اسپیشل پراسیکیوٹر نے شہبازگل کے سیٹیلائٹ فون پر سوال اٹھادیئے

shehb11121.jpg


اسلام آباد کی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی سپرداری سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس کو شہباز گل کی ذاتی اشیاء واپس کرنے کا حکم دیدیا ہے، تاہم اسپیشل پراسیکیوٹر نے شہباز گل کے زیر استعمال سیٹیلائٹ فون پر سوال اٹھادیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں شہباز گل کی جانب سےسپرداری سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، اس موقع پر شہباز گل کی جانب سے علی بخاری ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کے سامنے پیش ہوئے۔

عدالت نے شہباز گل کی جانب سے 31 اشیاء کی سپرداری سے متعلق درخواست کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ضروری اشیاء شہباز گل کو واپس کرنے کا حکم دیا، جن میں اے ٹی ایم کارڈ، عینک، شناختی کارڈ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں،عدالت نے ساتھ ہی اسلام آباد پولیس کو متازع اشیاء کو تفتیش کیلئے رکھنے کا اختیار بھی دیدیا۔

دوسری جانب اسپیشل پراسیکیوٹر نے شہباز گل کے زیر استعمال سیٹیلائٹ فون پراہم سوالات اٹھادیئے ہیں، اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نےشہباز گل کے زیر استعمال "تھورایا فون" پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ فون کیوں اور کس مقصد کیلئےخریدا؟ شہباز گل یہ فون کس کی اجازت سے استعمال کررہے تھے۔

رضوان عباسی نے سوال اٹھایا کہ شہباز گل عام موبائل فون ہونے کےباوجود ایسا فون کن مقاصد کیلئے استعمال کررہے تھے، اس فون سے غیر ملکی اور غیر قانونی رابطے بھی ہوسکتے ہیں، ہم نے یہ فون فرانزک کیلئے لیبارٹری بھجوادیا ہے۔

 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)
What a shameful attitude of this special prosecutor and of course of the judge.
The judge should have applied his common sense and should have reprimanded this special prosecutor that the phone was in their custody for the last 3 months therefore, why forensic examination wasn't done during that time???
SIC.
 
Last edited:

Qudsi

Minister (2k+ posts)
What a shameful attitude of this special prosecutor and of course of the judge.
The judge should have applied his common sense and should have reprimanded this special prosecutor that the phone was in their custody for the last 3 months therefore, why forensic examination wasn't done during that time???
SIC.
Payeen tusi ajao idr tusi lar lwo case. 🤣
 

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
What a shameful attitude of this special prosecutor and of course of the judge.
The judge should have applied his common sense and should have reprimanded this special prosecutor that the phone was in their custody for the last 3 months therefore, why forensic examination wasn't done during that time???
SIC.
کامن سنس ہوتی تو جج ہوتا ؟ جج اور جرنیل کے لئے کامن سنس سے عاری ہونا شرط ہے
 
Sponsored Link