اربوں روپے کے بالواسطہ ٹیکس لگانے کی عمران خان کی چوری پکڑی گئی ، بلاول

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
2189802-bilawal-1623647475-281-640x480.jpg


کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عام آدمی کے استعمال کی ہر شے پر اربوں روپے کا بالواسطہ ٹیکس لگادیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک نیا سونامی آنے والا ہے۔

اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ملازموں نے بجٹ تیار کرکے عمران خان کو دیا جسے کسی بھی غور کے بغیر جوں کا توں پیش کردیا گیا، عوام دشمنی کی بنیاد پر بنائے گئے سلیکٹڈ بجٹ کے ہر صفحے پر عوام کے معاشی قتل عام کی ترکیبیں لکھی ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ وطن سے دور پاکستانی روزگار سے محروم پاکستانیوں کو ملکی برآمد سے زیادہ ترسیلاتِ زر بھیج رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ براہ راست ٹیکس کے بجائے اربوں روپے کے بالواسطہ ٹیکس لگانے کی عمران خان کی چوری پکڑی گئی ہے ، عام آدمی کے استعمال کی ہر شے پر اربوں روپے کا بالواسطہ ٹیکس لگادیا جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک نیا سونامی آنے والا ہے، پیٹرول پر 20 روپے فی لیٹر اور چینی پر 7 روپے فی کلو کا اضافہ بالواسطہ ٹیکس کی وجہ سے ہونے والا ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جب کمپنیاں خام تیل اور ایل این جی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس دیں گی تو پیٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ عوام بھگتیں گے، کورونا وائرس سے بچنے کیلئے عوام نے آن لائن خریداری شروع کی تو عمران خان نے اس پر بھی سیلزٹیکس لگادیا، عام آدمی آخر جائے تو کہاں جائے۔


Source
 
Advertisement

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
2189802-bilawal-1623647475-281-640x480.jpg


کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عام آدمی کے استعمال کی ہر شے پر اربوں روپے کا بالواسطہ ٹیکس لگادیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک نیا سونامی آنے والا ہے۔

اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ملازموں نے بجٹ تیار کرکے عمران خان کو دیا جسے کسی بھی غور کے بغیر جوں کا توں پیش کردیا گیا، عوام دشمنی کی بنیاد پر بنائے گئے سلیکٹڈ بجٹ کے ہر صفحے پر عوام کے معاشی قتل عام کی ترکیبیں لکھی ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ وطن سے دور پاکستانی روزگار سے محروم پاکستانیوں کو ملکی برآمد سے زیادہ ترسیلاتِ زر بھیج رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ براہ راست ٹیکس کے بجائے اربوں روپے کے بالواسطہ ٹیکس لگانے کی عمران خان کی چوری پکڑی گئی ہے ، عام آدمی کے استعمال کی ہر شے پر اربوں روپے کا بالواسطہ ٹیکس لگادیا جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک نیا سونامی آنے والا ہے، پیٹرول پر 20 روپے فی لیٹر اور چینی پر 7 روپے فی کلو کا اضافہ بالواسطہ ٹیکس کی وجہ سے ہونے والا ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جب کمپنیاں خام تیل اور ایل این جی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس دیں گی تو پیٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ عوام بھگتیں گے، کورونا وائرس سے بچنے کیلئے عوام نے آن لائن خریداری شروع کی تو عمران خان نے اس پر بھی سیلزٹیکس لگادیا، عام آدمی آخر جائے تو کہاں جائے۔


Source
چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے سندھ کی صورتحال پر برہمی کا اظہار کردیا,شارع فیصل پر نسلہ ٹاور تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ سوائے سندھ کے پورے ملک میں ترقی ہورہی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ شارع فیصل کا سائز کبھی کم نہیں ہوا، شارع کو وسیع کرنے کیلئے تو فوجیوں نے بھی زمین دے دی تھی، سارے رفاعی پلاٹوں پر پلازے بن گئے، سمجھتے ہیں عدالت کو پتا نہیں چلے گا؟ حکومت کہاں ہے ؟ کون ذمہ داری لے گا ؟ جو پیسہ دیتا ہے اس کا کام ہوجاتا ہے کتنا ہی غیر قانونی کام ہو ،

اب بھی دھندا چل رہا ہے ایس بی سی اے کا کام چل رہا ہے، کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے اور شہر کا سسٹم کینیڈا سے چلایا جارہا ہے ، یونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے، وہی چلا رہا ہے سارا سسٹم۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ ایسی ہوتی ہے حکمرانی ؟ آپ کی حکومت ہے یہاں کس کی حکومت ہے ؟ آپ لوگ نالے صاف نہیں کرسکتے، صوبہ کیسے چلائیں گے ؟ دو سال ہوگئے آپ نالہ صاف نہیں کرسکے ، گورننس نام کی چیز نہیں ہے یہاں۔
766564_4812799_Sindh-CM-asks-PM-to-help-end-dispute_akhbar-1.jpg

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے وکیل سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر میں آج بھی لوگ پانی کی بوند کیلئے ترس رہے ہیں، ایک آر او پلانٹ نہیں لگا ، پندرہ سو ملین روپے خرچ ہوگئے ، حکومت کے پاس کیا منصوبہ ہے ؟
چیف جسٹس نے کہا کہ صورت حال بدترین ہورہی ہے، بدقسمتی ہے ہماری ، کوئی لندن سے حکمرانی کرتا ہے کوئی دبئی سے کوئی کینیڈا سے ، ایسا کسی اور صوبے میں نہیں ہے سندھ حکومت کا خاصا ہے یہ ہے ، یہاں ایک اے ایس آئی بھی اتنا طاقتور ہوجاتا ہے پورا سسٹم چلا سکتا ہے ، مسٹر ایڈوکیٹ جنرل اپنی حکومت سے پوچھ کر بتائیں کیا چاہتے ہیں آپ ؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ جائیں اندرون سندھ میں خود دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ سب نظر آجائے گا ، پتا نہیں کہاں سے لوگ چلتے ہوئے آتے ہیں جھنڈے لہراتے ہوئے شہر میں داخل ہوتے کسی کو نظر نہیں آتے ، کم از کم پندرہ بیس تھانوں کی حدود سے گزر کر آئے ہوں گے کسی کو نظر نہیں آیا ، ابھی وہاں رکے ہیں کل یہاں بھی آجائیں گے ، اتنے سالوں سے آپ کی حکومت ہے یہاں کیا ملا شہریوں کو ؟
ایڈوکیٹ جنرل نے درخواست کی کہ کل بجٹ کی تقریر ہے دو دن کی مہلت دے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بجٹ تو ہر سال پیش کرتے ہیں مخصوص لوگوں کیلئے رقم مختص کردیتے ہیں بس، بجٹ تو بچھلے سال بھی آیا تھا لوگوں کو کیا ملا ۔
جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ آپ لوگوں نے سروس روڈ پر بلڈنگ تعمیر کردی؟بلڈر کے وکیل نے کہا کہ پل کی تعمیر کی وقت سڑک کا سائز کم کیا گیا تھا عدالت نے نسلہ ٹاور کے وکلا سے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 16 جون تک ملتوی کردی۔
 

Iconoclast

Chief Minister (5k+ posts)
All candle worshiping jiyalas, time to start bashing the CJ, And when some of you meet the same fate as your hero did a few days ago, you can then take those candles out of your assholes and light em in solidarity with your fallen degenerates....
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
The increase in tax collection will be realized after the imports will be relaxed. Pakistan, this year foresees to bear a CAD of 8 billion USD. It is obvious that when the imports will increase, it will bring in tax revenue in the form of Custom duties and taxes.

Plus the market is seeing growth ahead of it. If you are predicting a 4% increase in GDP, then keeping your tax collection target frozen will be utterly incomprehensible.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے سندھ کی صورتحال پر برہمی کا اظہار کردیا,شارع فیصل پر نسلہ ٹاور تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ سوائے سندھ کے پورے ملک میں ترقی ہورہی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ شارع فیصل کا سائز کبھی کم نہیں ہوا، شارع کو وسیع کرنے کیلئے تو فوجیوں نے بھی زمین دے دی تھی، سارے رفاعی پلاٹوں پر پلازے بن گئے، سمجھتے ہیں عدالت کو پتا نہیں چلے گا؟ حکومت کہاں ہے ؟ کون ذمہ داری لے گا ؟ جو پیسہ دیتا ہے اس کا کام ہوجاتا ہے کتنا ہی غیر قانونی کام ہو ،

اب بھی دھندا چل رہا ہے ایس بی سی اے کا کام چل رہا ہے، کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے اور شہر کا سسٹم کینیڈا سے چلایا جارہا ہے ، یونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے، وہی چلا رہا ہے سارا سسٹم۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ ایسی ہوتی ہے حکمرانی ؟ آپ کی حکومت ہے یہاں کس کی حکومت ہے ؟ آپ لوگ نالے صاف نہیں کرسکتے، صوبہ کیسے چلائیں گے ؟ دو سال ہوگئے آپ نالہ صاف نہیں کرسکے ، گورننس نام کی چیز نہیں ہے یہاں۔
766564_4812799_Sindh-CM-asks-PM-to-help-end-dispute_akhbar-1.jpg

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے وکیل سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر میں آج بھی لوگ پانی کی بوند کیلئے ترس رہے ہیں، ایک آر او پلانٹ نہیں لگا ، پندرہ سو ملین روپے خرچ ہوگئے ، حکومت کے پاس کیا منصوبہ ہے ؟
چیف جسٹس نے کہا کہ صورت حال بدترین ہورہی ہے، بدقسمتی ہے ہماری ، کوئی لندن سے حکمرانی کرتا ہے کوئی دبئی سے کوئی کینیڈا سے ، ایسا کسی اور صوبے میں نہیں ہے سندھ حکومت کا خاصا ہے یہ ہے ، یہاں ایک اے ایس آئی بھی اتنا طاقتور ہوجاتا ہے پورا سسٹم چلا سکتا ہے ، مسٹر ایڈوکیٹ جنرل اپنی حکومت سے پوچھ کر بتائیں کیا چاہتے ہیں آپ ؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ جائیں اندرون سندھ میں خود دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ سب نظر آجائے گا ، پتا نہیں کہاں سے لوگ چلتے ہوئے آتے ہیں جھنڈے لہراتے ہوئے شہر میں داخل ہوتے کسی کو نظر نہیں آتے ، کم از کم پندرہ بیس تھانوں کی حدود سے گزر کر آئے ہوں گے کسی کو نظر نہیں آیا ، ابھی وہاں رکے ہیں کل یہاں بھی آجائیں گے ، اتنے سالوں سے آپ کی حکومت ہے یہاں کیا ملا شہریوں کو ؟
ایڈوکیٹ جنرل نے درخواست کی کہ کل بجٹ کی تقریر ہے دو دن کی مہلت دے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بجٹ تو ہر سال پیش کرتے ہیں مخصوص لوگوں کیلئے رقم مختص کردیتے ہیں بس، بجٹ تو بچھلے سال بھی آیا تھا لوگوں کو کیا ملا ۔
جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ آپ لوگوں نے سروس روڈ پر بلڈنگ تعمیر کردی؟بلڈر کے وکیل نے کہا کہ پل کی تعمیر کی وقت سڑک کا سائز کم کیا گیا تھا عدالت نے نسلہ ٹاور کے وکلا سے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 16 جون تک ملتوی کردی۔
پہلے سپریم کورٹ خود بھی تو بتائے کہ محکمہ جنگلات کی زمین کس نے صرف جرمانہ کرکے ملک ریاض پر حلال کردی تھی؟ اور کیوں اعلیٰ عدلیہ نے ان لوگوں کو نہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جو اس بائیس ہزار اایکڑ زمین کے خرد برد میں شامل تھے؟ صرف دس ارب کا جرمانہ کرکے جو کہ دس سال میں قابلِ ادا ہے، سپریم کورٹ نے بھی جو انصاف کے معیار مقرّر کیئے ہیں ان کی بھی مثال کہیں نہیں ملتی۔

یہ سب خود سے ایسے نظام کو سرپرستی کی چھاوٗں مہیّا کرتے رہے ہیں۔ اس کے بعد کراچی کی کچی بستیوں میں جو غریبوں کا استحصال ملک ریاض کے لوگوں نے کیا، اسکی ذمّہ دار براہ راست اعلیٰ عدلیہ ہے، جس نے سمومے پر دو روپے بڑھ جانے کا سو موٹو نوٹس لیا، لیکن اقوامِ متحدّہ کے فورم تک پر پہنچنے والی کراچی کے مظلوموں کے آواز پر کان بند رکھے۔
 
Last edited:

Sonya Khan

Minister (2k+ posts)
The only way to stop Bilawal from levelling all kinds of allegations and getting away with it is to throughly and repeatedly scrutinise Sindh’s progress on national TV ......
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
پہلے سپریم کورٹ خود بھی تو بتائے کہ محکمہ جنگلات کی زمین کس نے صرف جرمانہ کرکے ملک ریاض پر حلال کردی تھی؟ اور کیوں اعلیٰ عدلیہ نے ان لوگوں کو نہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جو اس بائیس ہزار ایکذ زمین کے خرد برد میں شامل تھے؟ صرف دس ارب کا جرمانہ کرکے جو کہ دس سال میں قابلِ ادا ہے، سپریم کورٹ نے بھی کو انصاف کے معیار مقرّر کیئے ہیں ان کی بھی مثال کہیں نہیں ملتی۔

یہ سب خود سے ایسے نظام کو سرپرستی کی چھاوٗں مہیّا کرتے رہے ہیں۔ اس کے بعد کراچی کی کچی بستیوں میں جو غریبوں کا استحصال ملک ریاض کے لوگوں نے کیا، اسکی ذمّہ دار براہ راست اعلیٰ عدلیہ ہے، جس نے سمومے پر دو روپے بڑھ جانے کا سو موٹو نوٹس لیا، لیکن اقوامِ متحدّہ کے فورم تک پر پہنچنے والی کراچی کے مظلوموں کے آواز پر کان بند رکھے۔
The problem is this :


لاہورہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست گزار غلام یاسین بھٹی کی ججز تقرری کے لیے سی ایس ایس کا طریقہ کار اختیار کرنے کی اپیل خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ امتحانات اور انٹرویو کے ذریعے ججز کی تقرری آرٹیکل 175 اے کی روشنی میں عجوبہ ہے۔ آرٹیکل 175 اے کے علاوہ ججز کی تقرری کا کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا آئین کے مینڈیٹ میں مداخلت ہوگا۔

عدالت نے جاری کردہ فیصلے میں یہ بھی کہا کہ قانون سازوں نے تقرریاں شفاف بنانے کے لیے یہ آرٹیکل 18ویں ترمیم کے ذریعے شامل کیا، لہٰذا عدالت ججز تقرری کے لیے سی ایس ایس کا طریقہ کار اختیار کرنے کی یہ اپیل خارج کرتی ہے۔

یاد رہے کہ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ہائیکورٹ میں وکالت کا 10 سالہ تجربہ رکھنے والا ہر وکیل جج بننے کا اہل ہے۔

درخواست گزار وکیل نے یہ بھی کہا کہ امیدواروں کی درخواستیں طلب کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہونا چاہئے اور اس کے لیے سی ایس ایس کی طرز کا امتحان لیا جانا چاہیے۔
 

shafiqueimran

Senator (1k+ posts)
لعنت ان جنرلوں پر جو ان جیسے گھٹیا اور دو نمبر چوتیوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں اور ڈیلیں دیتے ہیں۔ کیا یہ معیار ہے ان جنرلوں کا کہ ان گھٹیا لوگوں کو منہ لگائیں اور ڈیلیں دیں؟؟ لعنت ہے
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
The problem is this :


لاہورہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست گزار غلام یاسین بھٹی کی ججز تقرری کے لیے سی ایس ایس کا طریقہ کار اختیار کرنے کی اپیل خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ امتحانات اور انٹرویو کے ذریعے ججز کی تقرری آرٹیکل 175 اے کی روشنی میں عجوبہ ہے۔ آرٹیکل 175 اے کے علاوہ ججز کی تقرری کا کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا آئین کے مینڈیٹ میں مداخلت ہوگا۔

عدالت نے جاری کردہ فیصلے میں یہ بھی کہا کہ قانون سازوں نے تقرریاں شفاف بنانے کے لیے یہ آرٹیکل 18ویں ترمیم کے ذریعے شامل کیا، لہٰذا عدالت ججز تقرری کے لیے سی ایس ایس کا طریقہ کار اختیار کرنے کی یہ اپیل خارج کرتی ہے۔

یاد رہے کہ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ہائیکورٹ میں وکالت کا 10 سالہ تجربہ رکھنے والا ہر وکیل جج بننے کا اہل ہے۔

درخواست گزار وکیل نے یہ بھی کہا کہ امیدواروں کی درخواستیں طلب کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہونا چاہئے اور اس کے لیے سی ایس ایس کی طرز کا امتحان لیا جانا چاہیے۔
جناب، آپ سی ایس ایس کا طریقہ کار رائج کرلیں، ہوگا وہی جو جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے کے ساتھ سی ایس ایس میں ہوا تھا، یعنی انگریزی کے پیپر میں فیل ہونے کے باوجود سی ایس پی افسر بھرتی۔

اس نظام کو سمجھیئے، اسکے ہر ستون نے ایک دوسرے کو سہارا دیا ہوا ہے۔
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں