آکوس معاہدہ پر لڑائی میں تیزی،فرانس کاامریکہ اور آسٹریلیا کے خلاف بڑا اقدام

8.jpg

روایتی آبدوز ڈیل (آکوس معاہدہ) کے تنازع پر فرانس نے امریکا اور آسٹریلیا سے اپنے سفیر واپس بلا لیے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا ، آسٹریلیا اور برطانیہ کے مابین انڈوپیسفک معاہدے سے فرانس اپنے اتحادیوں سے نارض ہوگیا اور بحری آبدوز معاہدے میں دھوکے کا الزام عائد کیا ہے، فرانس نے سفیروں کو آبدوزوں کے معاہدے سے متعلق معاملے پر مشاورت کے لیے طلب کیا ہے۔

جمعے کی شام کو فرانسیسی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں فرانسیسی سفیروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ 15 ستمبر کو امریکا ، آسٹریلیا اور برطانیہ کے مابین انڈوپیسفک معاہدے کے بعد کیا گیا ہے۔


فرانسیسی وزیر خارجہ نے انڈوپیسفک معاہدے کو پیٹھ میں چھرا گونپنے کے مترادف قرار دے دیا، فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کا فرانس کی روایتی آبدوز خریدنے کا معاہدہ توڑنا نا قابل قبول ہے، آسٹریلیا نے فرانس سے آبدوز معاہدہ منسوخ کر کے امریکہ سے ایٹمی آبدوز کی ڈیل کی ہے جس کی مالیت 36 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فرانس کی جانب سے سفیر واپس بلانے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ جین ساکی نے کہا کہ فرانس امریکا کا پرانی اتحادی ہے، معاملے کے حل کے لیے آئندہ دنوں کے دوران فرانس سے رابطے میں رہیں گے۔

واضح رہے کہ 2016 میں فرانس اور آسٹریلیاکے درمیان آبدوزیں فراہم کرنےکا 36.5 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت فرانس نے آسٹریلیا کو آبدوزیں فراہم کرنا تھیں لیکن 25 ستمبر کو طے پانے والے انڈو پیسفک معاہدے کی وجہ سے یہ معاہدہ ختم ہو گیا۔


انڈو پیسفک معاہدے کے تحت امریکا اور برطانیہ ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بنانے میں آسٹریلیا کو مدد فراہم کریں گے۔

تینوں ممالک کے ایشیا پیسیفِک میں تاریخی معاہدے کا مقصد اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہے، اس معاہدے کو ‘آکوس’ کا نام دیا گیا ہے جو دراصل آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے ناموں کے حروف تہجی (اے، یو کے، یو ایس) پر مشتمل ہے۔
 
Advertisement
Sponsored Link