اتحادی حکومت اور سندھ کے درمیان نجکاری کے معاملات پر ٹھن گئی

12sindhwifagqnijkarithan.jpg

وفاق اور صوبوں میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر اختلافات سامنے آگئے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور سندھ حکومت کے مابین اس حوالے سے اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

تفصیلات کے مطابق وفاق اور صوبوں میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر اختلافات سامنے آگئے۔ پیپلزڈیموکریٹک موومنٹ اور سندھ حکومت کے مابین اس حوالے سے اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ بین الاقوامی مالیاتی بینک (آئی ایم ایف) نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جلد نجکاری کا مطالبہ کر رکھا ہے جس پر وفاقی حکومت نے تمام صوبوں کو خط لکھا تھا۔

ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط پر بات چیت کی، خسارے کی شکار پانچ ڈسکوز کی مینجمنٹ پہلے مرحلے میں نجی شعبہ کو دینے کی تجویز سامنے آئی ہے جن میں سکھر، حیدرآباد، کوئٹہ اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی مینجمنٹ نجی شعبہ کو منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اس سے قبل بھی پیسکو اور آئیسکو کے مالی سال 2020-21 میں 394 ارب روپے کے مجموعی نقصانات سامنے آنے پر صوبوں کو نجکاری سے قبل آن بورڈ لینے کی تجویز سامنے آئی تھی۔ وفاقی حکومت اور صوبوں میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا جبکہ کے پی، پنجاب اور بلوچستان سے ڈسکوز کی نجکاری معاملات پر پر بھی کوئی پیشرف نہیں ہوئی۔ اتحادی حکومت کے مطابق نجکاری کا فیصلہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات پر قابو پانے کے لئے کیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جلد نجکاری کا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مطالبہ کر رکھا ہے جس پر وفاق نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے چاروں صوبوں کو خط لکھا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل نجکاری کمیشن نے صوبوں کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی امور چلانے کی پیشکش کی تھی جس پر صوبہ سندھ کے علاوہ کسی صوبے نے بھی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی امور چلانے کی حامی نہیں بھری تھی۔

حکومت نے بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ کیا تھا اور اتحادی حکومت کا کہنا تھا کہ انتظامی امور خریدار کو دینے سے نقصانات میں کمی آئیگی جبکہ نجکاری کے عمل میں رعایتی کنٹریکٹ کی منظوری بھی دی گئی تھی۔
 
Advertisement

tipupk

Minister (2k+ posts)
آخر کھوتے لڑ پیے پھک تے۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ چور چوری کرتے ہوئے کبھی نہیں لڑتے ، لڑائ ہوتی مال کی تقسیم کے وقت۔
 
Sponsored Link