امریکی ڈیموکریسی سمٹ میں شرکت نہ کرنے فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے، کامران خان

8kamighusa.jpg

سینئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن کامران خان نے حکومت کی جانب سے امریکہ ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج امریکہ کی جانب سے منعقد کی گئی ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ کا پہلا دن تھا جس میں دنیا کے بیشتر ممالک شریک ہوئے تاہم پاکستان نے 2روز قبل امریکہ کی جانب سے شرکت کے دعوت نامے کے باوجود اس ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

سینئر اینکر پرسن کامران خان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خود اپنی خاردار تاروں کے دائرے میں کھڑی ہے۔


کامران خان نے کہا کہ دنیا کی تمام عالمی طاقتیں اپنے اپنے ملکی مفاد کی سفارت کاری پر عمل پیرا ہیں ، اس کی ایک مثال پڑوسی ملک کے وزیراعظم نریندر مودی ہیں جن کے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمر پیوتن سے دوستانہ تعلقات ہیں۔

سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ ہمارے بہترین دوست اس وقت عالمی سطح پر نئے دوست بنانے کیلئے غیر معمولی فیصلے اور طریقے استعمال کررہے ہیں اور اپنے ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے فرسودہ نظریات کو توڑرہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت مہارت اور عقل مند سفارت کاری کی ضرورت ہے جو پاکستان کو دنیا بھر میں سفارتی رسائی دلاسکے اور امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی اس خلیج کو ہی تعلقات میں بہتری کا ذریعہ بناسکے۔

کامران خان نے بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے آپس میں تعلقات کو بہتر بنانے کی خبروں کی چند سرخیاں بھی شیئر کیں جس میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدات، بحرین اور اسرائیل کے تعلقات میں بہتری اور امریکہ ایران تعلقات میں برف پگھلنے سمیت متعدد مثالیں شامل تھیں۔
 
Advertisement

The Sane

Chief Minister (5k+ posts)
8kamighusa.jpg

سینئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن کامران خان نے حکومت کی جانب سے امریکہ ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج امریکہ کی جانب سے منعقد کی گئی ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ کا پہلا دن تھا جس میں دنیا کے بیشتر ممالک شریک ہوئے تاہم پاکستان نے 2روز قبل امریکہ کی جانب سے شرکت کے دعوت نامے کے باوجود اس ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

سینئر اینکر پرسن کامران خان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خود اپنی خاردار تاروں کے دائرے میں کھڑی ہے۔


کامران خان نے کہا کہ دنیا کی تمام عالمی طاقتیں اپنے اپنے ملکی مفاد کی سفارت کاری پر عمل پیرا ہیں ، اس کی ایک مثال پڑوسی ملک کے وزیراعظم نریندر مودی ہیں جن کے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمر پیوتن سے دوستانہ تعلقات ہیں۔

سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ ہمارے بہترین دوست اس وقت عالمی سطح پر نئے دوست بنانے کیلئے غیر معمولی فیصلے اور طریقے استعمال کررہے ہیں اور اپنے ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے فرسودہ نظریات کو توڑرہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت مہارت اور عقل مند سفارت کاری کی ضرورت ہے جو پاکستان کو دنیا بھر میں سفارتی رسائی دلاسکے اور امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی اس خلیج کو ہی تعلقات میں بہتری کا ذریعہ بناسکے۔

کامران خان نے بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے آپس میں تعلقات کو بہتر بنانے کی خبروں کی چند سرخیاں بھی شیئر کیں جس میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدات، بحرین اور اسرائیل کے تعلقات میں بہتری اور امریکہ ایران تعلقات میں برف پگھلنے سمیت متعدد مثالیں شامل تھیں۔
That’s why Khan is a PM and you a loser!
 

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)
الله کا شکر ہے عمران خان کم َاز کم کامران خان سے تو زیادہ فہم و فراست رکھتے ہیں
 

Imjutt

Councller (250+ posts)
8kamighusa.jpg

سینئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن کامران خان نے حکومت کی جانب سے امریکہ ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج امریکہ کی جانب سے منعقد کی گئی ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ کا پہلا دن تھا جس میں دنیا کے بیشتر ممالک شریک ہوئے تاہم پاکستان نے 2روز قبل امریکہ کی جانب سے شرکت کے دعوت نامے کے باوجود اس ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

سینئر اینکر پرسن کامران خان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خود اپنی خاردار تاروں کے دائرے میں کھڑی ہے۔


کامران خان نے کہا کہ دنیا کی تمام عالمی طاقتیں اپنے اپنے ملکی مفاد کی سفارت کاری پر عمل پیرا ہیں ، اس کی ایک مثال پڑوسی ملک کے وزیراعظم نریندر مودی ہیں جن کے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمر پیوتن سے دوستانہ تعلقات ہیں۔

سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ ہمارے بہترین دوست اس وقت عالمی سطح پر نئے دوست بنانے کیلئے غیر معمولی فیصلے اور طریقے استعمال کررہے ہیں اور اپنے ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے فرسودہ نظریات کو توڑرہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت مہارت اور عقل مند سفارت کاری کی ضرورت ہے جو پاکستان کو دنیا بھر میں سفارتی رسائی دلاسکے اور امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی اس خلیج کو ہی تعلقات میں بہتری کا ذریعہ بناسکے۔

کامران خان نے بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے آپس میں تعلقات کو بہتر بنانے کی خبروں کی چند سرخیاں بھی شیئر کیں جس میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدات، بحرین اور اسرائیل کے تعلقات میں بہتری اور امریکہ ایران تعلقات میں برف پگھلنے سمیت متعدد مثالیں شامل تھیں۔
Kamran khan's words has no value...... !
 

Imjutt

Councller (250+ posts)
Just curious what's the benefit of not attending it ?
For first it is not for Democracy but to build a block against China in which Pakistan can't afford to be ; beside US friendship for Pakistan was more disastrous then her enmity with India remember Cold war ! Pakistan still paying prices for "friendship" ...
 
Sponsored Link