو گے۔
ان دونوں کو چوک میں ننگا کر کے ۱۰۰ ۱۰۰ جوتے مارنے چاہیے۔
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں