اغوا: ایک سفیر کا، ایک سفیر کی بیٹی کا

atensari

President (40k+ posts)
ملا عبدالسلام ضعیف اپنی کتاب ’مائی لائف ود دا طالبان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میں 20 نومبر 2001 کو (قندھار سے) اسلام آباد واپس آیا تو مجھے پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک باقاعدہ خط دیا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’وہ امارات اسلامیہ افغانستان کو اب تسلیم نہیں کرتے ہیں‘‘ مگر اس کے سفیر، یعنی مجھے ’’پاکستان میں رہنے کی اجازت ہے جب تک کہ افغانستان میں ایمرجنسی کی صورت حال ختم نہیں ہو جاتی ہے‘‘۔ ۔ ۔ ۔ یہ نئے سال کا دوسرا دن تھا۔ پاکستان نے ابھی 2002 کی آمد کا جشن منایا تھا اور میں گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھا۔ اچانک میرا محافظ نمودار ہوا اور اس نے مجھے بتایا کہ پاکستانی افسران دروازے پر موجود ہیں اور مجھے ملنے کے خواہاں ہیں۔ یہ رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا جو کہ میرے گھر پر میٹنگ کے لئے ایک غیر معمولی وقت تھا۔ میں چھوٹے مہمان خانے کی طرف گیا۔ کمرے میں تین افراد موجود تھے۔ انہوں نے خود کو متعارف کروایا۔ ایک گلزار نامی پشتون تھا جبکہ دوسرے دو اردو بول رہے تھے۔ اس (گلزار) نے کہا ’’عزت مآب، اب آپ عزت مآب نہیں رہے۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے، کیا آپ کو اس کا علم تھا؟ اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ہے، نہ ہی اس سے مذاکرات کر سکتا ہے۔ امریکہ آپ سے سوالات پوچھنا چاہتا ہے اور ہم آپ کو اسے کے حوالے کرنے آئے ہیں‘‘۔ ‘
 
Advertisement

atensari

President (40k+ posts)
سفیر کی بیٹی اغوا ہوئی، نہیں ہوئی لیکن سفیر اغوا ہوا تھا. سفیر کی بیٹی کے اغوا پر واویلا مچانے والوں کا سفیر کا اغوا ٹھنڈے پیٹوں قبول کرنا ان کے انسانی حقوق کے دوغلے طرز عمل طرح ان کے دوغلے سفارتی حقوق کا بھانڈا بھی پھوڑتا ہے
 

Truthstands

Minister (2k+ posts)
بات تو سچ ہے پر ۔۔۔۔

مُلک کو بچانے کے لیے، عوام کی عزت آبرو بچانے کے لیے ستر ہزار سے ذیادہ لوگوں نے قُربانی دی ہے، اگر غداروں پر ملک کو چھوڑ دیا جاتا تو ہمارا حال افغانستان سے بھی برا ہوتا۔
مجھے افسوس ہے، لیکن افراد ہے قُربانی دیتے ہیں۔ ایک کو حوالے کیا اور اسی کے ہاتھوں سے بعد میں پورا مُلک اُنکے حوالے کر دیا ہے۔

سودا برا نہیں ہے
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
یہ تو سچ ہے کہ افغان سفیر کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ انتہائی غیر سفارتی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی تھا۔

زمانہ جاہلیت اور شدید ظالمانہ حکومتوں میں بھی سفیر، سفارت کار اور قاصد ایلچی کو استثنا حاصل رہتا ہے۔ لیکن یہ ذلالت بھی پرویز مشرف کی وجہ سے پاکستان کے حصے میں آئی۔

لیکن اس ذلالت میں امریکہ پاکستان کے ساتھ برابر کا شریک ہے اور جو لوگ امریکہ کو انسانی حقوق کا چیمپیئن سمنجھتا ہے وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے یا امریکہ کے پیسوں کے اس کے کان اور دماغ پر پٹی باندھی ہے۔
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)
ملا عبدالسلام ضعیف اپنی کتاب ’مائی لائف ود دا طالبان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میں 20 نومبر 2001 کو (قندھار سے) اسلام آباد واپس آیا تو مجھے پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک باقاعدہ خط دیا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’وہ امارات اسلامیہ افغانستان کو اب تسلیم نہیں کرتے ہیں‘‘ مگر اس کے سفیر، یعنی مجھے ’’پاکستان میں رہنے کی اجازت ہے جب تک کہ افغانستان میں ایمرجنسی کی صورت حال ختم نہیں ہو جاتی ہے‘‘۔ ۔ ۔ ۔ یہ نئے سال کا دوسرا دن تھا۔ پاکستان نے ابھی 2002 کی آمد کا جشن منایا تھا اور میں گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھا۔ اچانک میرا محافظ نمودار ہوا اور اس نے مجھے بتایا کہ پاکستانی افسران دروازے پر موجود ہیں اور مجھے ملنے کے خواہاں ہیں۔ یہ رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا جو کہ میرے گھر پر میٹنگ کے لئے ایک غیر معمولی وقت تھا۔ میں چھوٹے مہمان خانے کی طرف گیا۔ کمرے میں تین افراد موجود تھے۔ انہوں نے خود کو متعارف کروایا۔ ایک گلزار نامی پشتون تھا جبکہ دوسرے دو اردو بول رہے تھے۔ اس (گلزار) نے کہا ’’عزت مآب، اب آپ عزت مآب نہیں رہے۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے، کیا آپ کو اس کا علم تھا؟ اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ہے، نہ ہی اس سے مذاکرات کر سکتا ہے۔ امریکہ آپ سے سوالات پوچھنا چاہتا ہے اور ہم آپ کو اسے کے حوالے کرنے آئے ہیں‘‘۔ ‘
Keep in mind during that time Sir Musharraf the commando was in power who was very brave according to aneeskhan because he was Urdu speaking. Indeed we can't find such other example from all over the world because we Pakistani are the bravest people and our Army is one of the best army.
 

atensari

President (40k+ posts)
Keep in mind during that time Sir Musharraf the commando was in power who was very brave according to aneeskhan because he was Urdu speaking. Indeed we can't find such other example from all over the world because we Pakistani are the bravest people and our Army is one of the best army.
مشرف اکیلا نہیں تھا، عوام کی کثیر تعداد اس کی ہم خیال تھی. اسے صحافیوں، دانشوروں کی حمایت حاصل تھی. فورم پر موجود اور غائب آئی ڈیز اس کے نام کی تسبیح پڑھتی تھی/ہیں
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)
مشرف اکیلا نہیں تھا، عوام کی کثیر تعداد اس کی ہم خیال تھی. اسے صحافیوں، دانشوروں کی حمایت حاصل تھی. فورم پر موجود اور غائب آئی ڈیز اس کے نام کی تسبیح پڑھتی تھی/ہیں
But Musharraf was brave at that time as well as today.
 

israr0333

Minister (2k+ posts)
Musharaf ne Afghanistan pe hamla karne ke liay US ka sath de kar jo be ghairti ki he os ki Koi misal nahi. Chahay sharfo kitna bara bhi commando tha par ye kaam kar ke os ne apnay aap ko Boby ke muqablay ka bhi nahi chora... I proud of my Army but I hate sharfo and he is the reason behind the hate of namak Haram Afghani..
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں